اصل تحفظات ہمارے ہیں!

اصل تحفظات ہمارے ہیں!
 اصل تحفظات ہمارے ہیں!

  

جناب رحمان ملک صاحب کا تازہ ترین ارشاد ہے کہ ’’پاکستان کا ہر سیاست دان بیان حلفی دے کہ اس نے ’’را‘‘سے پیسے نہیں لئے‘‘ جناب رحمان ملک کا بیان تشریح کا محتاج ہے کہ وہ کیا کہنا چاہ رہے ہیںیا پھر ہماری ہی ’’موٹی عقل‘‘ میں بات نہیں آئی۔ کیا ’’را‘‘ سے پیسے لینے والے سیاست دانوں کا تعداد اتنی زیادہ ہے یا بیشتر سیاست دان ’’را زدہ‘‘ ہیں کہ ان میں سے محب وطن سیاست دانوں کو ’’فلٹر‘‘ کرنے کے لئے بیان حلفی کی ضرورت پڑگئی ہے۔ویسے سب سے پہلے بیان حلفی تو خود موصوف کو اس بات کا دینا چاہئے کہ کیا وہ واقعی اس غیر معمولی اجلاس میں موجودنہیں تھے جس میں ان کو بحیثیت وزیر داخلہ بریفنگ دے کرمفت مشورہ مانگا گیا تھا کہ جناب ہمارے ’’را‘‘ سے پیسے لینے کے ثبوت اسکاٹ لینڈ یارڈ کے پاس موجود ہیں اور ہم نے اس کا اقرار بھی کرلیا ہے ، اب فرمائیں کہ کیا کرنا ہے؟ سابق وزیر داخلہ فرمارہے ہیں کہ مشورہ ضرور مانگا گیاتھا مگر وہ جناب الطاف حسین کی طلاق کے سلسلے میں تھا۔ یاد رہے کہ آپ وہی رحمان ملک ہیں جو 1996 ء میں ایف آئی اے پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل تھے اور اس وقت کے وزیر داخلہ میجر جنرل(ر)نصیر اﷲبابر کے خصوصی احکامات کے تحت اپنی ٹیم کے ہمراہ جناب الطاف حسین کے خلاف آڈیو وڈیو اور دیگر دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ موصوف کو گرفتارکرنے کے لئے لندن آئے تھے ۔

گرفتاری تو بہرحال نہ ہوسکی شاید اسی وقت اتنی گہری دوستی کی بنیاد پڑگئی ہوگی کہ بعدمیں ذاتی مشورے دینے کا اعزاز بھی ملک صاحب کو مل گیا۔ (اس خبر کے لئے دیکھئے ۔ روزنامہ جنگ ، 16 مارچ 1996) ۔بہرحال قوم کواب سب سے پہلے جناب رحمان ملک کے بیان حلفی کی ضرورت پڑگئی ہے۔ وہ بیان حلفی نہیں جو اشٹام فروش سو، پچاس کا بیچتے ہیں، بلکہ باقاعدہ جناب ذولفقار مرزاکی طرح قرآن پاک سر پر رکھ کر کہہ دیں کہ مصطفٰی کمال کا ایسا کہنا ایک جھوٹا الزام ہے ، یقین مانیں پوری قوم دوبارہ کبھی اس کا ذکر نہیں کرے گی ۔ویسے وزیر بنتے ہوئے جناب رحمان ملک نے خدا کو حاضر ناظر جان کر یہ حلف دیا تھا کہ وہ پاکستان کے وفادار رہیں گے اور اس کی سلامتی کو نقصان نہیں پہنچنے دیں گے۔ جناب رحمان ملک اب کہہ رہے ہیں کہ مصطفٰی کمال کراچی میں ’’را‘‘ کے چیف ایجنٹ ہیں تو کیا ہم پوچھ سکتے ہیں کہ بحثیت وزیر داخلہ آپ نے اپنے حلف کی پاسداری کیوں نہیں کی ، ان کے خلاف کیوں کوئی قدم نہیں اٹھایا اور اگر یہ بات آپ کے علم میں وزارت کے جانے کی بعد آئی ہے تو اس کو اپنے تک کیوں محدود رکھا ہے ، سیکیورٹی اداروں کو کیوں نہ اطلاع کی ۔ ہمارے تحفظات بہرحال جناب رحمان ملک سے متعلق قائم ہیں کہ وہ شخص جس کو پاکستان کی سلامتی کی ہر وقت فکر کرنی چاہئے تھی، جو اس کی داخلی سلامتی کا نگران تھا ،حیرت ہے کہ وہ اس بات کا راز دار تھا کہ اس کے دوست اور حلیف بدترین دشمن ملک کے ایجنٹ ہیں۔ برائے مہربانی بطور پاکستانی ہمارے تحفظات دور کرنے کی سبیل فرمائیں۔

