ایران، ترکمانستان سے گیس درآمدکی غیر مشروط حمایت کرتے ہیں

ایران، ترکمانستان سے گیس درآمدکی غیر مشروط حمایت کرتے ہیں

اسلام آباد(کامرس ڈیسک)ملک بھر کی کاروباری برادری حکومت کی جانب سے پاک ایران گیس پائپ لائن اور تاپی گیس پائپ لائن کی جلد از جلد تعمیر کے فیصلے کی بھرپور حمایت کرتی ہے کیونکہ اس سے انرجی سیکورٹی بڑھے گی۔ توانائی بحران حل ہونے سے ملکی ترقی کی راہ ہموار ہو گی پیداوار، برامدات اور روزگار بڑھے گاجبکہ جی ڈی پی میں ابتدائی طور پر تین فیصد تک اضافہ ہو گا۔اسلام آباد چیمبر آف کامرس کے سابق صدر عاطف اکرام شیخ نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ سی پیک کے تحت درجنوں بجلی گھر بن رہے ہیں جبکہ ترکمانستان سے1680 کلو میٹر طویل پائپ لائن کے زریعے روزانہ 3.2 ارب مکعب فٹ گیس لانے کے منصوبہ کاغذات سے نکل کر عملی صورت اختیار کر رہا ہے۔ اس منصوبے کو امریکہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ دوسری طرف ایرا ن سے گیس لانے کا منصوبہ بدستور بین الاقوامی پابندیوں کی زد میں ہے مگر حکومت اس پر عمل درامد کرنے کی راہیں تلاش کر رہی ہے جو انتہائی خوش آئند ہے۔ موقع ملتے ہی پاکستان 1931 کلو میٹر لمبی پائپ لائن میں سے اپنے حصے کی پائپ لائن کی تعمیر کا آغاز کر دیگا جو 781 کلو میٹر پر مشتمل ہے اور تیس ماہ کی مدت میں پائپ لائن سے روزانہ 750 ملین مکعب فٹ گیس کی درامد شروع ہو جائے گی جس سے کم از کم چار ہزار میگاواٹ بجلی بنے گی۔عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ حکومت نے موجودہ بجٹ میں گیس انفراسٹرکچر کی ترقی کیلئے پچیس ارب روپے مختص کئے ہیں جس سے توانائی بحران حل کرنے میں اسکی سنجیدگی کا پتہ چلتا ہے اس رقم کو دگنا کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ ایران پائپ لائن کی تعمیر کا فیصلہ کئی دہائی قبل ہوا تھا جس کے بعد حالات تبدیل ہو گئے ہیں اس لئے پاکستان اور ایران مل کر گیس سیل پرچیز ایگریمنٹ میں ضروری ترمیم کریں تاکہ یہ دونوں فریقین کو قابل قبول ہو۔

انھوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے توانائی کے بحران کے حل کو اپنی ترجیحات میں رکھا ہوا ہے جس کی غیر مشروط حمایت

مزید : کامرس