ایک عدلیہ، دو وزرائے اعظم اور ٹوپک زما قانون

ایک عدلیہ، دو وزرائے اعظم اور ٹوپک زما قانون
ایک عدلیہ، دو وزرائے اعظم اور ٹوپک زما قانون

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

  

 "پروفیسر صاحب! ذرا یہ سمجھا دیں کہ ایک ہی ملک اور ایک ہی آئین لیکن عدلیہ کے رویے دو کیوں؟ ایک وزیراعظم کو پابجولاں کر کے سانپوں بھری کوٹھڑی میں کالا پانی کر دیا۔ خرد بینی معائنے کے بعد بھی اس کے مالیاتی دامن پر کوئی دھبہ نہ ملا۔ ذہین آدمی ہے، کنی کترا کر 10 سال کے لیے نکل گیا۔ آن بان، شان کے ساتھ اور شہرود و شہنائیاں بجاتے لوٹا تو عدلیہ کے ہتھے چڑھ گیا جس نے تمام خفیہ اداروں کی مدد سے 11 جلدوں کی رپورٹ کا پہاڑ تیار کرایا۔ اس پہاڑ کو چوٹی کے "محققین" نے کھودا، ادھیڑا، بھمبھوڑا۔ خردبینی معائنہ کیا۔ لیکن مردہ چوہا بھی نہ نکلا۔ کچھ نہ ملا تو 25 کروڑ عوام کے نمائندے کو کھسیانی بلیوں نے گاڈ فادر اور سسلین مافیا جیسے مکروہ نام دیے تو کیوں؟ پروفیسر صاحب کچھ لکھیے نا۔

"جج کہلاتی اور خدائی منصب پر بیٹھی ان کھسیانی بلیوں کو جب مردہ چوہا بھی نہ ملا تو آئین یا قانون کی جگہ یہ لوگ کہیں سے ایک ڈکشنری اٹھا لائے۔ وہاں سے پتا نہیں کیا نکال کر انہوں نے یہ الزام لگایا کہ وزیراعظم نے عرصہ جلاوطنی میں بیٹے کی ملازمت تو کی، لیکن تنخواہ نہ لے کر جرم کیا۔ پروفیسر صاحب، تنخواہ لینے نہ لینے کا اس سے پوچھا ہی نہیں گیا، نہ صفائی کا موقع دیا گیا۔ لیکن اسی عدلیہ کے سامنے اس دوسرے وزیراعظم کو "گڈ ٹو سی یو" کہہ کر استقبال کیا گیا جو امریکی عدالتی فیصلے کے مطابق اپنی مسلمہ اولاد کا کہیں ذکر تک نہیں کرتا۔ کیلیفورنیا کورٹ کا فیصلہ اپنی عدلیہ کے آگے رکھا جاتا ہے تو وہ اسے ناقابل سماعت قرار دیتی ہے تو کیوں؟ پروفیسر صاحب صرف یہ بتائیے کہ ایک وزیراعظم کے دامن پر دھبہ تک نہ ملا اور اسے عدلیہ نے بیٹے سے تنخواہ نہ لینے کے الزام میں حوالہ زندان کر دیا۔ دوسری طرف سطح ارض پر جرم کی انواع میں سے کون سی نوع ہے جس کا الزام اس دوسرے وزیراعظم پر نہ چپکا ہوا ہو۔ تو پھر ہر ثابت شدہ جرم سے اسے عدلیہ بری کر رہی ہے تو کیوں؟پروفیسر صاحب یہ سمجھا دیجئے ".

کالم چھپتے ہی ہر اتوار کو مجھے ایسے متعدد سوالات سہنا پڑھتے ہیں۔ یہ سوالات اگر مشکل ہیں تو آج کی ہماری عدلیہ کے ان معززین کے لیے جن کو اللہ کریم نے چشم بینا سے محروم رکھا ہے۔ یہ لوگ افق کے پار کیا دیکھیں گے، ان کی دھندلی سی بینائی دیوار کے پرے بھی نہیں دیکھ سکتی۔ جن کے حواس پر ساس کے احکام، ثاقب نثار کا بیٹا، اور بشریٰ بی بی سوار ہوں، وہ کیا عدل کریں گے؟ زمانے کے بدلتے انداز، نت نئے ساز، نئی صبح کی نئی پروا، تو راگ بدلنا کیوں واجب نہیں۔ لیکن یہ لوگ ہیں کہ جاڑے کی رت میں ہمیں میاں کی ملہار سنا سنا کر مجمع لگانے کو کوشاں۔ آپ کو 36 سال پیچھے لیے چلتے ہیں۔ بہت کچھ واضح ہو جائے گا۔

17 اگست 88 کو جنرل ضیا مرحوم ہو گئے تھے۔  ساڑھے تین ماہ بعد ان کی حریف اول بے نظیر بھٹو وزیراعظم تھیں۔ اقتدار کے گلیارے میں اب جنرل ضیا کا عمل دخل بظاہر بمنزلہ صفر تھا۔ قانون کے تحت ان کی بیوہ کو آرمی ہاؤس میں چند ماہ رہنے کا استحقاق تھا جہاں وہ رہ رہی تھیں۔ ملکوں حکومتوں کے تعلقات فوتیدگان نہیں، زندگان، اور اداروں سے ہوتے ہیں۔ جنرل ضیا بے نظیر بھٹو کا دشمن اول تھا۔ دنیا سے رخصت ہو چکا تھا۔ خارجہ تعلقات جنرل سے نہیں، بے نظیر کے ساتھ ہونا چاہیئیں تھے۔ لیکن یہ کیا؟ 29 دسمبر 1988 کو سارک کانفرنس کے وقت بے نظیر وزیراعظم تھیں تو دیکھا کہ صدر مالدیپ اور وزیراعظم سری لنکا، اسلام آباد ایئرپورٹ سے مہمان خانے میں جائے بغیر سیدھے آرمی ہاؤس میں جنرل ضیا کی بیوہ سے تعزیت کرتے ہوئے بے نظیر بھٹو کا منہ چڑا رہے تھے۔

