حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی سخت علیل ہو گئے

حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی سخت علیل ہو گئے

سرینگر(کے پی آئی) کل جماعتی حرےت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی سخت علیل ہو گئے ہیں اور وہ حد سے زیادہ کمزوری اور نقاہت محسوس کر رہے ہیں ۔ حریت ترجمان ایاز اکبر نے گیلانی کی صحت کے بارے میں تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ موصوف کی صحت اگرچہ کئی دن سے ناساز چلی آ رہی تھی البتہ جمعرات کی شام سے ان کی چھاتی میںتکلیف بڑھ گئی ہے اور ان کا پورا بدن درد محسوس کر رہا ہے وہ بات کرنے میں بھی دقت محسوس کرتے ہیں اور بہت زیادہ کنجشن ( Congesion)کی وجہ سے کھانے پینے میں بھی انہیں تکلیف درپیش آ رہی ہے ترجمان نے کہا کہ گیلانی کا وزن 10 کلو گھٹ گیا ہے اور وہ بہت کمزور ہو گئے ہیں ۔ پچھلے ہفتے دہلی کے ایسکارٹ ( Escort) ہسپتال میں انکے کئی ٹیسٹ کرائے گئے اور ڈاکٹر سمیرکول نے ان کا طبی معائنہ کیا ۔ گیلانی 5 مارچ کو سرینگر پہنچے تو ان کی چھاتی میں تکلیف تھی جس میں 6 مارچ کو اضافہ ہوا اور اس دن شام سے وہ زبردست بے قراری محسوس کرنے لگے ہیں ڈاکٹر نوید نذیرنے ان کا چیک اپ کیا اور کئی دوائیاں تجویز کیں جو وہ باقاعدگی کے ساتھ لے رہے ہیں تحریک حریت کے مرکزی ذمہ دداروں کی حیدر پورہ میں ایک میٹنگ ہوئی جس میں گیلانی کو ہسپتال میں داخل کرانے کی تجویز بھی زیر بحث آئی ۔ البتہ موصوف نے اس پرخود آمادگی کا اظہار نہیں کیا ۔ حریت کانفرنس اور تحریک ہریت نے آزادی پسند عوام سے درد مندانہ اپیل کی ہے کہ وہ قائد تحریک کی صحت یابی کے لئے خصوصی دعاﺅں کا اہتمام کریں حریت ترجمان نے البتہ لوگوں سے التماس کیا کہ گیلانی چونکہ اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ وہ لوگوں کے ساتھ ملنے ملانے کی زحمت اٹھائیں لہذا ان کی ملاقات کے لئے آنے کی کوئی تکلیف نہ اٹھائی جائے ادھر دختر ان ملت کا ایک اعلی سطحی وفد آسیہ اندرابی کی قیادت میں گیلانی کی عیادت کے لئے حیدرپورہ گیا۔ گیلانی کی رہائش گاہ پر تعینات پولیس کی بھاری نفری نے اگرچہ پہلے وفد کو اندر جانے کی اجازت نہ دی تاہم بعدازاں اندر جانے کی اجازت دی گئی ہے ۔ آسیہ اندرابی کا کہنا تھا کہ انہوں نے پہلی بار قائد حریت کو اتنا بیمار دیکھا ہے ان کا کہنا تھا کہ گیلانی بات کرنے بھی سکت نہیں رکھتے ہیں ۔ محترمہ نے اس موقع پر انہیں محبوس مفسر قرآن ڈاکٹر محمد قاسم کی تفسیر احسن الحدیث بھی پیش کی ۔ گیلانی نے تفسیر کو چوم کر اپنے سینے سے لگایا اور زار و قطار روئے ۔ محترمہ کا کہنا تھا کہ ہم تمام مسلمانان جموں وکشمیر سے اپیل کرتی ہیں کہ وہ اس مخلص قائد بے بدل کی صحت یابی کے لئے اللہ کی بارگاہ میں خصوصی دعاﺅں کا اہتمام کریں کیونکہ اس فراش قائد نے اپنے بچپن سے ہی زندگی کا ہر لمحہ کشمیری مسلمانوں کی بقاء، تحفظ اور اعلا کلمتہ اللہ کے لئے وقف کیا ہے اور آج بستر علالت پر بھی ان کو اپنی قوم کی فکر چین نہیں لینے دے رہی ۔

مزید : صفحہ اول