نیابلدیاتی نظام ، عوامی خدمت ا ور مقامی ترقی کا پیش خیمہ

نیابلدیاتی نظام ، عوامی خدمت ا ور مقامی ترقی کا پیش خیمہ
نیابلدیاتی نظام ، عوامی خدمت ا ور مقامی ترقی کا پیش خیمہ

  


وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی ہدایت پر نیپا میں تمام نو منتخب بلدیاتی نمائندگان کو جدید انداز میں تربیت دینے اور انہیں حکومتی مشینری کا اہم حصہ بنانے کے لئے ٹریننگ کا عمل مکمل کیا گیا ۔ صوبائی وزیر بلدیات محمد منشاء اللہ بٹ کی خصوصی دلچسپی کی بنا پر صوبہ کی تاریخ میں پہلی بار اتنی بڑی تعداد میں بلدیاتی نمائندگان کی ٹریننگ کا عمل سر کیا گیاتاکہ یہ نمائندگان حکومتی مشینری کا اہم حصہ ثابت ہوں۔ صوبائی وزیر بلدیات محمد منشاء اللہ بٹ کی ہدایت پر انہیں جمہوریت کی نرسریاں بنانے کے لئے ہر قسم کی ٹر یننگ کا عمل سیاق و اسباق اور عملی طریقہ سے عبور کرایا گیا۔ وزیر بلدیات نے اپنی تقریر میں بتایا کہ ٹریننگ میں حکومت کے مر تب کردہ ماڈل بائی لاز پر عمل کو یقینی بنانے کے لئے بھر پور کوشش کریں اور ان ماڈل بائی لاز بارے عوام کو بھی باقاعدگی سے مطلع کرتے رہیں نو منتخب بلدیاتی نمائندوں اور شہریوں کو واسا، سوئی گیس، ایل ڈبلیو ایم سی سمیت دیگرسر کاری محکموں سے متعلق شکایات کے ازالے کے لئے ٹیکنالوجی متعارف کرانے کے عمل کو حتمی شکل دے دی گئی ہے سٹی ایپلی کیشن سوفٹ وئیر کے ذریعے بلدیاتی نمائندے اور شہری گلی محلے میں در پیش مسائل کی شکایات آن لائن درج کرا سکیں گے جس پر فوری مسئلہ حل ہو سکے گا۔

جبکہ صوبہ بھر کی551 یونین کونسلوں میں کمپیو ٹرائزڈ پیدائش و اموات اور سر ٹیفکیٹ اور نکاح ناموں کا اجراء بھی جلد کیا جا رہا ہے ۔ صوبہ کے 502 نو منتخب بلدیاتی نمائندگان میں سے 488 کی ٹریننگ مکمل ہو گئی ہے۔ نو منتخب بلدیاتی نمائندگان کی ہر قسم کے جملہ امور سے وابستہ کاموں بارے مدد کے لئے ہیلپ لائن کا اجراء بھی کی ہو رہا ہے تاکہ انہیں بروقت مستند مشورہ میسر آ سکے ۔ بلدیاتی سربراہوں کے اعزازیہ کا تعین بھی جلد کر دیا جائے گا جس کے لئے سمری حکومت کو ارسال کر دی گئی ہے۔ اب نو منتخب بلدیاتی نمائندگان ٹریننگ مکمل کرکے یونین کونسل کے بجٹ کی تیاری، منظوری اور جاری اخراجات مکمل کریں گے جن میں ترقیاتی و دیگر امور شامل ہیں اس ٹریننگ کے بعد وائس چیئرمین مندرجہ بالا امور یونین کونسل کی منظوری کیلئے پیش کریں گے اور بعد از منظوری اخراجات کا مکمل ریکارڈ بھی مرتب کر سکیں گے۔ انہیں مہیا کردہ فنڈز بارے آڈٹ بھی کرایا جائے گاجبکہ یونین کونسل میں وائس چیئرمینوں کا کلیدی کردار مثالی بنایا جا رہا ہے ۔ تمام یونین کونسلوں کو ترقیاتی فنڈز مہیا کر دئیے گئے ہیں جس سے ترقیاتی کاموں کو فوری عر وج حاصل ہو گا۔بلدیاتی نمائندوں کو شہر ی و دیہی ترقی کا ٹاسک بھی سونپا ہے۔ اب بلدیاتی نمائندے کوکسی بھی مداخلت کے بغیر مقامی ضرورت کی بنیاد پر شفاف انداز میں فنڈز خرچ کرسکیں گے۔

