انتخابی اصلاحات کا بہترین پیکیج تیار کریں

انتخابی اصلاحات کا بہترین پیکیج تیار کریں

وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ آئندہ الیکشن مقررہ وقت پر اگلے سال ہی ہوں گے، انتخابی اصلاحات پرکام جاری ہے، جسے تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ انتخابی اصلاحات کمیٹی کے چیئرمین اسحاق ڈار سے کہوں گا کہ اس عمل کو جلد از جلد مکمل کریں۔ دوسری جانب ایک اطلاع یہ ہے کہ تحریک انصاف نے انتخابی اصلاحات کا جامع مسودہ تیار کر لیا ہے، جس کی منظوری تحریک انصاف کے چیئرمین دیں گے۔ یہ امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ تحریک انصاف انتخابی اصلاحات کے بغیر انتخابات کا بائیکاٹ کرے گی۔انتخابی اصلاحات کے لئے تمام پارلیمانی جماعتوں کے ارکان پر مشتمل33رکنی کمیٹی کام کر رہی ہے، شروع شروع میں تحریک انصاف کے بائیکاٹ کی وجہ سے اصلاحات پر غور اور انہیں حتمی شکل دینے کا کام تسلی بخش رفتار سے نہیں ہو سکا تاہم اب بھی کافی وقت ہے اور اگر سنجیدگی سے کارروائی کو آگے بڑھایا جائے تو انتخابات سے بہت پہلے اصلاحات کا حتمی مسودہ تیار کر کے اس کی پارلیمینٹ سے منظوری بھی لی جا سکتی ہے، وزیراعظم اگر اس کام کو تیز رفتاری سے آگے بڑھانے کی ہدایت کر دیں اور کمیٹی کے تمام ارکان اجلاسوں میں باقاعدگی سے حصہ لے کر سفارشات کو حتمی شکل دیں تو یہ کام جلد پایۂ تکمیل تک پہنچ سکتا ہے۔انتخابی اصلاحات کا جو مسودہ تحریک انصاف نے تیار کیا ہے پارلیمانی کمیٹی اس پر بھی غور کر کے ترمیم و اضافے کے بعد اسے بھی حتمی شکل دے سکتی ہے یا پھر اس میں سے وہ سفارشات اختیار کی جا سکتی ہیں، جو سرکاری یا دوسری جماعتوں کے نزدیک قابلِ قبول ہوں۔ کام کو تیز رفتاری سے آگے بڑھانے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ جو سفارشات کمیٹی میں متفقہ طور پر قابلِ قبول ہوں اُنہیں حتمی شکل دے دی جائے اور باقی سفارشات پر سلسلہ وار غور کر کے انتخابی اصلاحات کے مسودے کو جلد سے جلد حتمی صورت دے دی جائے۔ نیک نیتی اور اگلے انتخابات کو زیادہ سے زیادہ شفاف بنانے کے جذبے کے تحت کام کیا جائے تو کوئی وجہ نہیں یہ کام جلد پایۂ تکمیل تک نہ پہنچ سکے۔

پاکستان میں اب تک جتنے بھی انتخابات ہوئے ہیں اُن سب پر کسی نہ کسی حلقے کی جانب سے کوئی نہ کوئی اعتراض وارد کیا جاتا رہا۔ یہاں تک کہ1977ء کے انتخابات میں دھاندلی کے خلاف اپوزیشن جماعتوں نے ایک مُلک گیر تحریک چلائی جس کے نتیجے میں مُلک میں مارشل لاء نافذ ہوا اور دھاندلی کی ذمہ دار ٹھہرائی جانے والی پیپلزپارٹی کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا، پھر مارشل لاء کے دوران کئی سال تک انتخابات ہی نہ ہو سکے اور1985ء میں جب ہوئے تو غیر جماعتی بنیادوں پر، جن کا بہت سی جماعتوں نے بائیکاٹ کر دیا تاہم ان انتخابات کے بعد ایک سول حکومت قائم ہوئی جس کے وزیراعظم محمد خان جونیجو کی کوششوں سے مارشل لا ختم ہوا اور ایک بار پھر جمہوری دور شروع ہو گیا، جو تین سال تک چل سکا، اِس غیر جماعتی نظام کے بانی جنرل ضیاء الحق نے وزیراعظم جونیجو کی حکومت ختم کر دی اُن کے بعد 1997ء تکجتنے بھی انتخابات ہوئے کوئی بھی اسمبلی (اور حکومت) اپنی مدت پوری نہ کر سکی اور صدر اسمبلیاں توڑ کر نئے انتخابات کراتے رہے۔ یہ ایک طویل بحث ہے کہ پاکستان میں ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں سیاسی استحکام کیوں نہیں آیا اور وہ کون سے اقدامات ہیں جن پر عمل کر کے یہ مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے۔

