کشمیری طلبہ کے ساتھ امتیازی سلوک کیخلاف احتجاجی ریلی یاسمین ملک 20ساتھیوں سمیت گرفتار

کشمیری طلبہ کے ساتھ امتیازی سلوک کیخلاف احتجاجی ریلی یاسمین ملک 20ساتھیوں ...

              سرینگر (اے این این) بھارت میں کشمیری طلباءکے ساتھ امتیازی سلوک اور بغاوت کے مقدمے کے خلاف احتجاج کے دوران بھارتی فوج اور پولیس کا دھاوا،جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین یاسین ملک زخمی حالت میں20سے زائد ساتھیوں سمیت گرفتار،پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ،پتھراو¿ اور لاٹھی چارج میں متعدد زخمی ہو گئے،مقبوضہ کشمیر میں احتجاجی ریلیوں کا سلسلہ جاری نظام زندگی رہم برہم ہو کر رہ گیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک کو ایک درجن فرنٹ قائدین کے ہمراہ اس وقت گرفتار کرلیا گیا جب وہ کشمیری طالبعلموں کے خلاف میرٹھ اور دوسرے بھارتی شہروں میں جاری جبر وتشدد‘ انہیں کالجوں اور یونیورسٹیوں سے بے دخل کرکے ان کے مستقبل کے ساتھ کھیلنے اور ان کے خلاف سخت ترین کیس درج کرنے کے خلاف لال چوک کی جانب ایک پروقار احتجاجی ریلی کی قیادت کررہے تھے۔ یاسین ملک کے ہمراہ گرفتار ہونے والوں میں فرنٹ کے سینئر قائدین نور محمد کلووال‘ شوکت احمد بخشی‘ جاوید احمد زرگر‘ مشتاق اجمل‘ شیخ عبدالرشید‘ بشیر احمد کشمیری‘ پروفیسر جاوید‘ غلام محمد ڈار‘ محمد عظیم زرگر‘ شاہد مکایا ایڈووکیٹ محمد امین ملہ‘ ایڈووکیٹ بابر قادری‘ ایڈووکیٹ شیخ الصباح‘ ایڈووکیٹ غیور احمد‘ ایڈووکیٹ تنویر اور ایڈووکیٹ بشیر احمد پلوامہ‘ اسیر جاوید احمد خان کے والد محمد شفیع خان اور دگر شامل ہیں۔احتجاجی ریلی میںمختلف کالجوں اور سکولوں میں زیرتعلیم طلبا کی بڑی تعداد بھی شامل تھی۔ پولیس نے احتجاجی جلوس کو روکنے کے لئے علاقے کو گھیر رکھا تھا اور لال چوک کی طرف ن کلنے والی سڑک کو گاڑیاں لگا کر سیل کردیا تھا۔ اس اقدام کے باوجود پرجوش شرکاءجلوس آگے بڑھتے رہے۔ یہ جلوس جب بڈشاہ چوک کے قریب پہنچا تو پولیس اور فورسز نے اس کا راستہ روک لیا اس موقع پر جوانوں اور دوسرے شرکاءجلوس نے کافی دیر تک پولیس کی مزاحمت کی اور فوج اور پولیس کے اہلکاروں پر پتھراو¿ کیا۔سکیورٹی اہلکاروں نے بھی لاٹھی چارج کیا جس سے یاسین ملک سمیت کئی لوگ زخمی بھی ہوگئے۔ اس موقع پر یاسین ملک اور دوسرے قائدین کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ پولیس کی سخت ترین زیادتی کے باوجود شرکاءجلوس خاص طور پر نوجوانوں اور طلبا کا پرامن احتجاج اور مزاحمت قابل دید تھا۔ گرفتاری سے قبل یاسین ملک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ کشمیری اپنے نونہالوں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کریں گے۔ یاسین ملک نے کہاکہ بھارت کے شہروں میں زیرتعلیم کشمیری طلبا کی حفاظت بھارتی حکومت کی ذمہ داری ہے اور میرٹھ یو پی اور دوسرے بھارتی شہروں میں کشمیری طلبا کو ہراساں کرنے کا عمل ہر لحاظ سے قابل مذمت ہے۔ یاسین ملک نے کہاکہ آج کا یہ مثالی پرامن احتجاج بھارت کے شہروں میں زیرتعلیم ان ہزاروں طلبا و طالبات کے شہروں میں زیرتعلیم ان ہزاروں طلبا و طالبات کے ساتھ یکجہتی کا اظہار ہے جو میرٹھ میں طلبا پر ڈھائے جانے والے مظالم کے بعد خوف و ہراس کا شکار ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ میرٹھ اور دوسرے ہندوستانی شہروں میں زیرتعلیم کشمیری طالب کے خلاف روا رکھے جانے والے مذموم رویے‘ میرٹھ میں دو درجن کے قریب کشمیری طالبعلموں کی مارپیٹ انہیں یونیورسٹی سے بے دخل کردینے اور اب ا ن کے خلاف غداری کا مقدمہ دائر کرکے ان کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کرنے کا سلسلہ دراصل بھارتی جمہوریت اور کھلے پن کے کھوکھلے دعو¶ں کا عکاس ہے۔ انہوں نے کہاکہ بھارت کی تحریک آزادی کے سرخیل گاندھی جی اور پنڈت نہرو بھی برطانیہ میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے اسی ملک سے ہندوستان کی آزادی کی تحریک آزادی چلا رہے تھے لیکن کبھی بھی انہیں برطانیہ نے نہ ہی یونیورسٹیوں سے بے دخل کیا اور نہ ہی کسی دوسرے جبر کانشانہ بنایا۔ اس کے برعکس آج بھارت جو اپنے آپ کو دنیا کی بڑی جمہوریت کہلواتا پھرتا ہے کشمیری طلبا کے خلاف گھنا¶نا رویہ اپنائے ہوئے ہے۔ یاسین ملک نے کہاکہ بھارتی حکام کا یہ رویہ ہر لحاظ سے ان کی منفی ذہنیت متعصبانہ سوچ اور کشمیریوں کے خلاف ضد و عناد کا عکاس ہے۔ یاسین ملک بھارتی حکمرانوں اور ہندوستان کی سول سوسائٹی پر زور دیتے ہوئے کہاکہ بھارت کے شہروں میں زیرتعلیم کشمیری طلبا کی حفاظت ان کا اخلاقی اور قانونی فریضہ ہے اور یہ کہ کشمیری اپنے نونہالوں کے مستقبل کے ساتھ کسی بھی کھلواڑ کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کریں گے۔ یاسین ملک نے کہاکہ اگر بھارت کے حکمران سمجھتے ہیں کہ اس قسم کے جبر سے وہ ہماری تحریک اور جذبہ مزاحمت کو دبانے میں کامیاب ہوں گے تو یہ ان کی بھول ہے کیونکہ جبر‘ ظلم‘ استعمار اور طاقت کے استعمال سے کسی قوم کے جذبہ کو شکست نہیں دی جاسکتی ہے بلکہ اس سے مزاحمت کے جذبے کو تقویت اور جلا نصیب ہوا کرتی ہے

یاسین ملک

مزید : صفحہ آخر