ای او بی آئی کی پنشن مزدور کی تنخواہ کے برابر کریں 

  ای او بی آئی کی پنشن مزدور کی تنخواہ کے برابر کریں 
  ای او بی آئی کی پنشن مزدور کی تنخواہ کے برابر کریں 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 جوں جوں بجٹ کی تاریخ قریب آ رہی ہے، ویسے ویسے پاکستانی بابوں کا دباؤ بھی بڑھ رہا ہے۔ میری مجبوری یہ ہوتی  ہے کہ ارادے باندھتا ہوں توڑ دیتا ہوں، والا مسئلہ ہو جاتا کہ لکھنے بیٹھتا تو کوئی دوسرا مسئلہ سامنے آ جاتا جیسے پاکستان کرکٹ ٹیم کے پہلے ہی میچ میں بُری شکست اور وہ بھی ایک ایسی ٹیم سے جو بالکل نوزائیدہ اور پہلی  بار کھیل رہی ہے۔ ہار کا صدمہ یا افسوس تو ہوتا ہے لیکن اصل دکھ یہ ہے کہ اگلا ہی مقابلہ ازلی حریف بھارت سے ہے جو ٹیم بہت ہی متوازن اور آج کل فارم میں بھی نظر آ رہی ہے۔ اس لئے خدشہ یہ لاحق ہو گیا کہ دعوؤں کے باوجود آج نیویارک میں ہونے والا میچ شاید جیتا نہ جا سکے۔ دعائیں تو اب بھی ٹیم کے لئے ہیں تو قارئین! میچ کے باعث بابوں کا شکوہ برداشت کرنا پڑا لیکن اب مزید تاخیر ممکن نہیں کہ پھر فائدہ نہیں ہوگا۔

یہ سب بابے جو مجموعی طور پر ملک بھر میں چار پانچ لاکھ ہوں گے،شکوہ کناں ہیں کہ ان کو ان کی اپنی ہی کمائی کی کٹوتی سے گزارہ لائق پنشن نہیں دی جاتی۔ اس پر قومی خزانے سے ایک روپیہ بھی خرچ نہیں ہوتا، الٹا اربوں روپے جمع پونجی سے خوردبرد ہو جاتے اور کسی کو پوچھا بھی نہیں جاتا، مبینہ طور پر چار سے پانچ ارب روپے کی خورد برد کے ملزم ایک سابق چیئرمین رقم ڈکار کے آزاد پھر رہے ہیں ان کی ضمانت سپریم کورٹ سے ہوئی اور وہ باہر آئے ورنہ جوڈیشل ریمانڈ پر تھے اب کسی کو علم نہیں کہ ان کے خلاف کیس کی صورت کیا ہے، اس پر بھی شکوہ کہ نیب بنایا ہی گیا، سیاست دانوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں کے لئے، اگرچہ ای او بی آئی سے غبن میں ملوث تمام حضرات کا تعلق بھی سیاسی گھرانوں ہی سے ہے۔ ہمارے ملک کے ایک فاضل جج صاحب کے یہ ریمارکس سوفیصد درست ہیں کہ کسی کو پکڑ کر یہ سوال کرنا کہ وہ ثابت کرے کہ اس کے اثاثے کن ذرائع سے بنے، اس کا جواب تو اصل اور حقیقی ذرائع والے بھی نہ دے سکیں گے، لیکن بات صرف ان حضرات کی نہیں، مسئلہ ان سے ہے جو لوٹ مار کرکے ارب پتی بن جاتے اور پھر رئیس ابن رئیس کہلاتے ہیں۔

میں نے بات تو بابوں کی کرنا تھی لیکن اس حقیقت کا ذکر بھی لازم تھا، ای او بی آئی (ایمپلائز اولڈ ایج بینی فٹ انسٹی ٹیوٹ) ایک ایسا ادارہ ہے جو مزدوروں کے خون پسینے کی کمائی سے کھا پی رہا اور پھر غبن بھی کرتا ہے، جبکہ خون پسینے کی کمائی سے کٹوتی کرانے والوں کی یہ آس توڑ دی جاتی ہے کہ ان کی پس انداز رقم ان کے بڑھاپے میں کام آئے گی۔ یہ ادارہ ذوالفقار علی بھٹو شہید نے ان محنت کشوں کے لئے بنایا جو ملازمت سے ریٹائر ہو کر سینئر سٹیزن ہوجاتے ہیں، طے یہ کیا گیا کہ نجی اور سرکاری ادارے جن کے ملازمین کی حد متعین کی گئی، رجسٹر ہوں گے، ان اداروں کا ہر ملازم ماہانہ مختص شرح سے اپنے معاوضے میں سے رقم کٹوائے گا۔ آجر اپنی طرف سے مقررہ رقم شامل کرے گا اور یہ رقوم ای او بی آئی کے اکاؤنٹ میں جمع ہوں گی اس میں سرکار کو بھی ایک مقررہ شرح سے حصہ دینا ہوتا ہے۔ یوں تین اطراف سے رقوم انسٹی ٹیوٹ کے پاس جمع ہوں گی جو ایک امانت دار ادارہ ہوگا جب رجسٹرڈ ادارے کا ملازم اپنی مدت ملازمت پوری کرکے ریٹائر ہوگا تو اسے ماہانہ خرچ پنشن کے نام پر دیا جائے گا تاکہ وہ کسی کا محتاج نہ رہے، اس طرح اس ادارے کے خزانے میں لاکھوں سے کروڑوں اور کروڑوں سے اربوں روپے جمع ہوں گئے اور ہوتے چلے جا رہے ہیں لیکن ریٹائرڈ محنت کشوں کو اس کا فائدہ نہیں پہنچنے دیا جاتا، پنشن کی رقم ایک ہزار سے شروع ہوئی پھر ڈیڑھ ہزار روپے ماہانہ کی گئی اور اب بصد مشکل دس ہزار روپے ماہانہ ہے اور اضافے کے لئے وفاقی وزارت خزانے کی اجازت درکار ہوتی ہے حالانکہ اصولی طور پر یہ ایک خود کار نظام ہونا چاہیے۔