2013ء کے انتخابات کے خلاف تحریک انصاف نے طویل ترین دھرنا دیا جس پر سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن قائم کیا گیا، جس نے قرار دیا کہ اِن انتخابات میں کوئی منظّم دھاندلی نہیں ہوئی تھی تاہم حکومت اور اپوزیشن جماعتیں آئندہ ایسے الزامات کے سدِ باب کے لئے انتخابی اصلاحات پر آمادہ ہو گئیں اور اِسی وجہ سے وہ کمیٹی قائم ہوئی جس کے ذمے انتخابی اصلاحات کا کام لگایا گیا ہے۔ اب اگر یہ کمیٹی ایسی اصلاحات کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے جن پر عملدرآمد کر کے آزادانہ، غیر جانبدارانہ اور شفاف انتخابات ہو سکیں اور تمام سیاسی جماعتیں ان کے نتائج کو تسلیم کر لیں اور اگر کہیں انتخابی بے ضابطگیاں ہوتی ہیں تو ان کے ازالے کے لئے احتجاج کی بجائے مجاز ٹریبونلوں اور عدالتوں میں عذر داریاں دائر کی جائیں،اُن کے فیصلے جلد از جلد ہوں اور تمام فریق انہیں خوش دِلی سے تسلیم کریں تو یہ کمیٹی کا بڑا وقیع کارنامہ ہو گا۔

ہمسایہ مُلک بھارت میں لوک سبھا (پارلیمینٹ کا ایوانِ زیریں) کے انتخابات برسر اقتدار حکومت ہی کراتی ہے، جس پارٹی کی حکومت ہوتی ہے وہ جیت بھی جاتی ہے اور کبھی اسے شکست کا بھی سامناکرنا پڑتا ہے، لیکن ہارنے والوں نے کبھی انتخابات میں دھاندلی کا الزام نہیں لگایا، نہ مجموعی طور پر انتخابات کو متنازع بنانے کی کبھی کوشش کی۔2014ء میں بھارت میں کانگرس کی حکومت تھی، جس نے انتخابات کرائے اور بُری طرح ہار گئی، بی جے پی کو اپنی تاریخ کی سب سے شاندار کامیابی حاصل ہوئی۔ چیف الیکشن کمشنر ایک مسلمان تھے کسی ہارنے والے نے یہ بھی نہیں کہا کہ ہندو اکثریت والے مُلک میں مسلمان کو چیف الیکشن کمشنر کیوں لگایا گیا؟ برسر اقتدار جماعت نے وقار کے ساتھ شکست تسلیم کر لی اور حزبِ اقتدار کا کردار سنبھال لیا، کیا اس میں ہمارے لئے کوئی سبق ہے اور ہم جو انتخابی اصلاحات کرنے بیٹھے ہیں اُن میں کوئی ایسی ’’اصلاح‘‘ بھی شامل کر سکتے ہیں کہ انتخابات برسر اقتدار جماعت ہی کرائے اور پھر بھی کوئی اُن انتخابات پر انگلی نہ اٹھائے؟

ہمیں بھارت کے انتخابی نظام کا جائزہ لے کر مضبوط الیکشن کمیشن بنانے پر توجہ دینی چاہئے اور اگر ہو سکے تو گنتی کا وہی نظام اپنانا چاہئے جو بھارت میں ہے،جہاں انتخابات مرحلہ وار ہوتے ہیں جب تمام انتخابی مراحل مکمل ہوتے ہیں تو پھر ایک مرکزی مقام پر گنتی ہوتی ہے اور اطمینان کے ساتھ گنتی مکمل کر کے نتائج کا اعلان کر دیا جاتا ہے، لاکھوں بیلٹ باکس ایک جگہ محفوظ رکھے جاتے ہیں اور کوئی ’’لٹیرا‘‘ انہیں لوٹنے نہیںآتا،بلکہ ایسی جرأت تک نہیں کرتا، جبکہ یہاں ہم نے بار بار دیکھا کہ انتخابات کے بعد کوئی امیدوار زبردستی بیلٹ بکس اُٹھا کر گھر لے گیا اور مجاز حکام نے یہ ’’لوٹے ہوئے‘‘ بیلٹ بکس اس امیدوار کے گھر سے برآمد کئے، ہم نے یہاں نگران حکومت بھی بنا کر دیکھ لی۔ 2013ء کے انتخابات ایسی ہی نگران حکومتوں کے ماتحت ہوئے تھے،لیکن الزام پھر بھی لگ گئے۔ سوال صرف اتنا ہے کہ ایسے الزامات بھارت کے الیکشن کمیشن پر کیوں نہیں لگتے جو پاکستان میں لگتے ہیں؟

ابھی انتخابی اصلاحات کو حتمی شکل نہیں دی جا سکی اور یہ دھمکی پہلے سے دے دی گئی ہے کہ انتخابی اصلاحات کے بغیر تحریک انصاف انتخابات میں حصہ نہیں لے گی، کیا یہ بہتر نہیں کہ ساری توجہ انتخابی اصلاحات پر مبذول رکھی جائے اور انتخابی اصلاحات کے ذریعے ایسا انتظام کیا جائے کہ کوئی انتخابات پر انگلی نہ اٹھا سکے۔ اگر ہم نے صحیح معنوں میں ایسا بندوبست کر لیا تو ہمارے اگلے انتخابات پرکوئی اعتراض نہیں کر سکے گا،لیکن اس کے لئے ہر سیاسی جماعت کو بالغ نظری کا مظاہرہ کر کے انتخابی اصلاحات کا بہترین پیکیج تیار کرنے میں معاونت کرنی چاہیے۔

مزید : اداریہ