عمران کا دماغ ٹخنوں میں ہے؟

عمران کا دماغ ٹخنوں میں ہے؟
 عمران کا دماغ ٹخنوں میں ہے؟

  


عمران خان نے پاکستان سپر لیگ میں حصہ لے کر لاہور میں فائنل کھیلنے والے جن انٹرنیشنل کھلاڑیوں کو پھٹیچر کہا ہے وہ کھلاڑی تو امن کے Preacher تھے ۔ سمجھ نہیں آتی کہ عمران ایسی باتیں کیوں کرتے ہیں جنھیں بعد میں انہیں اور ان کے مداحین کو سہنا پڑتا ہے ، خاص طور پر وہ مداحین جن کے لئے وزیر اعظم نواز شریف کو 2018ء کے انتخابات سے باہر کرنے کا واحد طریقہ عدلیہ سے من پسند فیصلہ لینا ہے، یہ الگ بات کہ انہیں اس میں قطعاکوئی شک نہیں کہ فیصلہ نواز شریف کے حق میں آئے گا۔ عمران خان سے عزت بچانا اب پورے حج کے ثواب کے برابر ہوتا جا رہا ہے۔

ویسے عمران خان نے لفظ پھٹیچر استعمال کرکے لوگوں کو سٹیڈیم میں لگنے والا گو نواز گو کا نعرہ بھلادیا ہے اور اب ہر طرف رو عمران روعمران ہی ہو رہی ہے۔اگر عمران خان کی انٹ شنٹ لغت کے مطابق لفظ پھٹیچر کی اس تعریف کو درست مان لیا جائے جو وہ کر رہے ہیں تو کہا جا سکتا ہے کہ گزشتہ 17برس تک پی ٹی آئی پھٹیچر پارٹی کے طورپر موجود رہی ہے

2013ء کے انتخابات کے حوالے سے جب عمران خان نے عدلیہ کے کردار کو شرمناک کہا تو سپریم کورٹ نے انہیں غیر مشروط معافی مانگنے پر مجبور کردیا تھا ، پھر 2014کے دھرنے میں انہوں نے سیاسی و صحافتی و انتظامی اور وکالتی و سماجی شخصیات کو چن چن کر نازیبا زبان کا نشانہ بنایا تھا اور جب آرمی پبلک سکول میں ننھے بچے دہشت گردی کا نشانہ بنے تو عمران خان ریحام خان کے ساتھ شادی کر کے فوٹو سیشن میں مصروف رہے اور سکول کے دورے کو ریحام خان کی سیاست میں انٹری کو بہترین موقع جانا، انتخابی دھاندلی پر جوڈیشل کمیشن کے فیصلے کے بعد انہوں نے اپنے الزامات پر معافی نہیں مانگی اور اب الیکشن کمیشن آف پاکستان کی پت رولنے کو تیار بیٹھے ہیں ، یہ تمام وہ بڑے واقعات ہیں جو ماضی قریب میں عمران خان کی ذات سے نتھی ہیں اور جن کی وجہ سے ان کی باتوں کا اثرکم ہوتا جا رہا ہے اور ان کی شخصیت کا سحر کم ہوتا جا رہا ہے ، آج ٹی وی چینلوں پر لوگ کہنا شروع ہو گئے ہیں کہ عمران خان کو شرم آنی چاہئے کہ وہ پاکستان کے مہمان انٹرنیشنل کھلاڑیوں کے بارے میں توہین آمیز الفاظ استعمال کر رہے ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے سپورٹس کے میدان میں جو عزت کمائی تھی وہ سیاست کے میدان میں بکھیر بیٹھے ہیں اور جس مول آئی تھی اسی مول بیچ بیٹھے ہیں ، قوم کا ہیرو ساٹھ سے ستر فیصد عوام کے لئے زیرو ہو چکا ہے، وہ جو اس کے نام کا شور مچاتے پھر رہے تھے اب اس کی بدزبانی زیر غور لائے ہوئے ہیں، کہا جاتا ہے کہ وہ سادہ لوح ہیں ، اگر سادہ لوحی اسے ہی کہتے ہیں کہ لوگوں کا مذاق اڑایا جائے تو یہ سادہ لوحی کی مثالِ بے مثال ہے۔حقیقت یہ ہے کہ عمران خان نے پاکستان سپر لیگ کی بابت جو کچھ کہا ، پاکستانی قوم نے اسے یکسر مسترد کردیا ، اس کی سنی ان سنی کردی ، یار لوگ کہتے تھے کہ میاں نواز شریف کا دماغ گھٹنے میں ہے ، ہمیں لگتا ہے کہ عمران خان کا دماغ ٹخنے میں ہے !

