وزیرا علیٰ پنجاب میاں محمدشہباز شریف کا دورہ¿ چین

وزیرا علیٰ پنجاب میاں محمدشہباز شریف کا دورہ¿ چین
 وزیرا علیٰ پنجاب میاں محمدشہباز شریف کا دورہ¿ چین
کیپشن:   rana m arshad سورس:   

  

تاریخ اس حقیقت کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے کہ پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے کے بعد پہلے عشر ے تک اس کی خارجہ پالیسی کا جھکاﺅ مغربی ممالک کی طرف رہا۔ اس کی بعض دیگر وجوہ بھی ہونگی۔ مگربنیادی وجہ یہ تھی کہ قیام پاکستان کے صرف ایک برس بعد بانیِ پاکستان حضرت قائداعظمؒ وفات پاگئے۔ ورنہ یہ بات یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ اگروہ تھوڑا عرصہ مزید زندہ رہتے تو وطن عزیز کی خارجہ پالیسی کے ایسے خطوط وضع کردیتے جن پرعمل پیرا ہوکر پاکستان کو کبھی ایسے زخم نہ سہنے پڑتے جو حضرت قائداعظمؒ کی زیرِ قیادت خالق پاکستان جماعت مسلم لیگ کی مخالف سیاسی جماعتوں کے برسراقتدار آنے کے نتیجے میں قوم کو سہنے پڑے۔ گزشتہ برس ہابرس سے ایسی قیادتیں ملک و قوم پر مسلط ہوئی ہیںجنہیں ارضِ وطن کی سلامتی اور اس میںبسنے والے کروڑوں مفلوک الحال عوام کی خوشحالی سے کوئی غرض نہیں تھی۔ انہیں صرف اپنے مفادات عزیز تھے۔ اس طویل دور انیے میں آمریت اور ایسے نام نہاد جمہوری ادوار بھی شامل رہے جنہوں نے آمریت کی کوکھ سے جنم لیاتھا۔

مگر غالباَقدرت کو اس قوم وملک کی بے بسی اور مفلوک الحالی گوارا نہ ہوئی۔ جن کے اذہان اور فضاﺅں میں ابھی تک بانی وطن حضرت قائداعظمؒ کی تقریروں کی گونج باقی تھی۔ چنانچہ یہ موقع پھر خالق پاکستان جماعت مسلم لیگ (ن)ہی کے حصے میں آیا کہ اس کے عہد میں ارض وطن کی خارجہ پالیسی صحیح خطوط پر استوار ہو۔ اور اس کی قیادت کو قدرت نے یہ فرض سونپا کہ وہ اپنی فہم و بصیرت کی تمام تر توانائیوں کی روشنی میں ان راستوں کاکھوج لگائیں جن کو اپنا کر قوم کے ساتھ وہ مقام رفیع سے ہمکنار ہوسکیں ۔ محمد شہبازشریف کی شکل میں پاکستان مسلم لیگ(ن) کی قیادت نے یقینا چین سے پاکستا ن کی دوستی کے نیم وا در کھول کر ایک ایسے دور کا آغاز کردیا ہے۔ جو خدا کے فضل و کرم سے پاکستان کے اندھیروں کو اجالوں میں بدلنے اور مایوس و مفلوک الحال قوم کو خوشیوں اور مسرتوں سے ہمکنار کرنے پر منتج ہوگا۔

ایسے دورمیں جبکہ پاکستانی قوم ماضی کی حکومتوں کی بداعمالیوں کی بنا پر بے بسی وکم مائیگی کی اتھاہ گہرائیوں میں ٹامک ٹوٹیاں مار رہی تھی کہ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کے دورہ چین نے قوم کو سنہرے مستقبل کی نوید دی ہے۔ محمد شہباز شریف کے اس دورئہ چین کے حوالے سے اس حقیقت کا اظہار کرنابھی بے جا نہ ہوگا کہ ماضی کے ارباب اقتدار نے اپنی خود غرضانہ اور عاقبت نااندیشانہ پالیسیوں سے عظیم دوست چین کو ایک حدتک نظرانداز کرنے کی راہ اپنالی تھی۔ جبکہ پاکستان پر جب بھی آزمائش کی گھڑی آئی تو خدا کے فضل کے بعد بھری دنیا میں صرف عوامی جمہوریہ چین ایسی عظیم قوت تھی جس نے پوری قوت و جرات سے پاکستان کاساتھ دیا اور پاکستان کے موقف کی ہرمعاملے میں حمایت کی۔