اب ذرا ای او بی آئی کی لوٹ مار کا بھی ذکرہو جائے، نیک نیتی سے بابوں کے لئے بنائے گئے اس ادارے پر سیاستدانوں اور بیورو کریسی کی لالچی نگاہیں یکساں طور پر مرکوز ہوئیں۔ پہلا کام تو یہ ہوا کہ اس ادارے پر پسندیدہ افسروں اور ملازموں کا بوجھ لاد  دیا گیا۔ بورڈ آف ڈائریکٹرز بنا کر متعدد ڈائریکٹر اور ان پر چیئرمین بنایا گیا۔ ان حضرات کی تنخواہیں اور مراعات لاکھوں میں ہیں، پھر مزید ظلم یہ کہ مختلف شعبے بنا کر ان کے جنرل منیجرز، منیجرز اور دیگر افسر بھرتی کئے گئے، پھر انسٹی ٹیوٹ کے ضلعی دفتر بنا کر ڈائریکٹر جنرل اور ریجنل ڈائریکٹر بنائے گئے اور دفتری عملہ بھرتی کیا گیا، ان کا کام صرف یہ ہے کہ یہ حضرات رجسٹرڈ اداروں سے مقررہ حصے کا حساب رکھیں اور جو کارکن ریٹائر ہو اس کی تصدیق کرکے پنشن کا حق دار بنائے۔ اس سلسلے میں کلرک بادشاہوں کی شکایات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ یوں ایک مثبت اور نیک کام کے لئے بنائے گئے ادارے کو باقاعدہ لوٹ مار کا ذریعہ بنا لیا گیا۔ یہ سلسلہ جاری ہے اربوں کے غبن اور مراعات انہی رقوم سے ہوتی ہیں جو قانوناً رقوم جمع کراتے ہیں لیکن ای او بی آئی کے پنشنر ہر بجٹ کے موقع پر آس لگاتے ہیں کہ ادارہ بنانے کے حقیقی مقصد کے مطابق ان کو بڑھاپا گزارنے کے لے گزارہ الاؤنس مل جائے گا لیکن یہ آرزو پوری نہیں ہوتی، مہنگائی کئی سو گنا بڑھ گئی، پنشن کی شرح دس ہزار روپے ماہانہ ہے، بابوں کا یہ مطالبہ حقیقی اور جائز ہے کہ ان کو بڑھاپے کا الاؤنس تو ان کی اپنی رقم اور آجر کی کٹوتی سے ملنا ہے، اس میں حکومت کو کیا جاتا ہے خود حکومت اس ادارے کی مقروض ہے نہ صرف اپنا حصہ ادا نہیں کیا بلکہ ادھار بھی لے رکھا اور خوردبرد کرنے والوں کے خلاف موثر کاروائی بھی نہیں ہوتی۔ ضروری ہے کہ ای او بی آئی کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے، بابوں کا مطالبہ ہے کہ خود حکومت نے قانون بنا کر نوٹیفکیشن جاری کئے کہ ای او بی آئی پنشن سرکار کی طرف سے مقررہ کردہ مزدور کی کم از کم تنخواہ کے برابر ہوگی، اس فیصلے اور نوٹیفکیشن کو بھی چار پانچ سال سے زیادہ ہو گئے لیکن عمل نہیں ہوا، دس ہزار روپے بوڑھے، بیمار حضرات کے لئے بالکل ناکافی ہیں کہ اب تو ان سے ماہانہ استعمال کی ادویات بھی نہیں خریدی جا سکتیں، بابوں کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ بجٹ سے پہلے یا بجٹ کے موقع پر ای او بی آئی کو ہدایت کرے کہ وہ مزدور کی کم از کم مقرر کردہ ماہانہ معاوضے کے برابر پنشن ادا کرے تاکہ ریٹائر لوگ کچھ تو سکھ کا سانس لیں، یہ رقم سرکار کے خزانے سے نہیں آئے گی، یہ تو خود محنت کشوں، ان کے آجروں سے کٹوتی ہے جس کا مقصد ہی بڑھاپے کا سہارا تھا، اس لئے لیت و لعل سے گریز کریں۔احتساب کرنے کی بات ہے تو پھر اس ادارے کے افسروں کی تنخواہوں اور مراعات ہی سے شروع کر لیں۔

مزید :

رائے -کالم -