بلدیاتی نمائندے اپنے حلقہ میں تجاوزات ، غذائی ملاوٹ، بلڈنگ بائی لاز کی خلاف ورزی اور خطرناک اشیاء کی نقل و حرکت پر بھی نظر رکھنے کے پابند ہوں گے۔حکومت بلد یاتی نظام کو مزید مضبوط بنانے اور لوگوں تک اس کے فوائد پہنچانے کے لئے تیز تر اقدامات عمل میں لائے ہوئے ہے ۔ نو منتخب بلدیاتی نمائندگان کی ہر قسم کے جملہ امور سے وابستہ کاموں بارے مدد کے لئے جلد ہیلپ لائن کا اجراء کیا جا رہا ہے۔ نومنتخب بلدیاتی نمائندگان اب ٹریننگ مکمل کرکے یونین کونسل کے بجٹ کی تیاری، منظوری اور جاری اخراجات جن میں ترقیاتی و دیگر امور شامل ہیں وائس چیئرمین مندرجہ بالا امور یونین کونسل کی منظوری کیلئے پیش کرسکیں گے اور بعد از منظوری اخراجات کا مکمل ریکارڈ مرتب کروائیں گے۔ انہیں مہیا کردہ فنڈز بارے آڈٹ بھی کرایا جائے گاجبکہ یونین کونسل میں وائس چیئرمینوں کا کلیدی کردار ہو گا۔ تمام یونین کونسلوں کو 13بلین روپے کے ترقیاتی فنڈز دئیے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں محکمہ خزانہ پنجاب نے صوبہ بھر کی مقامی حکومتوں کے مالیاتی نظام پر عمل در آمد کو یقینی بنانے کے لئے پنجاب لوکل ایکٹ کے تحت صوبے کے تمام ڈویژن کے فوکل و ریسورس پرسنز مقرر کر دئیے ہیں۔ صوبے کی ترقی کے لیے نو منتخب بلدیاتی نمائندگان کو ذاتی مفاد سے بالا تر ہو کر اجتماعی خدمت کے جذبے سے کام کرنا ہوگا۔نیپا کا تربیتی کورس اس سلسلے میں ان تمام کے لئے بے حدمعاون ثابت ہو گا۔

پنجاب ایوارڈ کمیشن کے تحت لوکل گورنمنٹ کی مد میں ملنے والی رقم 17 ارب روپے سے بڑھا کر 43.2 ارب روپے کردی گئی ہے۔ حکومت نے بلدیاتی اداروں کو بہتر انداز میں ڈھالنے اور عوام کو اس کا حقیقی فائدہ بنیادی سطح پرپہنچانے کیلئے 56 بلین روپے کی خطیررقم کے فنڈز جاری کر دئیے ہیں۔تمام یونین کونسلوں کو 13بلین روپے کے ترقیاتی فنڈز دئیے گئے ہیں۔ بلدیاتی نمائندگان اس بات کو ذہن نشین کرلیں کہ انھیں عوام کی طرف سے حقیقی پذیرائی عوامی خدمت سے ملے گی ۔ ملک میں میگا پرا جیکٹس کی حد تک تو قابل ذکر کام ہوا ہے پھر بھی گلی محلہ کی ترقی کو نظر اندازنہیں کیا جا سکتا ۔ حکومت نے عوامی امنگوں کی صحیح ترجمانی کرتے ہوئے بلدیاتی نمائندوں کو شہر ی و دیہی ترقی کا ٹاسک سونپا ہے۔

میئر، ڈپٹی میئر ، ڈسٹرکٹ اینڈ میونسپل کارپوزیشنز کے چیئر مین اور وائس چیئر مین منتخب ہونے پر یونین کونسلزکے چیئر مین اپنی بنیادی انتخابی سیٹ برقرار رکھ سکیں گے۔ پنجاب اسمبلی نے قانونی ترامیم کے ذریعے صوبے کے تمام بلدیاتی اداروں کے ڈپٹی میئرز اور وائس چیئر مینوں کے اختیارات میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ آئندہ کارپوریشن، ضلع کونسل، میونسپل کمیٹی اور یونین کونسل کے اجلاس کی صدارت ڈپٹی مئیر اور وائس چیئرمین کریں گے۔

حالیہ ترامیم کی روشنی میں وائس چیئرمین یونین کونسلزبھی اپنے ہاؤس میں سپیکرجیسے فرائض سرانجام دیں گے۔ ہاؤس میں ہونے والی تمام کارروائی و اجلاس کی صدارت بھی کرسکیں گے۔یونین کونسل کے بجٹ کی تیاری، منظوری اور جاری اخراجات جن میں ترقیاتی و دیگر امور شامل ہیں وائس چیئرمین مندرجہ بالا امور یونین کونسل کی منظوری کیلئے پیش کریں گے اور بعد از منظوری اخراجات کا مکمل ریکارڈ مرتب کروائیں گے۔ یونین کونسل میں وائس چیئرمینوں کا کلیدی کردار ہو گا۔ محکمہ بلدیات نے بلدیاتی اداروں کو اپنے بجٹ فوری طور پر ہاؤس سے منظور کروانے کی ہدایات بھی جاری کر دی ہیں۔بجٹ اجلاس کی صدارت بھی ڈپٹی میئر اور وائس چیئرمین ہی کریں گے۔ بلدیاتی نظام جلد تن آور درخت بن کر مقامی سطح پر جمہوریت کی بہترین نرسریاں ثا بت ہو گا اور ترقیاتی عمل کے فروغ میں ماتھے کا جھومر بنے گا۔ بلدیاتی مئیر، چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین و دیگر متعلقہ نمائندوں کی تربیت سے ان کی قا بلیت و صلاحیت میں اضافہ ہو اہے۔صوبائی وزیر بلدیات محمد منشاء اللہ بٹ نے کہا کہبلدیاتی نمائند وں کی استعداد کارمیں اضافے کے سلسلہ میں کامیاب کورس کے انعقاد پر نیشنل سکول آف پبلک پالیسی کے حکام کے بے حد مشکور ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل نیپانعیم الحق ،خاص طور پرمیڈم سجل توصیف خان چیف انسٹریکٹرنیپا،احمد ندیم ڈی ایس اور ڈائریکٹر نیپا جیب خالد وٹو جنہوں نے نیپا میں نومنتخب نمائندگان کی ٹریننگ میں حصہ لیا۔ محکمہ بلدیات پنجاب نیشنل سکول آف پبلک پالیسی (NIPA) حکام کا بے حدمشکور ہے۔

مزید : کالم