آج کا پاکستان توانائی کے بحران کے نتیجے میں اقتصادی ، معاشی، سیاسی اور صنعتی لحاظ سے جس کسمپرسی کا شکار ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ۔وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف قوم و ملک کے ایسے ہی دکھوں کے مداوے کے لئے عوامی جمہوریہ چین کا دست تعاون حاصل کرنے گئے تھے۔ یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ چین یوں تو ہمیشہ پاکستان کی ترقی و خوشحالی کا خواہاں رہا ہے۔ مگر محمد شہباز شریف کے گذشتہ دورِ حکومت کی نسبت اس مرتبہ چین کا اعتماد اور تعاون کئی گنا بڑھ گیا ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ چینی حکومت اور قیادت محمدنواز شریف اور ان کی حکومت کی پالیسیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور اسی تناظر میں وہ محمدنواز شریف اورمحمد شہباز شریف کے ذریعے پاکستانی قوم کی خدمت میں اپنا حصہ ڈال رہی ہے۔

ملکی تاریخ کے امورخارجہ کا تجزیہ کیا جائے تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ محمد شہبازشریف کا یہ دورہ نہ صرف ان کی مرضی اور قومی امنگوں کے عین مطابق ثمرآور بلکہ تاریخی نوعیت کاحامل رہا بلکہ یقینا اس دورہ کومحمد شہباز شریف اپنے لئے زندگی کا اہم ترین دورہ قرار دے سکتے ہیں۔ یہ بات اہل وطن کے لئے باعث مسرت و انبساط ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف پاکستان مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت کے ایک مقتدر رکن ہونے کی حیثیت سے چین کی اعلیٰ ترین قیادت کو اپنے وطن اور قوم کے سنگین مسائل سے آگاہ کرکے ان کے حل کے لئے تعاون حاصل کرنے پر آمادہ کرنے میں پوری طرح کامیاب ہوئے۔ یہ ان کی ذاتی مساعی کا نتیجہ ہے کہ عوامی جمہوریہ چین کی اعلیٰ قیادت نے پاکستانی عوام کی فلاح کے لئے تاریخ میں پہلی بار دل وجان سے اتنی بڑی کمٹمنٹ کی ہے ۔ پاکستان کو توانائی کے بحران سے نجات دلانے کے لئے چین پاکستان کو سات برس تک ساڑھے چار ارب ڈالر سالانہ دے گا۔ یعنی 132ارب ڈالر کی خطیر رقم سے پاکستان میں توانائی کے منصوبے مکمل کئے جائیں گے۔

یہ وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی نگاہ دور رس ہی کا ثمر ہے کہ صدر مملکت ممنون حسین اور عوامی جمہوریہ چین کے صدر ژی جن پنگ کے مابین مذاکرات میں پاکستان اور چین نے معیشت‘ تجارت‘ توانائی اور عوامی سطح پر رابطے کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے پانچ معاہدوں پر دستخط کئے۔ ان میں اقتصادی راہداری منصوبہ یقینا خطے میں سیاسی وا قتصادی ترقی کا نیا دور شروع کرے گا۔ اوراس امر کی بھی ضمانت موجودہ مسلم لیگی قیادت ہی مہیا کرسکتی ہے کہ وہ وقت یقینا آئے گا جب لوڈشیڈنگ کے اندھیرے اجالوں میں بدلیں گے۔ کیونکہ محمد شہباز شریف صوبے میں برقی منصوبوں کی تکمیل کو جنگی بنیادوں پرحل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ توانائی کے بحران پر قابو پانے سے جہاں عوام لوڈشیڈنگ کے عذاب سے نجات حاصل کریں گے۔ وہاں صنعتوں کا پہیہ چلنے سے ملک سے بیروزگاری پر قابو پانے میں بھی مدد ملے گی۔ اقتصادی مجموعی صورت حال میں نمایاں بہتری ہوگی۔

