قومی اسمبلی ، خواتین اراکین کو بولنے کی اجازت نہ ملنے پر اپوزیشن کا واک آؤٹ

قومی اسمبلی ، خواتین اراکین کو بولنے کی اجازت نہ ملنے پر اپوزیشن کا واک آؤٹ

 اسلام آباد(آن لائن)قومی اسمبلی میں حقوق نسواں کے عالمی دن کے موقع پر سپیکر کی جانب سے خواتین اراکین کو بولنے کی اجازت نہ دینے پر اپوزیشن جماعتوں نے علامتی واک آؤٹ کیا۔بدھ کے روز وقفہ سوالات ختم ہو نے کے بعد جب اپوزیشن جماعتوں کی خواتین نے عالمی یوم حقوق نسواں کی مناسبت سے بات کر نیکی اجازت مانگی تو سپیکر ایاز صادق نے بولنے کا موقع نہ دیا جس پر تمام اپوزیشن نے اجلاس سے علامتی واک آؤٹ کیا۔قبل ازیں قومی اسمبلی نے خواتین کے عالمی دن پر قرارداد متفقہ طورپر منظور کرلی ،قرار داد کے متن میں اس بات کا اعادہ کیا گیا ہے کہ خواتین کیساتھ امتیازی سلوک اور تشدد کی مذمت کرتے ہوئے معاشرے میں خواتین کو بہتر ماحول فراہم کرنے کو یقینی بنایا جائے گا۔ قرار داد حکومتی رکن شائستہ پرویز نے پیش کی ،جس پر بات کرتے ہوئے عذرا فضل نے کہا ملک میں الیکشن کیلئے چار فیصد خواتین کی ٹکٹوں کا کوٹہ مخصوص اور ایوان میں موجود مخصوص نشستوں پر خواتین کو بھی برابر کے فنڈز دیئے جانے چاہئیں۔ کرن حیدر نے کہا کہ ماں بہن کیلئے ایک دن مخصوص نہیں ہونا چاہیے بلکہ انکی خدمات کو ہر روز یاد رکھا جانا چاہیے ،بلوچستان میں عورتوں کو وہ حقوق حاصل نہیں جو انکا بنیادی حق ہے۔نفیسہ خٹک کا کہنا تھا کہ عورتیں بھی اپنے بچوں اپنا دودھ پلائیں ،سپلیمنٹ پر نہ لگائیں،سرکاری ملازمت پیشہ عورتوں کو بچوں کی پیدائش کے وقت تین ماہ کی چھٹی دی جاتی ہے جو اب نہیں دی جاتی ، علاوہ ازیں ڈیلی ویجز پر کام کرنیوالی خواتین کو بھی مستقل نہیں کیا جاتا ،ایوان بالا و زیریں سمیت پارلیمنٹ کے اندر کام کرنیوالی خواتین کو کیا پروٹیکشن مل رہی ہے۔ شازہ فاطمہ نے کہا کہ ہر شعبے حیات میں خواتین مشکلات کے باوجود اپنا لوہا منوا رہی ہیں ،آج بھی خواتین کو انکے حقوق نہیں مل رہے ۔عورتوں کے حقوق کیلئے بنائے گئے قوانین قابل تعریف لیکن ابھی بہت کام باقی ہے۔ ڈاکٹر نگہت شکیل نے کہا کہ اگر ہم اپنی بیٹیوں کو بھی وہی تربیت دیں جو بیٹوں کو دیتے ہیں تو مثبت نتائج برآمد ہونگے ۔آسیہ ناصر ، شائستہ پرویز ، نسیمہ حفیظ بائیزئی اور عائشہ سید کا کہنا تھا عورت کو اعتماد اور ترقی دیئے بغیر یہ ملک ترقی نہیں کر سکتااگر ہم انکے حقوق کیلئے اکٹھے نہیں ہوسکتے تو پھر ہمارا کیا فائدہ ہے، شازیہ مری نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل کے 34 کے مطابق عورتیں ملک کے اندر تمام اداروں میں کام کر سکتی ہیں اور انکو بھی مردوں کے برابر حقوق ملے ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی عورتوں کو حقوق نہیں دیئے جارہے ۔بعد ازاں قومی اسمبلی کو وفقہ سوالات کے دوران وزیر مملکت عابد شیر علی اور مختلف پارلیمانی سیکرٹریز نے اراکین اسمبلی کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے بتایا کہ سندھ میں15 بڑے بڑے سیاستدان بجلی چوری میں ملوث ہیں اور واسا کی سرکاری بجلی سے اپنی زمینوں کو سیراب کرتے ہیں ، بجلی نظام کو اپ گریڈ کیا جا رہا ہے ، لوڈ شیڈنگ کے حوالے سے کسی علاقہ سے امتیازی سلوک نہیں کیا جا رہا تاہم جن فیڈر ز پر لاسز زیادہ ہونگے یا بجلی چوری ہوگی یا صارفین بجلی بل ادا نہیں کریں گے وہاں پر بجلی فراہم نہیں جائے گی ، خیبر پختونخوا میں گرڈ سٹیشنز کی تعمیر نہ ہونے کی وجہ سے مسائل کا سامنا ہے ، جن علاقوں میں بجلی چوری زیادہ ہے وہاں پر اراکین اسمبلی ہماری مدد کریں ورنہ اگلی گرمیوں میں دوبارہ چیخ و پکار ہوگی ۔اسلام آباد میں سرکاری رہائش گاہوں کی تعمیر پر پابندی کی وجہ سے مسائل درپیش ہیں ، زرعی اراضی کے کمرشل استعمال کی وجہ سے ملک بھر میں زرعی اراضی کم ہورہی ہے، مگرشماریات ڈویژن ہمیں غلط اعدادو شمار فراہم کرتا ہے،کسی بھی صو بائی حکومت نے ہمیں زرعی اراضی کے کمرشل استعمال سے متعلق اعداد وشمار فراہم نہیں کئے ہیں ۔

قومی اسمبلی

مزید : صفحہ آخر