ممتاز رائٹر اور شاعر ادیب سہیل 90 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

ممتاز رائٹر اور شاعر ادیب سہیل 90 برس کی عمر میں انتقال کر گئے
 ممتاز رائٹر اور شاعر ادیب سہیل 90 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

  

لاہور(ناصر بشیر) اردو کے ممتاز ادیب شاعر اورا نجمن ترقی اُردو کے ادبی ماہنا سے ’’قومی زبان‘‘ کے سابق مُدیر ادیب سہیل گزشتہ روز کراچی میں 90برس کی عمر میں وفات پا گئے اُن کا اصل نام سید محمد ظہور الحق تھا۔ ادیب سہیل 18جون 1927ء کو جوراہ ضلع مونگیر(بہار) میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے قیام پاکستان کے بعد پہلے مشرقی پاکستان اور پھر کراچی سے سکونت اختیار کی۔ ان کی تصنیفات میں شعری مجموے’’بکھراؤ کا حرفِ آخر‘‘اور کچھ ایسی نظمیں ہوتی ہیں‘‘اہم ہیں ۔ اس کے علاوہ ’’رنگ ترنگ‘‘ کے نام سے انہوں نے موسیقی کے موضوع پر بھی ایک کتاب لکھی۔’’غم زمانہ‘‘ کے نام سے انہوں نے ایک منظوم سوانح عمری بھی لکھی ان کی نمازِ جنازہ آج جمعرات کو بعد نمازِ ظہر مدینہ مسجد13ڈی ون وقاص مارکیٹ گلشن اقبال کراچی میں ادا کی جائے گی۔ صدر انجمن ترقی اُردو ذوالقرنین جمیل علمی و ادبی مشیر پروفیسر سحر انصاری اور معتمد ڈاکٹر فاطمہ حسن نے گہرے دُکھ کا اظہار کیا ہے۔ لاہور کے شاعروں اور ادبیوں ڈاکٹر ناصر عباس نیر ڈاکٹر خالد سنجرانی، ڈاکٹر وحید الرحمٰن،پروفیسر ناصر بشیر،حسین مجروح، ڈاکٹر طارق جاوید،ڈاکٹر خادم حسین رائے، ڈاکٹر عبدالکریم خالد اصغر ندیم سید ڈاکٹر فخرالحق نوری، علی نواز شاہ،مظہر سلیم مجوکا،محمد متماز راشد،عاصم بٹ،کیپٹن عطا محمد خان،ابرار ندیم انوار قمر،ڈاکٹر عمرانہ مشتاق مانی،گلزار بخاری،امتیاز ساجد ڈاکٹر تنویر حسین اور ڈاکٹر مظہور عثمان نے ان کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

مزید : صفحہ آخر