پاکستان میں پرائیویٹ سیڈ کمپنیوں کی تعداد 700 ، پنجاب میں 600 سے تجاوز کرگئی

پاکستان میں پرائیویٹ سیڈ کمپنیوں کی تعداد 700 ، پنجاب میں 600 سے تجاوز کرگئی

فیصل آباد (اے پی پی) پاکستان میں پرائیویٹ سیڈ کمپنیوں کی تعداد 700جبکہ پنجاب میں 600 سے تجاوز کرگئی ہے نیزحکومت نے مذکورہ کمپنیوں کو اعلیٰ معیار کے بیج فراہم کرنے کی سخت ہدایت کی ہے اورکہاہے کہ اگر کسی کمپنی کی جانب سے ناقص یا غیر معیاری اور غیر منظور شدہ بیجوں کی فراہمی کی شکایت موصول ہوئی تو اس کے خلاف سیڈ ایکٹ کے تحت سخت ترین کاروائی عمل میں لائی جائے گی اور بعد ازاں کوئی عذر قابل قبول نہیں ہو گا۔ محکمہ زراعت کے ترجمان نے بتایاکہ زمینداروں ، کسانوں ، کاشتکاروں کو پنجاب سیڈ کارپوریشن کے ذریعے تصدیق شدہ اور معیاری بیجوں کی مطلوبہ مقدار میں فراہمی کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں تاہم اس کے ساتھ ساتھ چونکہ کاشتکار پرائیویٹ سیڈ کمپنیوں کا بیج بھی استعمال کرتے ہیں اس لئے ان پر واضح کر دیاگیا ہے کہ زرعی اجناس کے بیجوں کی فراہمی میں کسی کوتاہی کامظاہرہ نہ کیاجائے ۔

تاکہ زراعت اور کاشتکاروں کو پہنچنے والے نقصان سے بچاجاسکے۔ انہوں نے کہاکہ پنجاب سیڈ ایکٹ تیاری کے آخری مراحل میں ہے جسے جلد صوبائی اسمبلی سے منظور کروا کر باضابطہ قانونی شکل میں نافذ کردیاجائیگا۔ انہوںنے کہاکہ مختلف فصلات کے بیجوں کی رجسٹریشن، فصلات کے معائنہ، بیجوں کے تجزیہ ، ٹیسٹ اور کوالٹی کی مانیٹرنگ کےلئے وفاقی سطح پر سیڈ ایکٹ موجود تھا مگر اٹھارویں ترمیم کے بعد زراعت ایک صوبائی سبجیکٹ بن چکا ہے۔انہوںنے کہاکہ محکمہ زراعت پنجاب کے تحت مختلف قوانین بشمول پنجاب سیڈ ایکٹ کی صوبائی سطح پر تیاری کا عمل جاری ہے جسے جلد پایہ تکمیل تک پہنچا دیاجائیگا اور غیر منظور شدہ و غیر معیاری بیجوں کے کاروبار میں ملوث سیڈ مافیاپر مضبوط گرفت یقینی بنائی جائے گی۔   

مزید : کامرس