غیر ملکی ایجنسیوں کے لئے راستہ ہموار نہ کیا جائے

غیر ملکی ایجنسیوں کے لئے راستہ ہموار نہ کیا جائے

کمانڈروں کے اجلاس میں فوج نے طالبان کے ساتھ مذاکرات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ کہا گیا ہے کہ مذاکرات حکومت کا فیصلہ ہے انہیں منطقی انجام تک بھی حکومت ہی کو پہنچانا چاہئے۔ فوج کا کام دفاع ہے ، جنگی تیاریاں مکمل ہیں ، طالبا ن کے متعلق جو بھی فیصلہ ہوا اس پر عمل درآمد کریں گے۔فوج نے مذاکرات کے لئے اپنا نمائندہ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے ، تاہم مذاکرات میں آئی ایس آئی کا نمائندہ شرکت کرسکتا ہے۔ابھی تک حکومت کی طرف سے مذاکرات میں فوج کے نمائندے کی شرکت کے لئے نہیں کہا گیا۔ فوج کی طرف سے کہا گیا ہے کہ مذاکرات کے دوران اگر حکومت کو کسی قسم کی معلومات کی ضرورت پڑتی ہے تو اس سلسلے میں مکمل تعاون کیا جائے گا۔ فوج نے شمالی وزیرستان میں حاصل کئے گئے اہداف پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔کہا گیا ہے کہ دہشت گردوں کی طرف سے سرگرمیاں جاری رہیں تو ان کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ بی بی سی کے مطابق ایک سینئر فوجی افسر کا کہنا ہے کہ کوئی یہ توقع نہ رکھے کہ کہ فوج کسی مجرم یا قاتل کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھ جائے گی۔سینئر فوجی افسر نے بتایا کہ میڈیا میں دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات میں فوج کو شامل کرنے پر زوروں سے بحث جاری ہے، لیکن اس سلسلے میں حکومت اور فوج کے درمیان ابھی تک ابتدائی بات بھی نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ فوج کسی بھی تجویز پر غور کرنے کے لئے تیار ہے، لیکن اس تجویز کا کسی باضابطہ فورم پر موجود ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سارے معاملے پر غیر رسمی انداز میں بات چیت ہوتی رہتی ہے،ممکن ہے کہ کو ر کمانڈروں کے اجلاس میں بھی مذاکرات کے متعلق بات ہوئی ہو، لیکن اس پر فیصلہ اسی وقت لیا جائے گا، جب کوئی تجویز باضابطہ طور پر پیش کی جائے گی۔

 سابق آرمی چیف مرزا اسلم بیگ نے اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ فوج ڈائیلاگ کی حامی ہے، حکومت اور فوج میں اختلاف کی خبروں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ مذاکراتی عمل کو ناکام بنانے کے لئے دہشت گردی کی کارروائیوں میں موساد، ”را“ اور بلیک واٹر ملوث ہیں۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ کور کمانڈرز کانفرنس کا تعلق قومی سلامتی کے معاملات سے ہوتا ہے۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ حکومت اور فوج کے درمیان کوئی اختلاف ہے خام خیالی ہے۔ اگر طاقت کے استعمال کی ضرورت بھی پڑتی ہے، تو فیصلہ حکومت نے کرنا ہے، فوج نے عمل درآمد کرنا ہے۔ اس جنگ کے تین فریق ہیں۔ پاک فوج، فوج کے مخالف سرگرم قبائلی اور متاثرہ علاقوں کے عوام جبکہ حکومت کی حیثیت محض تماشائی کی ہے، لیکن خوش آئند امر یہ ہے کہ حکومت نے معاملات فوج پر نہیں چھوڑے، خود مذاکرات کا ڈول ڈالا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس سال کے اواخر تک افغانستان میں طالبان کی حکومت ہو گی۔ ہماری سرحدیں محفوظ بنیں گی اور دہشت گردی کا جن یہاں قابو میں آجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات میں طالبان کے گروپ ہی نہیں، بلکہ بیرونی ایجنسیاں بھی سرگرم ہیں، جنہوں نے افغانستان میں ملا فضل اللہ، مولوی فقیر محمد اور خالد خراسانی کو گود میں لے رکھا ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو طالبان کے خلاف اسی ماہ آپریشن ہو سکتا ہے۔ مارچ ہی میں مارچ کی تیاریاں مکمل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے بغیر مذاکرات کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ طالبان کی طرف سے اعلان کیا گیا ہے، تو مکمل جنگ بندی بھی ہونی چاہئے۔ اگرایسا نہ ہوا تو حکومت قبائلی علاقوں میں فوج بھیجنے اور اور شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر بمباری کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرے گی۔ اگر اب ملک، شہریوں یا فوج پر حملہ ہواتو ہم جواب دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کچہری میں حملے کی کڑیاں پنجابی طالبان سے بھی ملتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ثبوت ہیں کہ بھارت افغانستان میں مداخلت کر رہا ہے۔ ادھر وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ قیام امن کے لئے سنجیدہ ہیں اور دہشت گردی کا خاتمہ ہوگا۔ مولانا سمیع الحق نے طالبان کے خلاف آپریشن کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح پاکستان میں دس سال میں بھی امن قائم نہیں ہو سکے گا۔

