28برسوں میں بھارتی فورسز کی کاروائیاں ،23ہزار کشمیری خواتین بیوہ ہوئیں

28برسوں میں بھارتی فورسز کی کاروائیاں ،23ہزار کشمیری خواتین بیوہ ہوئیں

سری نگر(کے پی آئی) خواتین کے عالمی دن کے موقع پر ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گزشتہ 28 سالوں میں بھارتی فورسز کی کارروائیوں کے نتیجے میں22832 خواتین بیوہ ہوگئیں10828 کی بے حرمتی کی گئی جبکہ بھارتی فورسز نے 8ہزار شہریوں کو دوران حراست لاپتہ کر دیا جسکی وجہ سے سینکڑوں خواتین نیم بیوہ کی زندگی گزار رہی ہیں ان خواتین کے لیے Half-wido کی اصطلاح استعمال کی جارہی ہے ۔ جموں وکشمیرفریڈم پارٹی ،کشمیر تحریک خواتین اور مسلم خواتین مرکزنے عالمی یوم خواتین کے موقع پر کہا ہے کہ اس وقت پوری دنیا میں خواتین کے حقوق،خواتین کوبا اختیار اور خود اعتماد بنانے کی باتیں ہورہی ہیں،ان کے حقوق کی پاسدراری اور ان پر ہورہے تشدد کے خلاف آوازیں بلند کی جارہی ہیں لیکن کشمیردنیا کا وہ واحد خطہ شائد ہوگا جہاں خواتین خوف کے سائے میں زندگی بسر کر رہی ہیں۔فریڈم پارٹی کے سربراہ شبیر احمد شاہ نے یوم خواتین کے موقع پر اپنے بیان میں کہا کہ بین الاقوامی برادی خواتین کی فلاح و بہبود کے لئے جہاں سنجیدگی کا مظاہرہ کررہے ہیں ،وہیں اس بات سے بھی انکار ممکن نہیں کہ دنیا میں سب سے زیادہ متاثرصنف نازک ہی ہے اور جنگ زدہ علاقوں میں خواتین بے شمار مصائب کا شکار ہیں ۔انہوں نے کہا کہ بندوق اور طاقت کے ٹکراؤ سے بھی ان کا تحفظ ممکن نہیں اور فوجی جماؤ والے علاقوں میں بلند بانگ دعوؤں کے برعکس یہی خواتین جنسی زیادتیوں کا شکار ہورہی ہیں ۔شاہ نے ریاست میں خواتین طبقے کو درپیش مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی یہ ہے کہ یہ فوجی جماؤ میں اپنی زندگیاں گزاررہی ہیں اور کئی بار جنسی استحصال کا بھی شکار ہوئیں جس کی مثال کنن پوشہ پورہ،جگر پورہ،چھانہ پورہ اور دیگر متعدد مقامات پر انتقامی کاروائی کے طور ان خواتین کو نشانہ بنایا گیا تاکہ جوانوں کے عزائم و حوصلوں کو توڑا جاسکے ۔

انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ مقبوضہ علاقوں اور بالخصوص کشمیر میں دیکھیں کہ کس طرح یہاں خواتین کو گھٹ گھٹ کر جینے کی سزا دی جارہی ہے۔کشمیر تحریک خواتین کی سربراہ زمردہ حبیب نے اپنے پریس بیان میں کہا ہم عورتوں نے کشمیر تنازعہ کو جنم نہیں دیا مگر اس کو سلجھانے میں ہم کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس وقت پوری دنیا میں خواتین کے حقوق،خواتین کوبا اختیار اور خود اعتماد بنانے کی بات ہورہی ہے،ان کے حقوق کی پاسدراری اور ان پر ہورہے تشدد کے خلاف آوازیں بلند کی جارہی ہیں لیکن کشمیر میں خواتین خوف کے سائے میں زندگی بسر کررہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ خواتین کشمیر پر ڈھائے جارہے مظالم کو کشمیر کے سیاسی پس منظرسے الگ ہوکر نہیں دیکھاجاسکتاہے۔ انہوں نے مزید کہا ہم نے اس تنازعہ کو جنم نہیں دیا مگر اس کو حل کرنے میں ہم اہم کردار نبھاسکتی ہیں،اس تنازعہ نے بیواؤں اور نیم بیواؤں کی ایک کثیر تعداد کھڑی کر دی ،جوبے بسی،مفلسی اور تنہائی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔زمرودہ حبیب نے کہا کہ تاریخِ کشمیرجنسی زیادتیوں کے دلخراش سانحوں سے بھری پڑی ہے۔مسلم خواتین مرکز کی چیئرپرسن یاسمین راجہ نے خواتین کے عالمی دن کے موقعہ پر کشمیری خواتین کو درپیش مشکلات و مصائب پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاستِ جموں کشمیر میں رواں تحریک کے دوران ایک لاکھ سے زائد مائیں اپنے بچوں سے محروم کردی گئیں اور لاکھوں بہنیں اپنے بھائیوں کی جدائی میں نڈھال ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس قتل و غارت گری کے علاوہ کنن پوشہ پورہ سے لیکر بانہال تک اور راجوری پونچھ سے لیکر کشتواڑ تک جموں کشمیر کی سینکڑوں خواتین کو جنسی ہوس کا شکار بنایا گیا۔ یاسمین راجہ نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل ،انسانی حقوق کے عالمی اداروں خاصکر ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ایشا واچ اور عالم اسلام کی تنظیم اوآئی سی سے اپیل کی کہ وہ جموں کشمیر کی خواتین کو انصاف فراہم کرنے اور مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ قرارداداوں کے تحت حل کرنے کیلئے اقدامات کریں۔

مزید : عالمی منظر