پاکستان سپر لیگ کا ایک فائنل میچ ہونے پر انہوں نے اس قدر تماشا لگایا ہے تو اگر سارے کا سارا ٹورنامنٹ پاکستان میں ہو جاتا تو وہ کیا گل کھلاتے ، اس زمانے میں حکیم لقمان تو ملنے سے رہا اس لئے پی ٹی آئی والوں کو چاہئے کہ وہ کسی سیانے سے رابطہ کریں ، اس قسم کے اوسطی پوستی انسان سے قیادت کی کیا توقع رکھی جا سکتی ہے جو پہلے عدلیہ کے کردار کو شرمناک کہے اور پھر کہے کہ شرمناک کہنا گالی نہیں ہوتی ، ڈیرن سیمی کو پھٹیچر کہے اور کہے کہ کرکٹ میں ایسا کہنا توہین نہیں ہوتی، عمران خان کو چاہئے کہ فوری طور پر آفتاب اقبال سے فرہنگ آصفیہ کی کلاسیں لینا شروع کریں تاکہ مستقبل میں ایسی فاش غلطیوں سے بچ سکیں۔ لیکن انہیں اس کی کیا ضرورت ہے وہ تو آکسفورڈ کے فارغ التحصیل ہیں۔

ایسا نہیں کہ ہمیں عمران خان سے بیر ہے یا وہ ہمارے لئے غیر ہے لیکن ہمیں اعتراض ہے تو اس کی باتوں پر ہے جن کا کوئی سر ہے نہ پیر ہے ، یوں بھی وہ باتیں کم صلواتیں زیادہ سناتے ہیں ، اس عمر میں عمران خان کو سمجھانا پتھر سے سر پھوڑنے کے مترادف ہے ، لیڈروں میں عمران خان، اور ڈونلڈ ٹرمپ ناقابل علاج ہیں۔ یہ آوے کا آوا خود میں ایک ڈان بن کر دنیا کو اپنی مرضی سے چلانا چاہتا ہے ۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ عمران خان بدعنوان نہیں ان کی خدمت میں اتنا عرض ہے کہ عمران خان بدعنوان ہو نہ ہو بدزبان ضرور ہے، وہ ہر موڑ پر بڑھکیں مارتا ہے ، اسی لئے سڑکیں ماپتا ہے!

عمران خان کرکٹ کے کپتان کتنے ہی بڑے کیوں نہ رہے ہوں بحیثیت انسان وہ بڑی کم ظرفی کا مظاہرہ کر رہے ہیں، اس لئے جو لوگ اس پر بضد ہیں کہ عمران نے جو کچھ کہنا تھا کہہ دیا انہیں سمجھنا چاہئے کہ ایسی ہی باتوں سے عمران عوام کی نظر میں گِرکر رہ گیا ہے ، وہ اسی تھالی میں چھید کر رہے ہیں جس سے عمر بھر کھاتے رہے ہیں۔ گمنامی بدنامی کے بعد شروع ہوتی ہے اور مشہور لوگوں کے لئے گمنامی موت ہوتی ہے ، ان میں سے اکثر خودکشی کو ترجیح دیتے ہیں !

مزید : کالم