جناب فاروق ستار کا کہنا ہے جناب الطاف حسین کے متعلق ’’را‘‘ سے پیسے لینے کا الزام جھوٹ اور ایم کیو ایم کے خلاف سازش ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ قائدتحریک پر لگائے گئے دوسرے الزامات بھی جھوٹ کا پلندہ ہیں۔ ہم جناب فاروق ستار سے سو فیصد متفق ہیں کیونکہ کیسے ممکن ہے کہ اگر وہ غدار ہیں تو پاکستان پر قربان ہزاروں شہدا کی اولادیں اب پاکستان توڑنے کے لئے کروڑوں کی تعداد میں ان کو ووٹ دے کر اپنے بزرگوں کی روحوں کو تکلیف دیں ۔ جناب ذولفقار مرزاقرآن سر پر رکھ کر فرماتے ہیں کہ ان سے جناب الطاف حسین نے خود کہاکہ ’’امریکا پاکستان کو توڑنے کا فیصلہ کر چکا ہے اور ہم اس فیصلے میں اس کے ساتھ ہیں‘‘ ہمیں سو فیصد یقین ہے کہ جناب الطاف حسین نے کہا ہوگا کہ ہم اس فیصلے میں امریکا کے ساتھ ’’نہیں‘‘ ہیں ۔ ہماری طرح مرزا صاحب کی عمر بھی زیادہ ہوگئی ہے ان کے کانوں نے لفظ نہیں’’سکپ‘‘ کردیا ہوگا۔ ایک اور عجیب الزام مصطفٰی کمال نے جناب الطاف حسین پر یہ لگا دیا ہے کہ وہ ہفتوں شراب میں ڈوبے رہتے ہیں۔ بھلا یہ ممکن ہے ویسے بھی اس الزام کی تردید کے لئے جناب تھانوی کا حوالہ ہی کافی ہے۔ ہم نے خود یوٹیوب پر دیکھا ہے کہ جناب تھانوی بڑے ’’احترام‘‘ سے اپنے لیڈر کی تقریر سن رہے ہیں۔ چونکہ یہ تقریر آدھی رات کو ہورہی تھی اس لئے ممکن ہے کہ آواز کی لرزش کی وجہ بجائے نیند کے شراب سمجھ لی گئی ہو بہرحال ہم نہیں مانتے کہ ایک جید عالم دین ایک شرابی کو اپنا لیڈر مان لے ۔سو فیصد غلط بات۔

ایک اور غلط الزام ہمارے ممدوح یعنی جناب الطاف حسین پر یہ ہے کہ ان پر ایک مقدمہ قائداعظمؒ کے مزار پر پاکستان کا جھنڈا جلانے کا بھی ہے جو جناب مشرف نے ’’این آر او‘‘ کے تحت ختم کردیا تھا۔ کیسے ممکن ہے جو خود بھی قائد کہلاتا ہواور لیڈر بھی پاکستانی سیاسی جماعت کا ہو، اپنے ہی وطن کا جھنڈا جلائے،’’میں نہیں مانتا‘‘ کہتے ہیں کہ جناب الطاف حسین نے اس وقت کے برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کو پیشکش کی تھی کہ ’’آئی ایس آئی‘‘ کو توڑنے یا کمزور کرنے میں وہ برطانیہ کی مدد کرسکتے ہیں۔ یہ کہنا بھی بس الزام کی حد تک ہی ہے کیونکہ ’’آئی ایس آئی‘‘ ہر پاکستانی کے لئے قابل فخر ہے۔ جناب الطاف حسین چاہے برطانوی شہریت رکھتے ہوں ، بہرحال ایک پاکستانی ہیں وہ اپنے اس ’’فخر ‘‘کو کیسے نقصان پہنچا سکتے ہیں ۔ ایک اور انتہائی سنگین الزام جناب الطاف حسین پر یہ ہے کہ انہوں نے نئی دہلی میں ایک کانفرنس میں پاکستان کے قیام کو ’’گریٹ بلنڈر‘‘ کہا تھا اور انڈیا والوں سے پاکستان بنانے کے جرم میں معافی بھی مانگی تھی۔ یہ وڈیو بھی یو ٹیوب پرہم نے دیکھی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ فوٹو بے شک جناب الطاف حسین کی ہے، لیکن آواز ’’خبر ناک‘‘ والے ’’علی میر‘‘ کی ہے۔

