عمران خان کی غلطیاں

عمران خان کی غلطیاں
عمران خان کی غلطیاں
سورس: File

  

عمران خان نے 22 سال کی جدوجہد کے بعد 2018 میں جب اقتدار سنبھالا تو عوام کو ان سے بہت سی امیدیں وابستہ ہو گئی۔ وہ روایتی سیاستدان نہیں تھے، ایماندار تھے، ملک کا درد رکھتے تھے اور یوں محسوس ہوتا تھا کہ وہ واقعی ملک کو بحرانوں سے نکال لیں گے۔ ان کے پاس ٹیم بھی ہے، صلاحیت بھی ہے اور نیت بھی ہے۔ لیکن اقتدار میں آنے کے بعد بہت سی باتوں پر عوام کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ خان صاحب کی نیت پر کوئی شک نہیں لیکن اگر تحریک انصاف کے دور حکومت کا تنقیدی مشاہدہ کیا جائے تو خان صاحب سے بہت سی غلطیاں سرزد ہوئیں، ان میں سے بیشتر کا شائد ان کو خود بھی اندازہ ہو گیا ہو۔

عمران خان کی سب سے پہلی اور بڑی غلطی پنجاب میں عثمان بزدار کا انتخاب تھا۔ پنجاب ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے جو کہ 60 فیصد آبادی پر مشتمل ہے۔ ملکی سیاست میں پنجاب کے کردار پر کوئی دو رائے نہیں، خان صاحب نے اس 60 فیصد آبادی کی مینیجمنٹ عثمان بزدار جیسے بندے کے حوالے کر کے اپنی حکومت کے آغاز میں ہی بڑی غلطی کر لی۔ عثمان بزدار کے پاس وژن بالکل نہیں تھا، وہ اتنی بڑی مینیجمنٹ کی اہلیت نہیں رکھتے تھے، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ عثمان بزدار جنہوں نے پورا صوبہ مینیج کرنا تھا خود ہی مختلف ہاتھوں میں مینیج ہونے لگے۔ نقصان پورے صوبے کا ہوا جس کا عمران خان کی سیاست پر بھی اثر پڑا۔

عمران خان کی دوسری بڑی غلطی وزارت خوراک و زراعت کا قلمدان ایک ایسے بندے کو سونپ دینا تھی جس کا زراعت سے تعلق تو دور بلکہ جس کا پیشہ ہی فصلیں کھیت ختم کر کے ہاؤسنگ سوسائیٹیاں بنانا ہے ۔  زراعت کی اہمیت سے کوئی باشعور پاکستانی اختلاف نہیں کر سکتا۔ ہماری معیشت کا دارومدار زراعت پر ہے اور ہمیں اس شعبے میں ایمرجنسی کی ضرورت تھی۔ پنجاب میں یہ قلم دان علیم خان کو دیا گیا جن کا زراعت میں کوئی تجربہ نہیں تھا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان جو ایک زرعی ملک ہے، جس کی مٹی دنیا بھر میں زرخیز ترین ہے، جس کا نہری نظام دنیا بھر میں بہترین ہے، وہ پاکستان آج اپنی ضرورت کے مطابق گندم ہی پیدا نہیں کر پا رہا۔ یہی وزارت زراعت اگر کسی اہل اور قابل شخص کے پاس ہوتی تو آج پاکستان گندم، چاول سمیت مختلف اجناس دنیا کو برآمد کر رہا ہوتا۔

عمران خان کی تیسری بڑی غلطی معاشی ٹیم تھی۔ پاکستان کی معیشت کو درست کرنے کے لئے صرف ماہر معیشت ہی کافی نہیں ہے۔ آپ دنیا کا بہترین ماہر معیشت بھی لا کر بٹھا دیں تو بھی پاکستان کی معیشت کو درست نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لئے پاکستان کے dynamics سے واقفیت ہونا لازم ہے۔ یہاں زراعت، صنعت، توانائی کے شعبوں میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی ضرورت تھی۔ ملک کی مجموعی پیداوار کو بڑھانے کی ضرورت تھی۔ ملک کی پیداواری اجناس کو عالمی منڈی میں مارکیٹ کرنے کی ضرورت تھی۔ مثال کے طور پر پاکستان کا باسمتی چاول اور ہمالین پِنک سالٹ دنیا بھر میں “میڈ اِن انڈیا” کے ٹیگ کے ساتھ بکتا ہے۔ ایسی اور بھی بہت سی  اشیاء ہیں جن کو بہتر انداز میں مارکیٹ کیا جا سکتا تھا، لیکن معاشی ٹیمیں صرف “پنکچر” لگانے میں مصروف رہیں۔

عمران کی چوتھی بڑی غلطی اپنی پوری ٹیم کے غلط انتخاب میں تھی۔ مثال کے طور پر شہباز گل صاحب پی ایچ ڈی تھے، امریکہ میں پڑھاتے تھے، آپ نے ان کو اٹھا کر ترجمان بنا دیا۔ آپ ان کا بہترین استعمال کرتے، ان کو تعلیم کے شعبے میں رکھتے، اپنا وژن بتاتے ان سے نتائج مانگتے شائد وہ وہاں پرفارم بھی کر جاتے۔ ایک ماہر تعلیم کو اس کی صلاحیتوں کے مطابق استعمال کرنے کی بجائے آپ نے ترجمانی کا کام تھما دیا۔  

عمران خان کی پانچویں بڑی غلطی نوجوانوں کو مواقع نہ دینا تھا۔ نوجوان تو تحریک انصاف کا “ٹریڈ مارک” تھے، لیکن اقتدار میں آنے کے بعد وہ کہیں نظر نہیں آئے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ تجربہ بڑی اہمیت کا حامل ہوتا ہے اور تجربے کا کوئی شارٹ کٹ نہیں ہوتا۔ لیکن نوجوان نسل دنیا بھر میں بدلتے حالات کے پیشِ نظر اہمیت اختیار کر رہی ہے۔ نوجوانوں میں بھی بڑے قابل دماغ موجود ہیں۔ آپ تجربہ کار لوگوں کے ساتھ قابل نوجوانوں کا کمبینیشن بنا سکتے تھے لیکن آپ ایسا نہیں کر پائے۔

اس کے علاوہ بھی عمران خان صاحب کی اور غلطیاں ہیں جس کو شائد وہ اچھی طرح سے سمجھ چکے ہیں۔ ان کے جانے کے بعد سے جس طرح سے عوام نے ان کا ساتھ دیا ہے یہ ان کی خوش قسمتی ہے۔ پاکستان کی سیاست میں کچھ بھی حتمی نہیں ہوتا۔ اگر قدرت عمران خان پر مہربان ہوئی اور وہ دوبارہ اقتدار میں آتے ہیں تو  اپنی پرانی غلطیوں کو دہرانے کی بجائے ان کو مواقع میں تبدی کریں ۔

نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں

مزید :

بلاگ -