خواتین کو مساوی مواقع ملنے چاہئیں

خواتین کو مساوی مواقع ملنے چاہئیں

  

عورتوں کو خود پر ہونے والے ظلم اور سماجی ناانصافی کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے ایک صدی سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔ شائد یہ صحیح وقت ہے کہ اِس بات کا جائزہ لیا جائے کہ ایک صدی پر محیط اِس جدوجہد سے کیا حاصل ہوا۔1909ءمیں شروع کی گئی اِس مہم کا ایک نمایاں پہلو خواتین کو ووٹ ڈالنے کا برابر حق دلانا تھا۔آج دُنیا کے بیشتر ممالک کی خواتین کو ووٹ کا حق حاصل ہے، ماسوائے سعودی عرب اور ویٹی کن سٹی۔ حال ہی میں سعودی عرب کی حکومت نے اپنی شوریٰ کونسل میں خواتین کوبیس فیصد نمائندگی کی اجازت دی ہے، لیکن ان خواتین کو فیصلہ سازی میںمردوں سے الگ رکھا جائے، شاید اِس لئے کہ خواتین کی رائے مردوں کے فیصلوں پر اثر انداز نہ ہو سکیں۔

 ضرورت اِس امر کی ہے کہ صنفی امتیازات پر مبنی سماجی رویوں میں تبدیلی کو سامنے لاتے ہوئے ووٹرز کی تعداد بڑھانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں فروری دوہزار بارہ کے انتخابات میں میانوالی کے علاقائی جرگہ کے فیصلے کے مطابق خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روک دیا گیا۔ ضلع صوابی کے دورے کے دوران مجھے معلوم ہوا کہ الیکشن میں حصہ لینے والی دونوں سیاسی جماعتوں نے یہ فیصلہ کیا کہ خواتین کو ووٹ نہیں ڈالنے دیا جائے۔ الیکشن کمیشن کی ایک تجویز کے مطابق اگر انتخابی عمل میں خواتین کی نمائندگی دس فیصد سے کم ہو گی، تو وہاں دوبارہ انتخابات کا انعقاد کیا جائے گا۔ یہ تجویز خوش آئندہ ہے، لیکن اِس میں خواتین کے لئے مقرر کردہ نمائندگی کا معیار بہت کم مقرر کیا گیاہے۔ایشیاءفاﺅنڈیشن کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ووٹرز کا اندراج ایک سنگین مسئلہ رہا ہے۔ انتہائی افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ تقریباً ایک کروڑ پاکستانی خواتین کے و وٹ کا اندراج ہی موجود نہیں ہے۔

ایک اور قابل ِ ذکر امر یہ بھی ہے کہ عالمی سطح پر خواتین کی اسمبلیوں میں شمولیت انیس اعشیارہ ایک فیصد ہے۔ ایک پاکستانی خاتون ہونے کی حیثیت سے اسمبلیوں میں خواتین کے لئے مخصوص نشستوں کے حوالے سے مَیں ملے جلے احساسات رکھتی ہوں۔ اِس فہرست میں پاکستان تنہا نہیں، بلکہ بنگلہ دیش اور بھارت میں بھی خواتین کی مخصوص نشستوں کے ذریعے سیاسی عمل میں اُن کی شمولیت بڑھانے کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں، جبکہ ارجنٹائن میں یہ قانون ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں 30فیصد خواتین امیدوار انتخابی عمل میں لانے کی پابند ہوں گی تاکہ وہ الیکشن کے ذریعے براہ راست اسمبلی تک پہنچ سکیں۔ میرے خیال میں خواتین کے لئے مخصوص نشستیں اور کوٹہ سسٹم خواتین کو انتخابی نظام میں براہ راست شمولیت سے ناصرف روکتی ہے، بلکہ یہ خواتین کی پارلیمنٹ میں موجودگی اور مو¿ثر کارکردگی کو کم کر دیتا ہے۔ خواتین کی سیاسی عمل میں شمولیت کو مو¿ثر بنانے کے لئے انہیں انتخابی عمل سے گزارنا بے حد ضروری ہے۔

ایک اور تحقیق کے مطابق پاکستان میں خواتین ممبران اسمبلی مرد ممبران کے مقابلے میں چار گنا زیادہ سوال کرتی ہیں۔ 2011-12ءقومی اسمبلی میں پیش کردہ77بلوں میں سے51فیصد بل خواتین بل ممبران نے پیش کئے ہیں، جو کہ اب تحفظ نسواں اور خواتین پر تیزاب پھینکنے کے خلاف روک تھام کے قوانین بن چکے ہیں۔ میرے نظریے کے مطابق بحیثیت ِ خواتین ہمیں اپنے حق کے لئے مزید آواز اُٹھانی چاہئے اور تمام سیاسی جماعتوں کو آمادہ کرنا چاہئے کہ خواتین امیدواروں کی نمائندگی زیادہ سے زیادہ بڑھائیں، جس سے نہ صرف خواتین ووٹرز کی تعداد میں اضافہ ہو گا، بلکہ خواتین کو درپیش مسائل بھی بہتر انداز میں اُجاگر ہوں گے۔

خواتین کی تحریک کے دوسرے پہلو کا تعلق، ان کے معاشی حقوق، جن میں مردوں کے مساوی تنخواہ اور ملازمت کے دورانیے میں کمی سے ہے۔ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی رپورٹ کے مطابق ترقی کے باوجود خواتین کی اوسط آمدنی مردوں کی اوسط آمدنی کا پچتر فیصد ہے۔ یہی اعداد و شمار پاکستان میں بھی پائے جاتے ہیں۔ اس تحقیق کے مطابق خواتین کو کم اجرت و الے شعبہ جات میں زیادہ ترجیح دی جاتی ہے، جس کی وجہ سے صنفی امتیازات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ ملازمت کے مواقع کا حصول تعلیمی قابلیت اور ہنر مندی پر منحصر ہیں۔ مردوں کے مقابلے میں خواتین کا کم تعلیم یافتہ ہونا ان کے ملازمت کے مواقع کو کم کر دیتا ہے۔ انہی معاشرتی ناانصافیوں کی وجہ سے خواتین کو بہتر اجرت کے مواقع کم ملتے ہیں۔ گیار ہ اعشیارہ ایک ملین خواتین گھروں میں کام کرتی ہیں، جن کی اجرت نہ ہونے کے برابر ہے۔ بلاشبہ خواتین کی سیاسی سطح پر خواتین کی شمولیت نظر آتی ہے، لیکن اُن کی سیاسی حیثیت کمزور ہونے کی وجہ سے بھرپور شرکت نہیں ہو پاتی۔

اِس تمام صورت ِحال کو بہتر بنانے کے لئے خواتین کو تعلیمی وسائل، مالی سہولیات، ہنر مندی اور ہر سطح پر فیصلہ سازی کے مساوی مواقع دیئے جانے چاہئیں تاکہ خواتین کو معاشرے میں بہتر مقام مل سکے۔

مزید :

کالم -