اسی حقیقت سے بھی اغماض ممکن نہیں کہ پاکستان اور چین کے عوام ایک دوسرے کے بارے میں نہ صرف نیک خواہشات رکھتے ہیں بلکہ باہمی برادرانہ تعلقات کو فروغ دینے کے آرزومند بھی ہیں اور برسوں بعد پاکستان کے عوام کی یہ امیدبرآئی ہے کیونکہ دونوں ممالک کی سیاسی قیادتوں کے سرکردہ رہنماﺅں نے ایک دوسرے سے ملاقاتیں کرکے دل کی باتیں کی ہیں۔ عوامی جمہوری چین کی حکمران کمیونسٹ پارٹی کے انتہائی اہم ونگ امور خارجہ کے چیئرمین ڈاکٹر وانگ چنگوئی سے وزیراعلیٰ پنجاب محمدشہازشریف نے ملاقات کی اور ان سے پاک چین تعلقات سمیت خطے کے اہم مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ اس ملاقات میں دیگر اہم باتوں سمیت ایک اور اہم ترین بات یہ بھی ہوئی کہ ڈاکٹر وانگ چنگوئی نے وزیراعلیٰ پنجاب محمدشہازشریف کو یہ بھی کہا کہ چین کی حکمران کمیونسٹ پارٹی اور پاکستان کی مسلم لیگ (ن) کے درمیان مستحکم تعلقات کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس بات سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ چین کی کمیونسٹ پارٹی کے متعدد ارکان ان حقائق کا مکمل طور پر ادارک رکھتے ہیں۔ کہ چین کی حکمران کمیونسٹ پارٹی کی طرح پاکستان مسلم لیگ (ن) ہی پاکستا ن کی خالق جماعت ہے۔جو اس کے بانی حضرت قائداعظمؒ کے فرمودات کی روشنی میں ملک کے امور خارجہ کو صحیح سمت میں استوار رکھنے میں کوشا ں ہے۔

