مساجد کو عبادت ساتھ ساتھ کمیونٹی سنٹر کے طور پر بروئے کار لایا جائے ،مجیب الرحمن شامی

مساجد کو عبادت ساتھ ساتھ کمیونٹی سنٹر کے طور پر بروئے کار لایا جائے ،مجیب ...

                                                                                                      لاہور( خصوصی رپورٹ) چیف ایڈیٹر روزنامہ”پاکستان“ مجیب الرحمن شامی نے کہا ہے کہ سول سروسز کی طرح اسلامک سروسز آف پاکستان کو بھی ریگولرائز کرنے کی ضرورت ہے، مساجد کو عبادت کے ساتھ ساتھ کمیونٹی سنٹرز کے طور پر بھی بروئے کار لایا جائے اس امر کااظہار انہوں نے مسجد مکتب مرکز”الکریم سکول“ ہربنس پورہ میں اپنے اعزاز میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر الکریم سکول کے چیئرمین اسلم خان اور پاک ہیلپ لائن کے جنرل سیکرٹری میاں اخلاق الرحمن نے بھی اظہار خیال کیا مجیب الرحمن شامی نے کہا کہ اسلام کی عظمت کا مظہر ادارہ مسجد بدقسمتی سے ہمارے ہاں سب سے غیر فعال حیثیت اختیار کرچکی ہے، حالانکہ زمانہ قدیم میں مساجد کو چین اور مختلف ممالک میں کمیونٹی سنٹر کا مقام حاصل تھا، انہوں نے کہاکہ اسلام کے نام پر بننے والے ملک پاکستان میں حکومت مسجد کے معاملہ میں بالکل ہی غیر متعلق ہوچکی ہے اور مساجد کے نظام کو چلانے کے لئے حکومت کا کوئی کردار ہی نظر نہیں آرہا، حالانکہ سعودی عرب میں پروفیسر حضرات نماز جمعہ کا خطبہ دیتے ہیں اور وہاں مساجد کے امام گریجویٹ ہیں، لیکن پاکستان میں حکومت مساجد جیسے اہم شعبے سے بالکل لاتعلق ہے، البتہ جنرل ضیاءالحق کے دور میں مسجد مکتب سکیم کے تحت مساجد میں سکولوں کے اجراءکی کوشش کی گئی ، لیکن بیورو کریسی نے ان کی ایک نہ چلنے دی مجیب الرحمن شامی نے مسجد مکتب ”الکریم سکول“ ہربنس پورہ کے قیام اور اجراءکو ایک رول ماڈل قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسجد کے نظام کو فعال اور موثر بنانے کے لئے حکومت قانون سازی کے ذریعے مسجد کی تعمیر وتربیت ایک نقشے کے مطابق ہونا لازم قراردے، جس کے تحت فریضہ نماز کے ساتھ ساتھ سکول اور دیگر سہولتوں کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا جائے، انہوں نے کہاکہ مسجد مکتب میں مستحق اور غریب بچوں کو تعلیم دینے سے بڑے بڑے ٹیلنٹ دریافت ہوسکتے ہیں اہلِ ثروت کو آگے بڑھ کر مسجد مکتب الکریم سکول جیسے ادارے ملک بھر میں قائم کرنے چاہئیں۔

مزید : میٹروپولیٹن 1