اداروں کے بورڈ آف گورنرز میں خواتین کی نمائندگی کابل منظور

اداروں کے بورڈ آف گورنرز میں خواتین کی نمائندگی کابل منظور

                                                         لاہور( سپیشل رپورٹر)پنجاب اسمبلی نے خواتین کے عالمی دن کے موقع پر خصوصی اجلاس 25ہزار 992 خواتین کو پنجاب کے مختلف سرکاری و پرائیویٹ اداروںکے بورڈ آف گورنرز اور دیگر فیصلہ ساز شعبوںمیں مناسب نمائندگی کا بل 2014ءمنظور کرلیا ہے، اس حوالے سے اپوزیشن کی ترامیم کو کثرت رائے سے مسترد کر دیاگےا ،خصوصی اجلاس میں خواتین کو بھرپور خراج تحسین پیش کرنے اور پنجاب میں ایک پنجاب خواتین پارلیمانی گروپ قائم کرنے کی قرار داد بھی متفقہ طور پر منظور کی گئی۔ بل کی منظوری سے پہلے اپنی ترامیم پر بات کرتے ہوئے اپوزیشن نے اس بل کو قانون سازی کے نام پر ایک حکومتی ”ڈرامہ او رشعبدہ بازی “ قرار دیا ۔اس کے جواب میں وزیر قانون راناثناءاللہ نے اپوزیشن سے کہا کہ اس نے اس بل کے حوالے سے بات کرنے کی بجائے ادھر ادھر کی باتوں پر وقت ضائع کیا ہے اور خود کو طالبان کے ساتھ ساتھ خواتین کی ترقی کا مخالف قرار دیا ہے ، اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید کی جانب سے وزیر قانون کو پیدائشی ”نیگیٹو “کہنے پر حکومتی ارکان نے شدید احتجاج کیا جس پر ڈپٹی سپیکر شیر علی گورچانی نے ےہ الفاظ کارروائی سے حذف کرنے کا حکم دیا۔ تفصیل کے مطابق خواتین کے عالمی دن کے موقع پر پنجاب اسمبلی کا خصوصی اجلاس اپنے مقررہ وقت دوپہر دو بجے کی بجائے ایک گھنٹہ دس منٹ کی تاخیر سے تین بجکر دس منٹ پر ڈپٹی سپیکر سردار شیر علی گورچانی کی صدارت میں شروع ہوا ۔اجلاس کے آغاز میں وزیر قانون رانا ثناءاللہ نے قواعد کی معطلی کی ایک تحریک پیش کی جس کے بعد صوبائی وزیر برائے خواتین و ترقی حمیدہ وحید الدین نے خواتین کو خراج تحسین پیش کرنے کےلئے قرار داد پیش کی ،قراردادمےںکہا گیا کہ پنجاب اسمبلی کا یہ ایوان خواتین کے عالمی دن کے موقع پر بابائے قوم محمد علی جناح ؒ کی بصیرت کی روشنی میں پاکستان کی خواتین کو معاشی ، سماجی اور سیاسی شعبوں میں پاکستان کے مساوی شہری کے طور پر قومی دھارے میں لانے کےلئے اپنی بھر پو روابستگی اور حمایت کا اظہار کرتا ہے نیز اس ضمن میں حکومت پنجاب کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتا ہے اور اس امر کی سفارش کرتا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے تحت خواتین کے حقوق اور ترقی کےلئے صوبہ بھر میں پنجاب خواتین پارلیمانی گروپ قائم کیا جائے اس قرار دادکو متفقہ طور پرمنظور کرلیا گیا جبکہ دوسری قرار داد مسلم لےگ (ن)کی حنا پرویز بٹ نے خواتین کو خراج تحسین پیش کرنے کی قرار داد قواعد کی معطلی کے بعد پیش کی اسے بھی متفقہ طو رپر منظور کرلیا گیاجبکہ اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید نے کہاکہ آج خواتین کے حقوق کی بات کرنے والے پنجاب کے حکمرانوں کو اس سے پہلے خواتین کی ترقی اور خوشحالی کا خیال کیوں نہیں آیا، 2012میں بھی پنجاب حکومت نے خواتین کی ترقی کےلئے ایک پیکج کا اعلان کیا جس پر آج تک عمل نہیں ہو سکا اور صوبے میں خواتین پر جنسی تشدد اور انہیں ہراساں کرنے کے واقعات میں ہر سال مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور صرف صوبائی وزیر قانون راناثناءاللہ خان کے شہر میں ایک سال کے دوران 1جنسی تشدد کے ہزار 38 واقعات ہوئے، صوبے میں 47ہزار سے زائد لیڈیز ہیلتھ ورکرز 20سال سے ریگولر ہونے کے لئے دربدر ہیں اور وہ دو دن تک پنجاب اسمبلی کے سامنے سراپا احتجاج رہیں اس وقت حکمرانوں کی عزت اور غیرت کہاں تھی۔ لاہور میں 5سالہ سنبل کے ساتھ زیادتی ہوئی لیکن آج تک اس کے ملزم پکڑے نہ جا سکے اور ایسی ہزاروں سنبل ہیں جو انصاف کےلئے پکار رہی ہیں مگر ان کی کوئی بات سننے کو تیار نہیں، حکومتی اقدامات صرف سیاسی مشہوری ہیں جن سے عام خواتین کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا اور حکومت نے انتہائی عجلت میں خواتین کو مناسب نمائندگی کا بل ایوان میں منظوری کےلئے پیش کیا یہ ایک اچھا بل ہے لیکن اس کےلئے جو طریقہ کار اپنایا گیا ہے وہ اچھا نہیں ہے ،اس پر صوبائی وزیر قانون راناثناءاللہ خان نے شدید احتجاج کیا اور کہاکہ جس طرح طالبان کو خواتین کی ترقی پسند نہیں اسی طرح تحریک انصاف کو بھی خواتین کی ترقی پسند نہیں آتی اور دنیا میں صرف 2ہی لوگ ہیں جو خواتین کی ترقی کی مخالفت کر رہے ہیں جن میں طالبان اور تحریک انصاف شامل ہے ۔انہوںنے کہاکہ اپوزیشن نے خواتین کے بل کےلئے جو ترامیم دی ہیں ان پر تاریخ ستمبر 2013لکھی ہوئی ہے حالانکہ اب 2014ءآ چکا ہے ۔پیپلزپارٹی کی رکن اسمبلی فائزہ ملک نے کہاکہ پنجاب حکومت صوبے کی دیگر خواتین کو حقوق دینے سے پہلے پنجاب اسمبلی میں مخصوص نشستوں پر آنے والی خواتین کو ان کے حقوق دے، ایک طرف خاتون اراکین اسمبلی کا استحصال کیا جا رہاہے تو دوسری طرف صوبے میں خواتین کو ان کے حقوق دینے کی بات ہو رہی ہے، حکومت کو چاہیے کہ وہ سب سے پہلے اپنے گھرمیں خواتین کو حقوق دے پھر کوئی بات کرے۔ یہاں تو خواتین کو ترقیاتی فنڈز اور اضلاع کی سطح پر ڈی سی سی کی کمیٹیوں میں نمائندگیاںبھی نہیں دی جا رہیں ۔تحریک انصاف کے میاں اسلم اقبال نے کہاکہ صوبے میں لوگ بے روزگاری سے مر رہے ہیں جبکہ حکومت سر سے اخروٹ توڑنے اور الٹی سیدھی بنیانیں پہننے کے ریکارڈ بنوانے میں مصروف ہیں ،ان ریکارڈ ز سے عام آدمی اور خواتین کو کیا فائدہ ہو گا، حکمران صرف سیاسی شعبدہ بازی اور ڈراما بازی میں مصروف ہیں مگر وہ قوم کو بے وقوف نہیں بنا سکتے ۔انہوںنے کہاکہ صوبے میں آج بھی ہزاروں خواتین زچگی کے دوران دنیا سے رخصت ہو جاتی ہیں لیکن ان کےلئے کوئی کچھ نہیں کرتا ، حکومت خواتین کو مناسب نمائندگی کے حوالے سے جو بل لائی ہے اس سے عام خاتون اور ورکرخواتین کی زندگی میں کوئی بہتری نہیں آئے گی صوبے میں کئی خواتین پر تیزاب پھینکے گئے لیکن انہےںانصاف نہیں مل سکا ۔تحریک انصاف کے ڈاکٹر مراد راس نے کہاکہ حکومتی اقدامات صرف ڈرامہ اور شعبدہ بازی ہے اور آج بھی ہزاروں بچے بچیاں سکول داخل نہیں ہو رہیں کیا وہ اس قوم کی بیٹیاں نہیں ہیں ۔تحریک انصاف کی سعدیہ سہیل نے کہاکہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی عمران خان، آصف علی زرداری ، نوازشریف اور شہبازشریف کی بیٹی ہے لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ ان غیرت مند بھائیوں کی بہن ڈاکٹر عافیہ صدیقی امریکہ میں بے آبرو ہوتی رہے ۔ خواتین کے عالمی دن کے موقع پر حکومت ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو وطن واپس لانے کا اعلان کرے۔ مسلم لیگ (ق) کے عامر سلطان چیمہ نے کہاکہ موجودہ حکومت ہرسا ل خواتین کی ترقی کےلئے صرف نعرے لگاتی ہے لیکن عملی طور پر کچھ نہیں کرتی چودھری پرویز الہٰی کے دورمیں خواتین کی ترقی کےلئے عملی اقدامات کئے گئے ۔ تحریک انصاف کے سردار سبطین خان نے کہاکہ حکومت نے ماضی میں بھی خواتین کی ترقی کےلئے جو وعدے کئے ان پر عمل نہیں کیا اس لئے آئندہ بھی حکمرانوں سے کسی خیر کی توقع نہیں۔ اپوزیشن کی تقاریر کے بعد ڈپٹی سپیکر سردار شیر علی گورچانی نے پنجاب کے مختلف سرکاری اور پرائیویٹ اداروں میں فیصلہ ساز شعبوں میں خواتین کو نمائندگی دینے کےلئے مناسب نمائندگی کا بل2014ءاےوان میں پیش کرنے کے لئے وزیرقانون سے کہا، جس کے بعد اس پر ووٹننگ کروائی گئی اور بل کو منظور کرلیا ،اور اپوزیشن کی ترامیم مسترد کر دی گئےں۔اس کے بعد ڈپٹی سپیکر نے قائد اےوان وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کو ایوان میں خطاب کر نے کی دعوت دی۔

پنجاب اسمبلی

مزید : صفحہ اول