بجٹ، آئی ایم ایف اور بے چارے عوام

بجٹ، آئی ایم ایف اور بے چارے عوام
بجٹ، آئی ایم ایف اور بے چارے عوام

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 اس سال بجٹ کے آثار کچھ اچھے نظر نہیں آ رہے۔حکومت پہلے تو ڈھکے چھپے انداز میں آئی ایم ایف کی فرمائشیں پوری کر رہی تھی،آئندہ بجٹ لگتا ہے آئی ایم ایف کی مکمل نگرانی اور ہدایت کے مطابق بنایا جائے گا،کسی نے واقعی سچ کہا ہے گداگروں کے پاس کوئی چوائس نہیں ہوتی۔،آئی ایم ایف سے قرض کی منظوری کے لئے حکومت ہر حد تک جانے کو تیار نظر آتی ہے، اس بار تو وزیر خزانہ بھی نئے ہیں اور سنا ہے اُن کے آئی ایم ایف سے روابط بھی مضبوط ہیں، ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وہ آئی ایم ایف  کو کم شرائط لگانے پرراضی کرتے،مگر جو خبریں آ رہی ہیں اُن کے مطابق زندگی مزید مشکل ہونے جا رہی ہے۔ آئی ایم ایف نے دو ہزار ارب کے نئے ٹیکس لگانے کی فرمائش کر دی ہے حتیٰ کہ ادویات پر بھی سیلز ٹیکس لگانے کو کہا ہے، ہر قسم کی ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے، پنشن پر ٹیکس لگنے کا بھی امکان ہے کیونکہ آئی ایم ایف کی عرصہ دراز سے پنشنروں پر بھی نظریں ہیں،ویسے تو بجٹ ہمارے لئے کبھی اچھی خبر نہیں لایا،البتہ لفظوں اور اعداد و شمار کے گورکھ دھندے میں الجھا کر عوام کو خوش کرنے کی کوشش ضرور کی جاتی ہے تاہم اس بار لگتا ہے یہ کام بھی نہیں ہو سکے گا،کیونکہ آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کی چھتری تلے بننے والا بجٹ سب کس بل نکال دے گا۔ایک زمانہ تھا کہ سیاسی حکومتیں آئی ایم ایف کے سامنے غیر مشروط طور پر سرنڈر نہیں کرتی تھیں، کچھ مزاحمت ضرور کی جاتی تھی تاکہ عوام پر اتنا بوجھ نہ ڈالا جائے، جو اُن کی بساط سے باہر ہو،مگر اب یہ دن ہوا ہو چکے ہیں اِس بار  رہا سہا لہو نچوڑنے کا حکم ہے اور حکم ماننے والے سرِ مو سرتابی کے لئے تیار نہیں ہیں۔

دنیا بھر میں مضبوط معیشت اسے سمجھا جاتا ہے جہاں عوام میں قوتِ خرید موجود ہو،کیونکہ معیشت کا پہیہ چلتا ہی تب ہے جب عوام اُس میں حصہ لیتے ہیں اس کی ایک مثال اِس بار گندم کے بحران سے دی جا سکتی ہے، جس کے تحت کسانوں کو اُن کی پیداوار کا معاوضہ نہیں ملا،اس کے اثرات یہ سامنے آئے کہ بازاروں میں خریداری ماند پڑ گئی، کاروباری سرگرمیاں مندے کا شکار رہیں،ایک سروے کے مطابق اس سال 50 فیصد کم کاروبار ہوا،کیونکہ کسان کے پاس پیسہ نہیں تھا جو وہ ہر سال گندم کی فصل سے کمانے کے بعد اپنی ضروریات پوری کرنے پر خرچ کرتا تھا۔ آئی ایم ایف کا نشانہ ہمیشہ عوام بنتے ہیں۔وہ سبسڈی ختم کرنے پر زور دیتا ہے یا پھر عام استعمال کی اشیاء پر ٹیکس لگانے یا بڑھانے کی شرط رکھتا ہے،اس ایک بات سے ہی اُس کی بے حسی کا اندازہ لگائیں کہ وہ ادویات پر بھی ٹیکس لگانے کی شرط عائد کر رہا ہے جبکہ اِس وقت بھی صورتحال یہ ہے کہ ادویات عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو چکی ہیں،اُن پر ٹیکس لگانے کا مطلب یہ ہے آپ غریبوں کو زندہ درگور کرنا چاہتے ہیں۔ ہماری اشرافیہ کو چونکہ ہر چیز فری مل جاتی ہے یا اُس کے پاس وسائل ہی اتنے ہوتے ہیں اِس قسم کی مہنگائی اُسے چھو کر بھی نہیں گزرتی، اِس لئے وہ احتجاج نہیں کرتی، لیکن اشرافیہ کے وہ نمائندے جو اس وقت حکومت میں موجود ہیں، کم از کم انہیں تو عوام کی خاطر آئی ایم ایف کے سامنے مزاحمت کرنی چاہئے۔ بجلی، گیس اور پٹرول تو پہلے ہی آئی ایم ایف کی نگرانی میں دے کر قیمتوں کا تعین کیا جاتا ہے، بجلی پورے ایشیاء میں سب سے مہنگی پاکستان میں ہے جبکہ اوسط آمدنی کے لحاظ سے پاکستان سری لنکا سے بھی نیچے کھڑا ہے۔ عوام کو ہمیشہ اس بات سے ڈرایا گیا ہے، آئی ایم ایف سے قسط نہ ملی تو ملک دیوالیہ ہو جائے گا، حالانکہ عوام جس کسمپرسی کے عالم میں زندہ ہیں وہ یہی سوال کرتے ہیں اور دیوالیہ ہونا کسے کہتے ہیں، کئی لوگوں کو تو یہ دعائیں مانگتے دیکھا ہے کہ ملک دیوالیہ ہو جائے اچھا ہے، روز روز کے خوف سے تو جان چھوٹے۔

