کوۓ قاتل سے بھی نکلا ہوں میں بے خوف و خطر ۔۔۔ اب سوۓ دار بھی بے خوف و خطر جاؤں گا 

کوۓ قاتل سے بھی نکلا ہوں میں بے خوف و خطر ۔۔۔ اب سوۓ دار بھی بے خوف و خطر جاؤں ...
کوۓ قاتل سے بھی نکلا ہوں میں بے خوف و خطر ۔۔۔ اب سوۓ دار بھی بے خوف و خطر جاؤں گا 

  

سنگِ خارا ہوں  چٹانوں میں ابھر  جاؤں گا 
تودۂ خاک نہیں ہوں کہ بکھر جاؤں گا

محفلِ ناز میں اب بارِ دگر جاؤں گا
چارہ گر لاکھ مجھے روکے، مگر جاؤں گا

"عشرتِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا"
مثلِ دریا میں سمندر میں اُتر جاؤں گا

تہمتِ وعدہ خلافی تو نہیں ہے جائز 
اُس کو خدشہ ہے میں وعدے سے مکر جاؤں گا

کوۓ قاتل سے بھی نکلا ہوں میں بے خوف و خطر 
اب سوۓ دار بھی بے خوف و خطر جاؤں گا 

لوگ مرتے ہیں تو سب سوۓ عدم جاتے ہیں 
میں تری بزم سے نکلا تو کدھر جاؤں گا 

جعفری بگڑا مقّدر بھی سنور جاتا ہے 
زُلفِ جاناں کی طرح میں بھی سنور جاؤں گا 
کلام :مقصود جعفری (اسلام آباد)

مزید :

شاعری -