اس سلسلے میں ایک ناقابل شکست دلیل یہ ہے کہ اگر یہ وڈیو یا بات اصلی ہوتی تو کیا جنرل مشرف ایسے ’’سیکیورٹی رسک‘‘ کا ہاتھ دس سال تھامے رکھتے اور شب و روز ان کی سرپرستی کرتے رہتے۔ کیا جنا ب یوسف رضا گیلانی بحیثیت وزیراعظم اور پیپلزپارٹی کے دوسرے مرکزی رہنما بار بار نائن زیرو جاتے ۔ اگر الطاف حسین ’’سیکیورٹی رسک ‘‘ ہوتے تو کیا ن لیگ کے جناب اسحاق ڈار سینٹ الیکشن کے لئے ان کی بلائیں لیتے ۔ جناب مولانا فضل الرحمان بھی شہید ڈاکٹر خالد سومرو اور دوسرے علماء کا قتل معاف کرکے ن لیگ اور ایم کیو ایم کی صلح صفائی کرانے نائین زیرو جا پہنچے تھے ، ظاہر ہے ان کے خیال میں ایم کیو ایم پر لگائے گئے الزامات غلط تھے، جبھی تو۔ ق لیگ کے وزیر اعظم جناب شجاعت حسین بھی نائن زیرو کی ’’یاترا‘‘ کرچکے ہیں ۔ سینکڑوں من پھولوں کی پتیاں بھی ان پر نچھاور کی گئی تھیں۔ دیسی گھی کے تڑکے والے لوازمات کے ساتھ حلیم کھا کر انہوں نے بھی ہم عصر دیگر رہنماؤں کی طرح جناب الطاف حسین کی حب الوطنی پر مہر تصدیق ثبت کر دی تھی ۔ اب اگر جناب الطاف حسین پر کوئی غداری کا مقدمہ بنتا ہے تو شریک مجرم ہمارے سابقہ اور موجودہ حکمران بھی ہیں۔ان لوگوں پر زیادہ بڑا مقدمہ بننا چاہئے کہ محض اسمبلی کی چند سیٹوں کی حمایت کی خاطر انہوں نے غداری کے ثبوتوں کو صرف نظر کیا اور پیارے پاکستان کو کمزور کیا۔

کہا جا رہا ہے کہ جناب الطاف حسین کو نیند نہیں آتی۔ سچ پوچھئے تو نیند ہمیں بھی نہیں آرہی ۔ نیند کی دیوی کئی دنوں سے ہم سے روٹھی ہوئی ہے۔وجہ بس اتنی بنی ہے کہ ہمارے دل میں ایک چھوٹا سا وہم جڑ پکڑ رہا ہے کہ خدا نہ کرے، کہیں یہ باتیں سچ ہی نہ ہوں۔ دیکھئے نا تاریخ جھوٹ نہیں کہتی ۔ تاریخ میں لکھا ہوا ہے کہ جب کبھی کسی غیر ملک نے کسی مسلمان ملک پر قبضہ کیا ہے تو ذلیل کرنے کے لئے سب سے پہلے اس قوم کی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو اسی قوم کے مردوں کے سامنے ننگا کیا ہے۔ جی ہاں ، یہی ’’کھرا سچ‘‘ ہے اور ہضم کر سکتے ہیں تو ’’کڑوا سچ‘‘ بھی۔ ایسا ہی عراق میں ہوا ہے اور شام میں بھی ۔ بے شک داعش کے پیچھے اسرائیل اور امریکا ہوگا، لیکن افرادی قوت ان ہی لوگوں پر مشتمل ہے جن کی ماؤں اور بہنوں کو ننگا کیا گیا تھا۔کیا آپ روز نہیں سنتے کہ پاکستان بنانے کے لئے ہماری ہزاروں ماؤں اور بہنوں کی عصمتیں ان ہندوؤں اور سکھوں کے ہاتھوں تار تارہوئی تھیں اور سینکڑوں بیٹیاں عزت بچانے کی خاطر کنوؤں میں کود گئی تھیں۔ اب اگر کسی ’’را کے ایجنٹ‘‘ کی سازش اور غداری کے نتیجے میں خدانخواستہ بدترین دشمن انڈیاہمارے ملک پر قبضہ کرلیتا ہے تو اسکی فوجیں ہمیں پھولوں کے گلدستے نہیں پہنائیں گی، بلکہ ہمیں سنگینیوں کی نوک پر رکھیں گی ۔ جبیں سے پسینہ پونچھ کر اپنی ماں، بہن اور بیٹی کے متعلق ضرور سوچئے۔

