لا پتہ افرادکا معاملہ دن بدن سنگین ہوتا جا رہا ہے،ڈاکٹر وسیم اختر

لا پتہ افرادکا معاملہ دن بدن سنگین ہوتا جا رہا ہے،ڈاکٹر وسیم اختر

 لاہور(سٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی پنجاب ڈاکٹر سید وسیم اختر نے کہاہے کہ لاپتہ افراد کا معاملہ دن بدن سنگین ہوتاچلاجارہاہے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے وخفیہ ایجنسیاں سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل درآمدنہیں کررہے اداروں کی جانب سے غیر سنجیدگی ملکی آئین وقانون اور انسانی بنیادی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے سپریم کورٹ کی خدمات قابل تحسین ہیںحکمران اگر شہریوں کاتحفظ نہیں کرسکتے توانہیں حکومت میں رہنے کا کوئی حق نہیں18کروڑ عوام کے مینڈیٹ کی توہین کی جارہی ہے لاپتہ افرد کامسئلہ دنیا بھر میں پاکستان کی بدنامی کاسبب بن رہا ہے ملک کی عدالتیں آزاد ہیں اگر کسی نے کوئی جرم کیا ہے تو اسے ثبوت کے ساتھ عدالتوں میں پیش کیا جائے تاکہ انہیں آئین وقانون کے مطابق سزامل سکے لوگوں کو ماورائے آئین وقانون اٹھا کرکئی کئی برسوں تک عقوبت خانوں میں رکھنا انسانیت کی تذلیل کے مترادف ہے اس گھناﺅنے کھیل میں ملوث افراد چاہے وہ کسی بھی ادارے سے وابستہ ہوں کو قانون کی گرفت میں لانا چاہئے جماعت اسلامی کے رہنماڈاکٹر سید وسیم اختر نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ نوازشریف حکومت آئینی ذمہ داریاں اداکرتے ہوئے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی واپسی سمیت تمام لاپتہ افراد کو فی الفور بازیاب کرائے ملک میں”جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا“قانون زیادہ عرصہ تک نہیں چل سکتااداروں کو تصادم کی فضاءختم کرتے ہوئے اپنی آئینی حدود میں رہ کرکام کرنا ہوگا اسی میں ملکی استحکام اور سلامتی ہے میڈیا رپورٹ کے مطابق لاپتہ افراد تحقیقاتی کمیشن نے اب تک مزید 17افراد کاسراغ لگایاہے جبکہ دوافراد کی مسخ شدہ لاشیں ملی ہیںان میں12افراد لکی مروت اور کوہاٹ کے بحالی مراکز میں موجود ہیں۔       

مزید : میٹروپولیٹن 1