باجی راﺅ جان کے خوف سے بھاگ کر بمبئی پہنچا اور لارڈ ولزلی کو لکھا کہ انگریز مجھے پونا کی گدی پر بٹھا دیں تو شرطیں منظور کر لوں گا

 باجی راﺅ جان کے خوف سے بھاگ کر بمبئی پہنچا اور لارڈ ولزلی کو لکھا کہ انگریز ...
 باجی راﺅ جان کے خوف سے بھاگ کر بمبئی پہنچا اور لارڈ ولزلی کو لکھا کہ انگریز مجھے پونا کی گدی پر بٹھا دیں تو شرطیں منظور کر لوں گا

  

مصنف : ای مارسڈن 

 مارکوئس ولزلی (تتمہ)

 اب صرف مرہٹے ہی باقی تھے جو انگریزوں کے قابو میں نہ آئے تھے اور ولزلی کے نئے سلسلے میں بھی شامل نہ ہوئے تھے۔ آخری جنگِ میسور کے اختتام پر لارڈ ولزلی نے رگھوبا کے بیٹے باجی راﺅ پیشوا کو لکھا کہ اگر تم وہ شرطیں منظور کر لو جو نظام نے بھی منظور کر لی ہیں یعنی فرانسیسی سپاہیوں کو نکال دو اور انکی جگہ اپنی مدد کے لیے انگریزی فوج رکھ لو تو میسور کے مفتوحہ علاقہ کا تہائی حصہ تم کو دےدوں گا مگر پیشوا نے اپنے بڈھے برہمن وزیر نانافرنویس کے کہنے میں آ کر ان شرطوں کو منظور نہ کیا۔ دوسرے سال یعنی 1800ءمیں نانافرنویس کا انتقال ہوا۔ نوعمر پیشوا نے ہلکر سے لڑائی شروع کر دی جس نے پونا لے لیا اور ایک نیا پیشوا مقرر کیا۔

 باجی راﺅ جان کے خوف سے بھاگ کر بمبئی پہنچا اور لارڈ ولزلی کو لکھا کہ اگر انگریز مجھے پونا کی گدی پر بٹھا دیں تو میں خوشی سے ان کی شرطیں منظور کر لوں گا۔ 1802ءمیں بسین کے قلعے میں جو بمبئی سے 20 میل شمال کو واقع ہے عہد نامہ پر دستخط کیے اور اقرار کیا کہ اب بحیثیت پیشوا مرہٹہ سرداروں کا سرگروہ اور سرکردہ نہ بنوں گا۔ انگریزوں کی مرضی کے بغیر دیگر مرہٹہ سرداروں سے کوئی سروکار نہ رکھوں گا اور اپنے ملک کی حفاظت کے لیے انگریز فوج رکھوں گا۔ اس فوج کے خرچ کے عوض اس نے کچھ ضلعے کمپنی کے حوالے کیے جو اب احاطہ بمبئی میں شامل ہیں۔

 اسی زمانے میں گجرات کے فرمانروا گائکواڑ نے پیشوا کی تقلید سے انگریزوں کے ساتھ ایک عہد نامہ کیا جس کی رو سے اس نے انگریزوں کو ہند کا شہنشاہ تسلیم کیا اور اپنی مدد کے لیے ملک میں انگریز فوج رکھنی منظور کر لی اور اس فوج کا خرچ ادا کرنے کا وعدہ کیا۔ دولت راﺅ سندھیا اور راگھوجی بھونسلا نے عہدوپیمان کرنے سے انکار کیا۔ وہ بسین کے عہد نامے کا حال سن کر سخت ناراض ہوئے اور کوشش کی کہ ہلکر ٹوٹ کر ان کے ساتھ آ ملے اور انگریزوں کیخلاف لڑے۔ انہوں نے اپنی فوجیں آراستہ کیں اور لڑائی کی تیاری کر دی۔

برٹش انڈیا ولزلی کے عہد میں1799 ئ

 لارڈ ولزلی نے بھی یہ حال سنا وہ بھی جنگ کے لیے تیار ہو گیا۔ جرنیل لیک ایک فوج لے کر سندھیا کی سپاہ کے مقابلہ کو شمالی ہند میں پہنچا۔ کرنیل ولزلی اور کرنیل اسٹیونسن ایک اور فوج کے ساتھ جنوب سے آئے۔ 1803ءمیں اسالی کے مقام پر جو نظام کی قلمرو میں واقع ہے سندھیا اور راگھوجی بھونسلا کے لشکر سے کرنیل ولزلی کا مقابلہ ہوا۔ اس کے پاس پانچ ہزار سے کم سپاہی تھے۔ مرہٹوں کی پچاس ہزار کی جمعیت تھی پھر بھی کرنیل ولزلی کی فتح ہوئی۔ اسی سال ارگاﺅں کے مقام پر کرنیل ولزلی نے مرہٹوں کو پھر شکست دی۔

 اسی اثناءمیں شمالی ہند میں لاسو اڑی کے مقام پر سندھیا کی فرانسیسی سپاہ سے جرنیل لیک کا سامنا ہوا جس نے فرانسیسیوں کو بھگا دیا اور دہلی و آگرہ جو مدت سے مرہٹوں کے قبضہ میں چلے آتے تھے لے لیے۔ دہلی میں اس نے بیکس، بوڑھے مغل بادشاہ شاہ عالم کو دیکھا کہ اندھا ہے اور قید میں پڑا ہے۔ انگریزوں نے اسے قید سے نکالا۔ ایک معقول وظیفہ مقرر کر کے اجازت دے دی کہ باقی عمر امن سے قدیم شاہی محل میں بسر کرے۔(جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -