اینٹی کرپشن کا 95فیصد ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ ترقیاتی منصوبوں میں کرپشن کو سختی سے روکا جائیگا :مظفر رانجھا

اینٹی کرپشن کا 95فیصد ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ ترقیاتی منصوبوں میں کرپشن کو سختی ...

ملتان(نمائندہ خصوصی )ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب برگیڈئیر (ر) مظفر علی رانجھا نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کا وژن ہے کہ کرپشن کو پوری قوت کے ساتھ روکا جائے تاکہ گڈ گورننس کو فروغ مل سکے۔ توانائی، ٹرانسپورٹ(بقیہ نمبر26صفحہ12پر )

اور دیگر میگا پراجیکٹس میں کرپشن کا کھوج لگانے کے لئے ماڈرن سائنس سے استفادہ کیا جارہا ہے اور ماہر ہیومن ریسورس کو محکمہ میں لایا جارہا ہے۔ محکمے کے تشکیل نو کی جارہی ہے انفراسڑکچر میں اضافہ کیا جارہا ہے۔ جوابدہی کے نظام کو مؤثر بنایا جارہا ہے اور فائنل سسٹم کو کمپیوٹر ائزڈ کیا جارہا ہے۔ محکمہ انسداد رشوت ستانی نے صوبہ بھر سے 900کرپٹ لوگوں کو گرفتار کیا ہے جس میں بڑے بڑے عہدوں کے افسران بھی شامل ہیں۔ ضلع مظفر گڑھ میں 4400کنال سرکاری زمین قبضہ مافیا سے واپس حاصل کی گئی جبکہ مزید 6000کنال زیر قبضہ زمین کی واپسی کے لئے کارروائی کی جارہی ہے۔ اس کیس میں غلط الاٹمنٹ کرنے والے ڈی سی او کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔ ڈیرہ غازی خان اور رحیم یار خان میں بھی سرکاری رقبہ قابضین سے واگزار کرایا جائے گا۔ اس سال گندم کی خریداری سیزن میں محکمہ خوراک کے افسران اور سٹاف کی سخت مانیٹرنگ کی جائے گی اور کاشت کاراور کسان کی جیب پر ڈاکہ نہیں ڈالنے دیا جائے گا۔ اس حوالے سے تیاری مکمل ہے۔ محکمہ انسداد رشوت ستانی کے افسران اور ملازمین کو پانچ ہزار سے پچاس ہزار روپے تک ماہانہ اینٹی کرپشن الاؤنس دیا جائے گا۔یہ بات انہوں نے محکمہ انسداد رشوت ستانی ملتان ریجن کے آفس میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ ڈائریکٹر محکمہ اینٹی کرپشن ملتان ریجن گوہر مشتاق اور ڈائریکٹر بہاول پور ریجن طارق بخاری، ایس ایس پی سپیشل برانچ چوہدری شریف ظفر اور ایس ایس پی پنجاب کانسٹیبلری مسعود احمد بھی اس موقع پر موجو دتھے۔ڈائریکٹر جنرل محکمہ انسداد رشوت ستانی پنجاب نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی واضح ہدایات ہیں کہ ترقیاتی منصوبوں میں کرپشن کو روکا جائے تاکہ عوام کی امانت ایک ایک پائی صحیح طریقے سے خرچ کی جاسکے۔ اس حوالے سے محکمہ کو منظم کیا جارہا ہے۔ سرگودھا میں دو ایکڑ رقبہ پر اینٹی کرپشن کمپلیکس تعمیر کیا گیا ہے۔ساہیوال میں کمپلیکس کی تعمیر کے لئے فنڈز جاری کردئیے گئے ہیں جبکہ آنے والے بجٹ میں ڈی جی خان میں دفاتر اور رہائش گاہوں پر مشتمل کمپلیکس کی تعمیر کے لئے فنڈز مختص کئے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا شعبہ قائم کیا گیا ہے۔17اسسٹنٹ ڈائریکٹرز اس شعبہ میں کام کررہے ہیں اور 95فیصد ریکارڈ کو کمپیوٹر ائزڈ کرلیا گیا ہے۔ محکمے کیلئے38گاڑیاں خرید لی گئی ہیں جو کہ انویسٹی گیشن کے شعبہ کو دی جائیں گی۔ ان گاڑیوں میں ٹریکر نصب کئے جائیں گے تاکہ گاڑیوں کو صرف تفتیش کے لئے استعمال کیا جاسکے۔ تفتیش کے شعبے کے لئے نئی بھرتیاں کی گئی ہیں جن میں70فیصدخواتین منتخب ہوئی ہیں۔ ان افسران کی تربیت جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ کے لیگل کے شعبہ کے لئے31آفیسرز بھرتی کئے گئے ہیں۔ ان نئے افسران کی وجہ سے محکمہ نے سپریم کورٹ میں دائر تمام کیسز جیتے ہیں۔ مظفر علی رانجھا نے کہا کہ محکمے میں انٹیلی جنس کا شعبہ قائم کیا جارہا ہے تاکہ افسران کی کارکردگی پر کڑی نظررکھی جائے گی۔ اس شعبے کا انچارج ڈائریکٹر لیول کے عہدے کا آفیسر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ محکمے کے تمام افسران اور سٹاف کو 31مارچ تک اپنے اثاثے ظاہر کرنے کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے۔ اس تاریخ تک اثاثے ظاہر نہ کرنے والوں کی ترقی روک دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ نااہل لوگوں کو محکمہ سے نکال دیا جائے گا جبکہ دیانت دار اور محنتی افسران کی چٹان بن کر حفاظت کی جائے گی۔ڈائریکٹر جنرل مظفر علی رانجھا نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ میگا پراجیکٹس میں کرپشن روکنے کے لئے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اینٹی کرپشن کے عملے میں پلی بار گین کا تصور نہیں ہے۔ سزا اور ریکوری ہے ۔ پنجاب میں رشوت لینے والے لینڈکمپیوٹرائزیشن سنٹرز کے370ملازمین کو نوکری سے نکال دیا گیا ہے۔ بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی میں کرپشن کی تحقیقات جاری ہیں اور پچاس فیصد کا رروائی مکمل کی جاچکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ محکمے کے پاس 96ہزار شکایات موصول ہوئیں تھیں جن میں سے 300شکایات باقی ہیں دیگر شکایات کو نمٹادیا گیا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل نے بتایا کہ محکمہ کی جنوبی پنجاب میں شروع کئے گئے ’’صاف پانی‘‘ کے منصوبے پر گہری نظر ہے۔یہ121۔ارب روپے کی لاگت کا پراجیکٹ ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس سال 160ارب روپے کی گندم خریدی جائے گی۔ کرپشن کرنے والے محکمہ خوراک کے افسران اور اہلکاروں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہر سنٹر کی نگرانی کی جائے گی اور بار دانے کی تقسیم سے لے کر وزن تک کے تمام مراحل کی مانیٹرنگ کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ جھوٹی اور بے بنیاد درخواستیں دینے والوں کے خلاف بھی سختی سے نمٹنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس موقع پر ڈائریکٹر اینٹی کرپشن گوہرمشتاق نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملتان ریجن میں گزشتہ چار ماہ کے دوران 17لوگوں کو رنگے ہاتھوں رشوت لیتے ہوئے پکڑا گیا جن میں گریڈ18کے 2افسران بھی شامل ہیں قبل ازیں ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب برگیڈئیر (ر) مظفر علی رانجھا جب محکمہ اینٹی کرپشن ملتان ریجن آفس پہنچے تو پولیس کے چاک و چوبند دستے نے انہیں سلامی دی۔ ڈائریکٹر جنرل نے نو تعمیر شدہ انویسٹی گیشن رومز کا افتتاح کیا اور آفس کے لان میں آشوک کا پودا بھی لگایا۔

مظفر رانجھا

مزید : ملتان صفحہ آخر