یہ صورت حال اس امر کی ضامن ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے صحیح موقع پر ملک کے سنگین مسائل پر قابو پانے کے لئے پاکستان کے حقیقی دوست چین کی طرف رجوع کیا ہے ۔ بالآخر یہ سہرا وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف ہی کے سر بندھا کہ انہوں نے قوم و ملک کوبحرانوں سے نکالنے کے لئے اپنی تمام تر توجہ توانائی کے متعدد منصوبوں کی تکمیل پر مرکوز کی ہے اور اس مقصد کے لئے اپنے حقیقی دوست ملک سے دست تعاون حاصل کیا ۔ مزیدبرآں نندی پور پراجیکٹ پر کام تیزی سے جاری ہے اور محمد شہبازشریف اس منصوبہ پر ذاتی توجہ دے رہے ہیں۔ اپنے ایک بیان میں انھوں نے کہا ہے کہ اس سال مئی کے مہینے میں 150میگاواٹ بجلی قومی گرِڈ میں شامل ہوجائے گی۔ اس طرح بہاولپور میں قائداعظمؒ سولر پارک منصوبہ پر کام تیزی سے جاری ہے۔ اور چند ماہ تک 100 میگاواٹ شمسی توانائی سے برقی رو بہناشروع ہو جائے گی۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف اپنے دل میں ملک و قوم کو بحرانوں سے نجات دلانے کی جو تڑپ رکھتے ہیں اور اس مقصد کے لئے جس تندہی کے ساتھ چین کی قیادت سے تبادلہ خیال کرکے ان کا تعاون حاصل کرنے میں کوشاں تھے ان کی اسی سیاسی کیفیت کو دیکھتے ہوئے چین کے وزیر اعلیٰ وانگ ژی نے ملاقت کے دوران محمدشہبازشریف کو پاکستان کا مین آف ایکشن قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے درمیان بننے والی شاہراہ معیشت کی تعمیر میں محمدشہبازشریف کا اہم کردار ہے۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ۔ چینی وزیر اعلیٰ کا یہ کہنا تمام اخبارات میں شائع ہوچکا ہے اور امر واقع یہ ہے کہ پاکستان کے اس مین آف ایکشن نے پاکستان چین دوستی کی تجدید نوکا جو ڈول ڈالا ہے اس کے نتائج بلاشبہ ثمر آور ہوں گے۔ پاکستان میں خوشحالی کے دروازے کھلیں گے۔ اقتصادی ترقی کے باب یقینا رقم ہوں گے۔ اور اس کے نتیجے میں ملک میں پھیلی ہوئی بے چینی کی لہروں کے آگے بند باندھنے میں مدد ملے گی۔ کیونکہ عوام کو روزگار اور کاروبار کے مواقع ملیں گے۔پاکستان میں چین کے تعاون سے توانائی کے شعبے میں جو منصوبے مکمل ہوں گے۔ ان سے 20ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔ چین کراچی موٹروے کا لاہور ملتان سیکشن بھی تعمیر کرے گے۔

 اب یہ پاکستان کی آزمائش ہے کہ ان منصوبوں کی تکمیل میں کس حد تک چابکدستی سے کام لیاجاتا ہے۔ یقینا وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف اس معاملے میں بھی کامیاب و کامران ہونگے۔ اس معاملے میں پاکستان اور چین دونوں ملکوں کے عوام کی دعائیں ان کے شامل حال ہوں گی۔ محمد شہبازشریف نے بجاطور پر اس موقف کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان میں چینی سرمایہ کاری سے نہ صرف توانائی بحران پر قابو پانے میں مددملے گی۔ بلکہ اس کے نتیجے میں اقتصادی ترقی کی رفتار بھی بڑھے گی۔ اور پاکستان کے عوام اپنے دوست چین کی بے مثال ترقی کو مشعل راہ بناکر اپنے ملک کو ترقی کی ارتقائی منازل سے ہمکنار کرنے کی کامیاب جدوجہد کریں گے۔ اس کی بنیادی وجوہ میں ایک یہ بھی ہے کہ چین کی سیاسی قیادت کی طرح پاکستان کی موجودہ سیاسی قیادت بھی اب ان ہاتھوںمیں ہے جو قوم و ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن دیکھنے کے لئے عملی جدوجہد میں مصروف ہے۔ جس کی تازہ مثال محمد شہباز شریف کا چین سے ایسے تجارتی معاہدے کرنا اور توانائی کے منصوبوں کے لئے مخلصانہ تعاون حاصل کرنے میں کامیاب ہونا ہے۔ اس کی مثال ماضی کی کسی بھی حکومت اور حکمران کی کارکردگی سے نہیں ملتی۔وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف پر ایک ہی دھن سوار ہے کہ پاکستان کا عظیم دوست چین اگر چندعشروں میں ترقی اور خوشحالی کی منزلیں طے کرسکتا ہے توپاکستان اور اس کے عوام ایسے دوست کی تقلید میںترقی و خوشحالی کی منزل سے کیوں ہمکنار نہیں ہوسکتے۔قوم و ملک کو خوشحالی کی منزل تک پہنچانے کی اس تڑپ کے باعث چینی وزیر خارجہ نے بے ساختہ ان کے لئے مین آف ایکشن کا نام دیا ہے۔بلاشبہ محمد شہباز شریف ہمارے مین آف ایکشن ہیں۔

مزید :

کالم -