ماڈل ٹاؤن کچہری ، بنیادی سہولتوں کا زبردست فقد ان ، معذور قیدی اور سائلین رُل گئے

ماڈل ٹاؤن کچہری ، بنیادی سہولتوں کا زبردست فقد ان ، معذور قیدی اور سائلین ...

لاہور(کامران مغل/نامہ نگار )ماڈل ٹاؤن کچہری میں سہولیات کا فقدان، بیٹھنے کے لئے بنچ ہیں نہ پینے کے لئے پانی دستیاب ہے۔ لفٹ کی سہولت میسر نہ ہونے پربیمار ملزموں کوسٹریچر پر ڈال کرعدالتوں میں پیش کیا جاتا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ 2سال قبل عدالت عالیہ نے زخمی اور معذور افراد کو خصوصی سہولیات دینے کا حکم دیا تھالیکن اب تک اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ماڈل ٹاؤن کچہری میں روزانہ ہزاروں سائلین آتے ہیں جنہیں بنچز کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے کھڑا رہنا پڑتا ہے یا پھر سیڑھیوں پر بیٹھ کر ہی گزارا کرناپڑتا ہے۔ سائلین احمد،علی امجد، باقر علی، مجاہد بٹ اور دیگر نے بتایا کہ انتظامیہ کوچاہئے کہ فوری طور پرعدالتوں میں آنے والے سائلین کے لئے پانی اور بیٹھنے کا انتظام کیا جائے۔ یہاں ایک ہی واٹر کولر وہ بھی خراب پڑاہے اور انتظامیہ خاموشی تماشائی بنی بیٹھی ہے ۔ پانی دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے منرل واٹر کے نام پر مضرصحت پانی کی بوتلیں 35سے 40روپے میں فروخت کرکے شہریوں کو لوٹا جارہا ہے ۔ دوسری جانب ماڈل ٹاؤن کچہری میں معذور حراستی ملزموں کو عدالت میں پیش کرنے کے لئے پہلی منزل پر واقع عدالتوں تک رسائی کے لئے کوئی ریمپ نہیں بنائے گئے اورنہ ہی کوئی لفٹ موجود ہے۔ لفٹ کی سہولت میسر نہ ہونے سے پولیس اہلکار بیمار ملزموں کوہتھکڑیاں لگاکر سٹریچر پر ڈال کر سیٹرھیوں کے ذریعے عدالتوں میں لے جاتے ہیں۔ معذور افراد بابا جمیل ، نعمان بھٹی اور سلیم کا کہنا تھا کہ انہیں جب عدالتوں میں آنا پڑتا ہے تو یہاں پر سہولتیں نہ ملنے کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔،انہوں نے کہا کہ یہ حکام بالا کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہم جیسے معذور افراد کو سہولتیں فراہم کریں۔واضح رہے کہ 2014ء میں عدالت عالیہ نے زخمی اور معذور حراستی ملزموں کوخصوصی سہولیات فراہم کرنے کا حکم دیا تھالیکن تاحال اس پر عمل درآمد یقینی نہیں بنایا جاسکا ہے جس کے باعث مذکورہ سائلین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے لیکن ان کاکوئی پرسان حال نہیں ہے۔ سائلین کے علاوہ وکلا ء ، مرزا حسیب ، ارشاد گجر اورمشفق احمد خان کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کوکچہریوں میں معذور افراد کے لئے عدالت عالیہ کے حکم پر عمل درآمد کو یقینی بنانا چاہیے اور اس سمیت پانی کی عدم دستیابی سمیت دیگرمسائل کو بھی فوری حل کرنا چاہیے۔

مزید : علاقائی