مذاکرات کے آغاز میں حکومت کی طرف سے یہ بات کی گئی تھی کہ جو طالبان مذاکرات کرنا چاہتے ہیں ان سے بات چیت کی جائے گی، جو دہشت گردی سے باز نہیں آئے ان کے خلاف آپریشن ہو گا۔ غیر ملکی ایجنسیوں کی طرف سے دہشت گردی کرانے کے سلسلے میں پاکستان کے سابق آرمی چیف مرزا اسلم بیگ کی بات اہمیت کی حامل ہے۔ یہ ایجنسیاں طالبان کے مضبوط گروہوں اور پاکستان آرمی کے درمیان جنگ بندی نہیں چاہتےں اور ہمیں دہشت گردی کے نشانہ پر رکھنا چاہتی ہیں۔ وزیر دفاع خواجہ آصف کا یہ بیان ایک پختہ کار سیاست دان کی بصیرت کی عکاسی نہیں کرتا کہ اگر کسی طرف سے بھی دوبارہ دہشت گردی کی کوئی واردات کی گئی تو شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کیا جائے گا۔ یہ درست ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی یہ بہت خواہش ہے کہ پاکستانی فوج شمالی وزیرستان میں آپریشن کرے، جن کی یہ خواہش ہے اس سے فائدہ بھی انہی کو ہو گا۔ پاکستان کو کوئی بھی کام اپنے قومی مفاد کے خلاف ہرگز نہیں کرنا چاہئے۔ پہلے ہی ہم دہشت گردی اور قومی اتحاد اور یکجہتی کے مسائل سے دوچار ہیں۔ اب اگر مذاکرات کے ذریعے دہشت گردی میں ملوث بعض گروہ اور طالبان کی اکثریت امن قائم کرنے میں پاکستانی حکومت اور افواج کی مدد کے لئے تیار ہے۔ اپنے ماضی سے تائب ہوتی ہے تو ہمیں یہ موقع گنوانا نہیں چاہئے۔

 جو گروہ اور غیر ملکی ایجنسیوں کے کارندے ہر صورت میں پاکستان کو نقصان پہنچانے اور ہمیں کمزور کرنے کے مشن پر مقرر ہیں ان سے ہمیں لازماً نمٹنا ہو گا۔ ان کے خلاف ہماری جنگ طویل بھی ہو سکتی ہے، لیکن اگر طالبان کے اکثریتی گروہوں کے ساتھ ہم معاملہ کر لیتے ہیں، تو پھر یہ طالبان اتحادی افواج کے افغانستان سے جانے کے بعد افغانستان میں بھی قیام امن اور ایک حقیقی جمہوری حکومت کے قیام میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو اس میں پاکستان سے زیادہ طالبان کا اپنا اور بڑی حد تک افغانستان کا بھی نقصان ہو گا، جہاں پاکستان ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اتحادیوں اور امریکی حکومت اور ایجنسیوں کو بھی خطے میں امن قائم کرنے اور دہشت گردی سے پاک ماحول قائم کرنے کی منافقانہ باتیں کرنے کے بجائے، ہر طرح کی دہشت گردی سے اجتناب کرناہوگا۔ بھارت بھی اگر افغانستان میں کوئی کردار چاہتا ہے تو اس کے لئے اسے پاکستان کے ذریعے ہی سے راستہ ملے گا۔ پاکستان ہی اس وقت پورے خطے میں امن کی ضمانت دینے والی واحد طاقت ہے، لیکن اگر ہمارے دشمن ہماری ہر طرح کی کوششوں کے باوجود ہمارے اندرونی امن کے درپے رہتے ہیں،تو پھر ہمارے پاس بھی ان کو منہ توڑ جواب دینے کے سوا کوئی چارا نہیں رہے گا، جو طاقت ہمارے اندرونی امن کو تباہ کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگائے گی، ہم بھی اس کی مضبوطی اور استحکام کی بجائے ایسا ہی سلوک اس کے ساتھ کرنے پر مجبور ہوں گے۔ پاکستان اس خطے کی ایک بڑی اور اہم طاقت ہے، اس حقیقت کو نہ سمجھنے والے اور دشمن کی پیدا کی ہوئی فضا میں منفی طور پر خوش فہمی کا شکار رہنے والے لوگوں کو حقائق کے مکمل ادراک کے بعد راہ راست پر آنا چاہئے اور عوام کی خوشحالی اور فلاح کا راستہ اپنانا چاہئے۔ ہمارے حکمرانوں کی طرف سے کسی بھی دہشت گردی کے بعد طالبان کے خلاف کارروائی کرنے کی باتیں کرنا کسی بھی طرح سے قوم وملک کے مفاد میں نہیں ۔ اس طرح سے ہمارا امن و امان تباہ کرنے کی تمنا کرنے والی ہمارے ہاں سرگرم غیر ملکی ایجنسیوں کو شہ ملے گی کہ وہ مزید دہشت گردی کی کارروائیاں کر کے امن مذاکرات کو ناکام بنائیں اور ہمیں ایک نہ ختم ہونے والے بدامنی کے عمل میں پھنسائیں۔

