کیا ملائیشیا کا لاپتہ طیارہ دہشت گردی کا نشانہ بنا؟ تحقیقات شروع

کیا ملائیشیا کا لاپتہ طیارہ دہشت گردی کا نشانہ بنا؟ تحقیقات شروع
کیا ملائیشیا کا لاپتہ طیارہ دہشت گردی کا نشانہ بنا؟ تحقیقات شروع

  

کوالا لمپور (مانیٹرنگ ڈیسک) ملائیشیا کے لاپتہ ہونے اور ممکنہ طور پر ویت نام کے سمندر میں غرق ہونے والے مسافر طیارے کو دہشت گردی کی کارروائی تصور کیا جارہا ہے جس کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔ ملائیشین حکام کے مطابق جہاز میں سواردو افراد کے بارے میں تفتیش شروع کی گئی ہے جو چوری شدہ پاسپورٹ پر سفر کررہے تھے۔ بیجنگ کے لئے روانہ ہونے والے اس جہاز میں 239 افراد سوار تھے جو پرواز کے کچھ دیر بعد ویت نام کی حدود میں ریڈار سے غائب ہوگیا تھا۔ حکام کے مطابق جہاز میں کم از کم دو ایسے افراد سوار ہوئے تھے جو چوری شدہ یورپی پاسپورٹ پر سفر کررہے تھے۔ تحقیقات ملائیشین حکام اور ایف بی آئی کررہی ہے اس مقصد کے لئے تمام متعلقہ حکام کو آگاہ کردیا گیا ہے اور ان سے معلومات بھی اکٹھی کی جارہی ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق اگرچہ واضح شواہد موجود نہیں تاہم یہ جہاز دہشت گردوں کا نشانہ بننا خارج از امکان نہیں۔ صرف یہ سوچ لینا کہ چوری شدہ پاسپورٹ پر سفر کرنے والوں کے فوری طور پر یہ ہرگز نہیں کہا جاسکتا کہ وہ یقینی طور پر دہشت گرد ہی تھے، ہوسکتا ہے کہ وہ صرف اور صرف چور ہی ہوں اور دہشت گرد نہ ہوں۔ ملائیشیا کے ٹرانسپورٹ منسٹر بیشام کا کہنا ہے کہ وہ سیکیورٹی کی خرابی کے امور کی تحقیقات بھی کررہے ہیں جس کے لئے انٹیلی جنس ادارے متحرک ہوچکے ہیں۔

اپ ڈیٹ : تازہ خبروں کے مطابق ابتدائی تحقیقات کے نتیجے میں معلوم ہوا  ہے  کہ چوری شدہ پاسپورٹس پر سفر کرنے والے دونوں افراد کے ٹکٹ بھی بظاہر ایک ساتھ خریدے گئے .   

مزید : بین الاقوامی /اہم خبریں