کل ہی ایک خبر چھپی کہ حکومت اور اپوزیشن میں بحٹ پاس کرنے کے حوالے سے اتفاقِ رائے ہو گیا ہے۔ کیوں اتفاقِ رائے ہو گیا ہے؟ابھی تو بجٹ پیش نہیں ہوا، کیا اب بجٹ پر وہ روایتی بحث بھی نہیں ہوا کرے گی جو ماضی میں ہوتی تھی، کیا آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن اپوزیشن پر بھی چلتی ہے، کیا اسمبلی ہائی جیک ہو چکی ہے،جب حکومت اور اپوزیشن میں بجٹ پاس کرنے کے حوالے سے اتفاق ہو جائے گا تو آئی ایم ایف پر کیا عوامی دباؤ رہ جائے گا، پھر تو اسے یہی لگے گا پاکستان ایک مفتوحہ ملک ہے، جہاں اسمبلیوں کے اندر بھی گونگے بہرے بیٹھے ہوئے ہیں ماضی میں ہم نے دیکھا اپوزیشن کے دباؤ پر عوام کو بجٹ میں ریلیف ملا۔ آئی ایم ایف بھی پیچھے ہٹ گیا،مگر اب لگتا ہے قومی اسمبلی کا فورم بھی صرف نمائشی رہ گیا ہے،ابھی تک اپوزیشن کی طرف سے کوئی ایسا بیان دیکھنے میں نہیں آیا،  جس میں کہا گیا ہو کہ بجٹ میں عوام پر بھاری ٹیکس لگانے کی مخالفت کی جائے گی، آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر بنائے گئے بجٹ کو مسترد کر دیں گے، ارے ظالمو! کہیں سے تو یہ بیان بھی آئے ادویات اور اشیائے خورد و نوش پر ٹیکس لگانے کے خلاف مزاحمت کی جائے گی، سب خاموش ہیں اور آئی ایم ایف پاکستان میں دندناتا پھر رہا ہے۔ ٹیکسوں کے حجم میں دو ہزار ارب روپے کا اضافہ کیا قیامت ڈھائے گا، کسی کے پاس اس کا جواب ہے تو بتائے، یہ سارے ٹیکس ملک کے متمول طبقے پر نہیں لگتے، بلکہ گھوم پھر کر ان کے اثرات عوام پر آنے ہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف چین میں 23 معاہدوں پر دستخط کر دیتے ہیں،ان کے اثرات تو نجانے کب سامنے آئیں گے لیکن آئی ایم ایف سے معاہدے کے لئے جو سر تسلیم خم کیا جا رہا ہے اس کے اثرات تو بجٹ پیش ہوتے ہی سامنے آ جائیں گے،یہ اور بات ہے بجٹ کو پھر بھی عوام دوست اور فلاحی ہی کہا جائے گا۔

مزید :

رائے -کالم -