کھل جائیں گے ملاقات میں، مطالبہ قیدیوں کا تبادلہ؟

کھل جائیں گے ملاقات میں، مطالبہ قیدیوں کا تبادلہ؟

تجزیہ، چودھری خادم حسین

توقع کے مطابق عسکری قیادت نے کالعدم تحریک طالبان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں براہ راست شرکت سے معذوری ظاہر کر دی ہے اور اس فیصلے سے وزیراعظم کو بھی آگاہ کر دیا گیا۔ البتہ اتنی گنجائش موجود ہے کہ اگر حکومت نے ضرورت محسوس کی تو فوج کی طرف سے معاونت کے لئے آئی ایس آئی کے کسی افسر کی خدمات سرکاری کمیٹی کو دی جا سکیں گی۔ اس سلسلے میں ایک غلط فہمی کا ازالہ ضروری ہے وہ یہ کہ فوج کی نمائندگی کا فیصلہ حکومتی نہیں تھا۔ یہ تو مولانا سمیع الحق کی تجویز تھی جو براہ راست فوج اور کالعدم تحریک طالبان کو آمنے سامنے بٹھانا چاہتے ہیں، اسی طرح کمیٹی کی تشکیل نو اور موجودہ کمیٹی کو ختم کرنے کی بھی تجویز ہے جو میجر(ر) عامر پیش کرتے چلے جا رہے ہیں۔ وزیراعظم کی طرف سے تو سابقہ کمیٹی بحال رکھتے ہوئے اس میں توسیع کا عندیہ دیا گیا تھا۔ بہرحال حتمی فیصلہ وزیراعظم کے ساتھ آرمی چیف کی ملاقات کے بعد ہو گا۔ مولانا سمیع الحق تو اور بھی بہت کچھ کہیں گے، ضروری نہیں کہ عسکری اور سیاسی قیادت تسلیم بھی کر لے، یہ فیصلہ بہرحال وزیراعظم نے کرنا ہے۔ اب تو بقول مولانا سمیع الحق کالعدم تحریک طالبان سے شمالی وزیرستان میں ملاقات ہونا ہے، اس کے لئے طالبان کی نمائندگی کرنے والی کمیٹی تو ہو گی۔ سرکاری کمیٹی کی طرف سے میجر(ر) عامر، رستم شاہ مہمند اور رحیم اللہ یوسفزئی میں سے کوئی دو صاحب یا یہ تینوں ساتھ ہوں گے اور آمنے سامنے بات ہو گی۔

باور کیا جاتا ہے کہ اصل معاملہ اس ملاقات میں سامنے آئے گا جب ٹی ٹی پی کی طرف سے قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ پیش ہو گا۔ یہ مطالبہ نہیں، بلکہ پیشکش کے طور پر بات ہو گی کہ ٹی ٹی پی والے وائس چانسلر ڈاکٹر اجمل، سید یوسف رضا گیلانی اور سلمان تاثیر کے صاحبزادوں سمیت سیکیورٹی ایجنسیوں کے اہلکاروں کو رہا کرتے ہیں اور تبادلے میں ان کے ساتھی دے دیئے جائیں۔ یوں قیدیوں کا تبادلہ ہو، جیسے دو متحارب ملک کرتے ہیں۔ پاکستان میں جو لوگ زیر حراست ہیں ان میں صرف زیر سماعت مقدمات یا نظر بندی والے نہیں، وہ لوگ بھی ہیں جن کو موت کی سزا ہو چکی، ان میں سے بعض کے ریڈ وارنٹ تک جاری ہوئے، سزا پر عمل معطل ہے۔ یہ بہت مشکل مرحلہ ہے۔ کالعدم تحریک طالبان والے یہ پہلے مرحلے میں کروانا چاہیں گے، جبکہ حکومت کے مشیر اور عسکری ذرائع اسے ایک چال تصور کریں گے اور کر رہے ہیں کہ یہ حضرات اس میں کامیاب ہونے کے بعد مصالحت کو پش پشت ڈال دیں گے جیسا کہ پہلے بھی ہو چکا ہوا ہ، اس بڑے مطالبے کے علاوہ باقی مطالبات سنجیدہ نہیں لئے جا رہے ہیں، جبکہ حکومت مکمل امن کے عوض شدت پسندوں کو عام معافی دے کر قومی دھارے میں سیاست میں حصہ لینے پر آمادہ کرنا چاہتی ہے۔ اس سلسلے میں فاٹا میں اصلاحات کے حوالے سے تفصیلی بات ہو سکتی ہے، جس کے لئے مشترکہ کمیٹی بنائی جا سکتی ہے۔ حکومت زیر حراست لوگوں کی رہائی کو آخر میں رکھنا پسند کرے گی۔

الزام تو یہ لگایا جاتا ہے کہ مذاکرات کے عمل کو باہر سے سبوتاژ کیا جاتا ہے، جبکہ یہاں خواجہ آصف اور مولانا سمیع الحق کے درمیان مکالمہ بازی شروع ہو گئی ہے۔ مولانا سمیع الحق نے جوابی طور پر پھر وسیع خون خرابے اور حکومتی ناکامی کی بات کی اور کہا کہ آپریشن ہوا تو دس سال تک بھی کامیاب نہیں ہو سکتا، جبکہ عسکری اور سیاسی حلقوں اور تجزیہ نگاروں کا یقین ہے کہ فضائی کارروائی نے شدت پسندوں کو مجبور کی اور فوج اب بھی قابو پانے پر قادر ہے۔ تاہم اگر بات فوجی کارروائی اور خون خرابے کے بغیر بنتی ہے تو کون اس سے انکار کر سکتا ہے۔ بہرحال ابھی کپ اور ہونٹوں کے درمیان کئی رکاوٹیں ہیں جن کو عبور کرنے کر کے ہی چسکی لی جا سکتی ہے۔ وقت کا انتظار ہی کرنا ہو گا۔

ادھر وزیر داخلہ غالباً مطمئن ہیں کہ ان کی ذات محور ہیں اور بدنام جو ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا، کے مترادف وہ تنازعات پیدا کرتے چلے جا رہے ہیں، حالانکہ ان کو فاضل جج کی موت اور وقوعہ کے حوالے سے متعلقہ حکام سے باز پُرس کرنا چاہئے، جو ان کو رپورٹ دیتے ہیں لیکن ان کو کسی کی پرواہ نہیں، شاید زیادہ ہی خود اعتماد ہیں۔ اب تو حزب اختلاف کی طرف سے رانا ثناءاللہ کے بعد ان کو شدت پسندوں کا ساتھی کہا جا رہا ہے۔

مزید : صفحہ اول