غروب آفتاب پر فوراً اندھیرا نہیں ہو جاتا، گھنٹہ بھر دھندلکا رہتا ہے۔ جنرل ضیا 17 اگست 1988 کو مرحوم تو ہو گئے پر 12 اکتوبر 1999 تک ہر ادارے پر ان کا دھندلکا موجود تھا۔ بے نظیر بھٹو وزیراعظم ہو کر بھی اقتدار کے گلیارے میں اجنبی تھیں۔ پس مذکورہ بالا دو غیر ملکی سربراہان نے مقتدر کی پذیرائی کی نہ کہ بے نظیر بھٹو کی۔ یہ وہ نکتہ ہے جو عمران کو ہر مقدمے میں بری کرنے والے معزز ججوں کو سمجھانے کی ضرورت ہے۔ انہیں توجہ دلائیے کہ جنرل باجوہ اور جنرل فیض کی شکل میں پرویز مشرف کی سڑاند 29 نومبر 2022 کو تحلیل ہو چکی ہے۔ زمانے کے انداز بدل گئے، باجوائی ساز ٹوٹ گئے، سازندے سو گئے۔ لیکن عدلیہ کے "فیض" یاب معززین جیسے جسٹس بندیال یہی سمجھتے رہے کہ وہ 90 دن میں انتخابات کرا لیں گے۔ جنرل باجوہ اور جنرل فیض کی رہی سہی دیگر باقیات اب بھی یہی کچھ سوچ رہی ہیں۔ فاخرہ تو پاگل تھی، فیشنوں کے چکر میں، جو دوا لگانی تھی، اس دوا کو کھا بیٹھی۔ اور اس حماقت میں، اپنی جاں گنوا بیٹھی۔ مظاہر اکبر نقوی نے جو دوا لگانی تھی، وہ دوا یہ عدلیہ کھا بیٹھی۔ اور اس حماقت میں اپنی پینشن گنوا بیٹھی۔

مقتدرہ (establishment) دنیا بھر میں موٹی کھال والے کچھوے کی مانند ہوا کرتی ہے جس کی پشت پر سینکڑوں بچھو ڈنگ مارتے رہیں، اسے احساس تک نہیں ہوتا۔ ہمارے اپنے کچھوے نے اب کچھ فیصلے کر لیے ہیں۔ غروب باجوہ اور غروب فیض کے بعد عدلیہ پر ان دونوں کا گھنٹے بھر کا عدالتی دھندلکا حق نمک ادا کرتا رہے گا۔ 29 نومبر 2022 کو نمودار نئے آفتاب کی تمازت اور حدت کو 35 سالہ عمراناءئزڈ ادارے میں طاقت پکڑنے میں کچھ وقت تو لگے گا۔ عسکری ادارہ تعلقات عامہ اور آئی ایس آئی کے سربراہان کی دو سال قبل کی مشترکہ پریس کانفرنس کا جملہ یاد کریں: "ہم سے بھی غلطیاں ہوئی ہوں گی. لیکن اب ہم نے بطور ادارہ کچھ فیصلے کر لیے ہیں ".

وزیر اعظم اور وزرائے اعلیٰ موٹی کھال والے کچھوے کے پیچھے عدالتی فیصلوں سے بے نیاز خاموشی سے اپنا کام کر رہے ہیں۔ باجوہ اور فیض کی عدالتی باقیات سابق وزیراعظم کو ابھی کچھ سہولتیں دیں گی۔ اگلے دن ایک جج صاحب، موصوف کی آن لائن پیشی پر اب بھی ان سے امیدیں وابستہ کر رہے تھے۔ یہ باجوائی دھندلکا گھنٹہ بھر باقی رہے گا۔ لیکن مقتدرہ نے کچھ فیصلے کرلیے ہیں جن پر وہ بخوبی عمل کر رہی ہے۔ فاخرہ سے توقع ہے کہ لگانے والی آئینی دوا مت کھائے۔ پشتو محاورے کے مطابق جہاں کھجلی نہ ہو،، وہاں نہ کھجلایا جائے۔ دنیا بھر میں مقتدرہ کا ایک ہی نعرہ ہے: "ٹوپک زما قانون". ترجمہ کسی خان سے کرا لیجئے اور آئینی جمہوریہ امریکہ میں صدر کینیڈی کا انجام یاد رکھیے جو آئین کے ہوتے ہوئے بھی ٹوپک زما قانون کا شکار ہوئے۔ جمہوری عجوزہ کی بیٹی شہزادی ڈیانا کو بھی ٹوپک زما قانون والی مقتدرہ کھا گئی تھی، کل کی بات ہے۔ ہے کہ نہیں؟

مزید :

رائے -کالم -