یاد رکھئے کہ اگر ’’میر جعفر‘‘ نہ ہوتا تو نواب سراج الدولہ کبھی شکست نہ کھاتا۔ اگر ذلیل ’’میر صادق‘‘ غداری نہ کرتا تو ٹیپو سلطان کو کون شکست دے سکتا تھا۔ آج بھی وہی میدان کاررزار ہیں۔ اﷲہماری فوج کو سلامت رکھے ۔ یہ دشمن سے کامیابی سے لڑ رہی ہے اور آئندہ بھی یقیناً ناقابل شکست ہوگی ،لیکن ’’میر جعفر‘‘ اور اس کے ’’سہولت کار‘‘ موجودہ اور سابقہ حکمرانوں کا کیا علاج!۔۔۔ہے کوئی اﷲ کا نیک بندہ۔ جو ہماری نیند ہمیں لوٹا دے ، ہمارا یہ وہم ہمارے دل سے نکال کر یہ باور کرا دے کہ جناب الطاف حسین ’’را کے ایجنٹ‘‘ نہیں ،بلکہ ایک محب وطن پاکستانی ہیں۔ ہماری جناب مولانا فضل الرحمان سے خصوصی گزارش ہے کہ جس طرح آپ کے ’’تحفظات ‘‘دو تین ملاقاتوں میں دور ہو جاتے ہیں ، کوئی ایسی پھونک ماریں کہ ہمارے بھی ’’تحفظات‘‘ دور ہوجائیں۔دیکھیں نا ہمارے جتنے بھی پیارے قومی لیڈر ہیں ، سب کے محلات لندن ،پیرس اور دوبئی میں ہیں ۔ ان کے بنک اکاؤنٹ بھی باہر ہیں۔ یہ جب اقتدار سے باہر ہوتے ہیں تو اس دکھ میں فوری بیمار ہوجاتے ہیں اورپھر باہر ہی دوڑتے ہیں کیونکہ ان کا علاج بھی یورپ ہی کے کسی اسپتال میں ہوسکتا ہے۔ ان کی اولادیں بھی باہر پڑھتی ہیں۔ یہ اقتدار سے پہلے بھی باہرہوتے ہیں اور ’’بانجھ ‘‘ قوم پر حکمرانی فرما کر پھر باہر ہی تشریف لے جاتے ہیں۔ خدانخواستہ اگران کے اپنے یا کسی کے ’’کرتوتوں‘‘ کے طفیل پاکستان پر کبھی برا وقت آیا تو ان لوگوں کا کیا ہے یہ تو اپنی ذاتی فلائٹ سے باہر نکل جائیں گے ۔ ہمارا کیا بنے گا؟ جن کا جینا اورمرنا صرف، صرف اور صرف پاکستان ہے۔ جناب مولانا! گزارش ہے کہ اپنے ذاتی تحفظات کچھ عرصہ کے لئے موخر کیجئے اور ہمارے تحفظات کسی طریقے سے دور کرنے کے لئے غور فرمائیں کیونکہ ’’اصل تحفظات ہمارے ہیں‘‘ ۔

مزید :

کالم -