پنجاب میں سکولوں کیلئے 4کھرب 24ارب کا بجٹ مختص کرنے کی تجویز

پنجاب میں سکولوں کیلئے 4کھرب 24ارب کا بجٹ مختص کرنے کی تجویز
 پنجاب میں سکولوں کیلئے 4کھرب 24ارب کا بجٹ مختص کرنے کی تجویز

  

لاہور (لیڈی رپورٹر)پنجاب میں سرکاری سکولوں کے لیے نئے مالی سال میں 4 کھرب 24 ارب روپے کا فنڈ مختص کرنے کی تجویز کی گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق نئے سکولوں کی تعمیر کے لیے آئندہ مالی سال میں صرف5 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز کی گئی۔نئے مالی سال میں سرکاری سکولوں میں ڈویلپمنٹ کی مد میں 50 ارب روپے کا فنڈ مختص کرنے کی تجویز ہے۔سیلری سمیت  دیگر امور کے لیے جاری اخراجات کی مد میں 376،ارب روپے کا فنڈ مختص کرنے کی تجویز ہے۔آئندہ نئے مالی سال میں نان سیلری بجٹ کی مد میں 19 ارب روپے کا فنڈ مختص کرنے کی تجویز ہے.دانش سکولوں کے لیے نئے مالی سال کے بجٹ میں 2 ارب روپے کا فنڈ مختص کرنے کی تجویز ہے۔جبکہ پرائیویٹ پارٹنرشپ پر چلنے والی سکولوں کے لیے 5 ارب روپے کا فنڈ مختص کرنے کی تجویز ہے۔اس کے علاوہ پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی مد میں سکول پروگرام کے لیے 21 ارب روپے کا فنڈ مختص کرنے کی تجویز  ہے۔آفٹر نون سکول پروگرام کے لیے نئے مالی سال میں ساڑھے چار ارب روپے سے زائد کا فنڈ مختص کرنے کی تجویز ہے۔ سرکاری سکولوں کی اپ گریڈیشن کے لیے 1 ارب،آئی ٹی لیبز کے لیے 30 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔شیلٹر لیس سکولوں کے لیے 1 ارب،خستہ حال سکول کی عمارتوں کی تعمیر کے لیے 2 ارب 86 کروڑ،لاہور سمیت پنجاب بھر کے سکولوں میں سہولیات کی فراہمی کے لیے 2 ارب 20 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔سرکاری سکولوں میں اضافی کلاس رومز کی تعمیر کے لیے 4 ارب روپے،طالبات کے لیے وظائف اور سائیکل کی فراہمی کے لیے  6 ارب،زیور تعلیم پروگرام کے لیے واجب الادا رقم کی مد میں بھی 4 ارب روپے کا فنڈ مختص کرنے کی تجویز ہے اس کے علاوہ لیو انکیشمینٹ اور وفات پانے والے اساتذہ کے خاندان کی مالی امداد کے لیے بھی 8 ارب روپے کا فنڈ مختص کرنے کی تجویز ہے۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -