اکیلا چیف جسٹس

   اکیلا چیف جسٹس
   اکیلا چیف جسٹس

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 ایک اکیلا چیف جسٹس آئین اور قانون پر عملدرآمد یقینی نہیں بنا سکتا جب تک کہ پوری سپریم کورٹ اس کے لئے سنجیدہ نہ ہو۔ کم از کم سنی اتحاد کونسل کے مخصوص نشستوں کے لئے دائر مقدمہ کی کاروائی سن کر تو یہی تاثر ابھرتا ہے، وہاں توہر دوسرے معزز جج کو اس بات کا قلق ہے کہ پی ٹی آئی کو بلے کا نشان کیوں نہ دیا گیا، کوئی نہیں پوچھتا کہ خود پی ٹی آئی نے درست پارٹی انتخابات کیوں نہیں کروائے۔

دیکھا جائے تو چیف جسٹس اس بنچ میں اکیلے جج ہیں جنھوں نے پی ٹی آئی حکومت اور اس کی پشت پر کھڑی اسٹیبلشمنٹ کا وار سہا ہوا ہے، ایک آدھ استثنا کے سوا وگرنہ سبھی ہمخیالی کے  اظہار  ہیں۔ججوں میں اختلاف رائے نہیں بلکہ اختلاف ہے۔ حیرت تو یہ ہے کہ وہ چیف جسٹس کے فیصلے کو بھی  اسی عینک   سے پڑھ رہے ہیں جس کا برملا اظہار خود چیف جسٹس نے بھی کیا ہے۔ 

چیف جسٹس کو دیکھ کر بابر اعظم یاد آ جاتا ہے جس کے ذمے سکور بھی کرنا ہے اور ٹیم کو جتوانا بھی ، باقی کھلاڑی کیا کر رہے ہیں، کیوں کر رہے ہیں،؛لگتا ہے پوری قوم کو اس سے کوئی سروکار نہیں!بحیثیت قوم یہ ہماری گھٹی میں پڑا ہوا ہے کہ ہم اپنے سوا کسی کو ماننے کو تیار نہیں ہوتے ، ہم اپنی رائے کو اس قدر مقدم بنائے رکھتے ہیں کہ اختلاف رائے کی گنجائش ہی نہیں چھوڑتے ، سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ ہم اجتماعی نقصان کر کے دوسروں کو نیچا دکھانے سے بھی باز نہیں آتے، عمران خان ایسے رویے کی ان دنوں عملی تصویر بنے ہوئے ہیں، وہ اور ان کے فین اس بات پر کامل یقین رکھتے ہیں کہ عمران خان حق پر ہے اور باقی سارے کے سارے ان کے ساتھ ناحق کر رہے ہیں، ان کے حوالے سے ہر بری بات کو یہ کہہ کر ہضم کر لیا جاتا ہے کہ یہ اس کا ذاتی فعل ہے جبکہ مخالفین کے ذاتی افعال کو قوی افعال بلکہ قومی جرائم بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ ذرا تصور کیجئے کہ اگر نواز شریف نے بالغ بچوں کی ماں کو طلاق دلوا کر شادی رچائی ہوتی تو اب تک ان کی سیاست کا بھرکس نکل چکا ہوتا، مگر عمران خان کے حوالے سے کسی کے کان پر جوں تک رینگتی محسوس نہیں ہوتی، اسی طرح بہروز سبزواری نے حال ہی میں عمران خان کی شراب نوشی کا تذکرہ کیا ہے، مگر اس پر اس کے حمایتیوں کو شرمندگی ہے اور نہ ہی میں سٹریم میڈیا اس پر کوئی بات کرنے کو تیار ہے، یہ اور اس جیسے دیگر رویے ہمارے معاشرے میں بدرجہ اتم موجود ہیں اور ہمارے دوہرے پن کو عیاں کرتے ہیں مگر ہم ہیں کہ اپنے ان رویوں پر نازاں ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں، جو کچھ سوچ رہے ہیں وہی ٹھیک ہے کیونکہ ہم حق پر ہیں۔

آپ کرکٹ ٹیم کو ہی لے لیجئے۔ جب بھی ٹیم ہارتی ہے فوری طور پر کپتان بدل دیا جاتا ہے تاکہ ذمہ داری نامعقول چیئرمینوں پر نہ آئے ، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج کرکٹ ٹیم میں کھلاڑی کم اور کپتان زیادہ ہیں، اسی طرح ہماری عدلیہ میں ججز کم اور چیف ججز کی بھرمارہو چکی ہے، موجودہ بنچ کو دیکھ لیجئے، معزز جج صاحبان ایسے بے باک دکھائی دیتے ہیں کہ جیسے ان کی نظر میں چیف جسٹس کی کوئی اہمیت ہی نہ ہو۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بار بار روکتے ہیں، ٹوکتے ہیں مگر ان کے ساتھی ججز کو پرواہ ہی نہیں لگتی کہ پوری قوم انہیں لائیو دیکھ اور سن رہی ہے۔ وہ بات کو گھما پھرا کر وہیں لے آتے ہیں کہ بالآخر چیف جسٹس کو کہنا پڑا کہ اگر پہلے سے ہی ذہن بنالیا گیا ہے تو وکیل کو دلائل دینے کی کیا ضرورت ہے۔ سوال یہ ہے کہ ساتھی جج اپنے چیف جسٹس کی عزت نہیں کریں گے تو عام عوام سے کیسے توقع کی جا سکتی ہے وہ سپریم کورٹ کی عزت کریں گے۔

کوئی ویرانی سی ویرانی ہے

دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا

کچھ ایسا ہی ہم نے تین بار کے وزیر اعظم نواز شریف اور ان سے قبل عوام کے لیڈر ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ کیا تھا۔ پہلے ان کی عزت خاک میں ملائی، بلکہ بھٹو کو تو پھانسی کے جھولے پر جھلا دیا اور پھر کف افسوس ملتے رہے۔ کیا زندہ قومیں اپنے سیاسی لیڈروں کے ساتھ ایسا کرتی ہیں؟ بقول منیر نیازی کے ہمارا مسئلہ ہی یہی ہے کہ ہم ملک کے سب سے قیمتی آدمی کو اپنے ہاتھوں سے مارتے ہیں اور پھر اس کی لاش کے سرہانے بیٹھ کر نوحہ گری کرتے رہتے ہیں، اسی لئے ہمارا معاشرہ ناقدری سے بھر چکا ہے۔ ہم دوسروں کو ان کی اچھائی یا برائی سے نہیں،اپنی پسند اور ناپسند سے جانچتے ہیں، اوروں کو تو چھوڑیئے، مایہ ناز غزل گائیک غلام علی کو ہی لے لیجئے جنھیں ہم نے زندہ درگور کر دیا ہوا ہے۔ مجال ہے جو کبھی ان کی پذیرائی کا سوچا ہو لیکن جس دن وہ آنکھیں موندلیں گے، ہم یوں ظاہر کریں گے جیسے بڑے غلام علی خان دوبارہ دنیا سے چلے گئے ہیں۔ ہم نے ایک دوسرے کی ناقدری کرتے کرتے اپنے نوجوانوں کی نظر میں پاکستان کی قدر گھٹا دی ہے، وہ یوں اس دھرتی سے بھاگنا چاہتے ہیں جس طرح قیدی قید خانوں سے بھاگنے کی منصوبہ بندی کرتے رہتے ہیں۔

آج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پی ٹی آئی حکومت کا ریفرنس بھگت کر بھی معتبر نہیں ہو سکے ، بنچ میں ان کے دائیں بائیں بیٹھے ساتھی ججز اپنے آپ کو ان سے کہیں اعلیٰ و افضل سمجھ کر بیٹھے ہوئے ہیں اور ایسے ایسے ریمارکس دیتے نظر آتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے جیسی امریکہ کے خلاف پاکستانی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی، کوئی کہے تو کیا کہے!

پانی پانی کر گئی مجھ کو قلندر کی یہ بات

تو میرا نہیں بنتا نہ بن،  اپنا  تو  بن!

مزید :

رائے -کالم -