صحت عامہ کی ناقص صورتِ حال غفلت کا نتیجہ ہے،شوریٰ ہمدرد

صحت عامہ کی ناقص صورتِ حال غفلت کا نتیجہ ہے،شوریٰ ہمدرد

لاہور(پ ر)بیس کروڑ سے زائد آبادی والے ملک میں صحتِ انسانی کی بحالی کے لیے صرف ایک طریقۂ علاج ناکافی ہے اس لیے متبادل طریقۂ علاج کو فروغ دینے اور جابہ جا انکے مراکز قائم کرنا بھی از حد ضروری ہے۔پاکستان میں صحت عامہ کی دِگر گوں صورتِ حال ،طبی سہولیات کا فقدان ،جعلی ادویہ کی تیاری اور پھیلاؤ ریاستی ذمہ داران کی غفلت کا نتیجہ ہے ،صوبائی اور مرکزی حکومتیں اس ضمن میں اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کریں اور اپنی اوّلین ترجیحات میں شامل کریں۔ ان خیالات کا اظہار گذشہ روز شوریٰ ہمدرد کے اجلاس میں’’ پاکستان میں صحت عامّہ کی دِگر گُوں صورتِ حال اور حکومتی ذمہ داریاں‘‘کے موضوع پر مقررین نے اپنے خطاب میں کیا ۔اجلاس میں ڈاکٹر رفیق احمد،بشریٰ رحمن ،چیئرمین پاکستان طبی فارما سیوٹیکل مینو فیکچررز ایسوسی ایشن عرفان شاہد،جوائنٹ سیکرٹری پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن ڈاکٹر طلحہ شیروانی ،ڈاکٹر آصف محمود جاہ،ڈاکٹر عظمت الرحمن ، حکیم راحت نسیم سوہدروی،پروفیسر نصیر اے چوہدری،جنرل(ر)راحت لطیف، میجر (ر)صدیق ریحان ،انجینئر جاوید یونس اوپل،ڈاکٹر سعید احمد سعیدی، میجر (ر)خالد نصر،شعیب مرزا، ڈاکٹر اے آر چوہدری، لیفٹیننٹ جنرل (ر)پروفیسر ایم افضل نجیب، رانا امیر احمد خان و دیگر شامل تھے۔مقررین نے مزید کہاکہ حکومت عطائی ڈاکٹرز ،طبیب اور ایسے معالجین جو چند رُپوں ،سہولیات اور مراعات کی خاطر ناقص اور ایکسپائیر ادویات کے استعمال سے معصوم انسانوں کی جانوں سے کھیلتے ہیں کے خلاف فی الفور سخت اقدامات کرے ،ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کو فعال اور مؤثر بنایا جائے تاکہ ملٹی نیشنل کمپنیز اور لوکل کمپنیزکے نرخوں اور کوالٹی سے متعلق قانون پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جاسکے۔

مزید : میٹروپولیٹن 4