کھیل کو کھیل ہی رہنے دیں

بھارتی ریاست اتر کھنڈ میں بھی ”پاکستان زندہ باد“ کے نعرے لگانے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، کہا جاتا ہے کہ ایک کالج کے کیمپس میں طلبا نے” پاکستان زندہ باد“ کے نعرے لگائے، اس سے پہلے میرٹھ(یو پی) کی ایک یونیورسٹی میں پاکستانی کھلاڑی شاہد آفریدی کے چھکوں پر داد دینے کے لئے تالیاں بجانے پر کشمیری طلباءکو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، اُن کے ہوسٹل پر حملہ کیا گیا اور 87طلباءکے خلاف غداری کا مقدمہ درج کر لیا گیا، جس کو بعد میں جگ ہنسائی کی وجہ سے واپس لینے کا اعلان تو کیا گیا ، لیکن ابھی تک مقدمہ باقاعدہ طور پر واپس نہیں لیا گیا۔

کرکٹ ایک کھیل ہے، اس میں جو دو ٹیمیں کھیلتی ہیں ان میں سے ایک فاتح بنتی ہے اور دوسری شکست سے دو چار ہوتی ہے، سپورٹس مین سپرٹ کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ اچھے کھیل کی داد دی جائے ، چاہے یہ کھیل کوئی بھی پیش کر رہا ہو، کوئی کھلاڑی ( یا کوئی ٹیم) اچھے کھیل کا مظاہرہ کرے تو داد بہرحال ملنی چاہئے ، لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ بھارت میں پاکستان دشمنی کے جذبات اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ وہاں پاکستان کے حق میں تالیاں بھی گوارا نہیں کی جاتیں، اگر اچھے کھیل کی داد نہ دی جائے تو کھیل کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے۔ کھیل تو قوموں کے درمیان رواداری اور برداشت کے جذبات پیدا کرتے ہیں اور کھیل میں جیت اور ہار تو ہوتی ہی ہے، اس لحاظ سے اگر کشمیری طلباءنے پاکستان کی جیت پر تالیاں بجا دیں یا کسی جگہ ”پاکستان زندہ باد“ کے نعرے لگ گئے تو اسے برداشت کیا جانا چاہئے، لیکن لگتا ہے عصبیت اور پاکستان مخالف جذبات نے ہندوستانی انتہا پسندوں کی آنکھوں پر تعصب کی پٹی باندھ دی ہے اور وہ اچھے کھیل کی داد دینے کی صلاحیت سے بھی عاری ہوگئے ہیں، اس طرح تو کھیلوں کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے، انتہاپسندوں کو اپنے اس روئیے پر نظر ثانی کرنی چاہئے اور اگر کسی جگہ اچھے کھیل کی داد دی جارہی ہو تو اسے برداشت کرنا چاہئے کہ کھیل یہی جذبہ پیدا کرنے کے لئے کھیلے جاتے ہیں۔

مزید : اداریہ