بھارت پھر جھوٹا ثابت، اڑی حملے میں گرفتار 2 بے گناہ پاکستانی طالب علم رہا

بھارت پھر جھوٹا ثابت، اڑی حملے میں گرفتار 2 بے گناہ پاکستانی طالب علم رہا
بھارت پھر جھوٹا ثابت، اڑی حملے میں گرفتار 2 بے گناہ پاکستانی طالب علم رہا

  


نئی دہلی (ویب ڈیسک) اڑی حملے میں بھی پاکستان پر بے بناید الزام تراشی کرنے والے بھارت کو منہ کی کھانی پڑی گئی۔ خود بھارتی تفتیشی ادارے ”این آئی اے“ نے اوڑی کے فوجی کیمپ پر حملے میں سہولت کار ہونے کا الزام لگا کر پکڑے گئے 2 پاکستانی نوعمر طالب علموں کو بے گناہ قرار دیکر رہا کر دیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق این آئی اے حکام نے بتایا کہ فیصل حسین اعوان اور اسکا دوست احسن خورشید 21 ستمبر 2016ءکو پڑھائی کے معاملے پر گھر والوں سے جھگڑ کر باہر نکلے اور غلطی سے کنٹرول لائن پار کر کے مقبوضہ کشمیر میں داخل ہوئے جہاں بھارتی فوجیوں نے انہیں حراست میں لے لیا۔ دوران تفتیش انکے اڑی کیمپ پر حملے میں ملوث ہونے کے حوالے سے کوئی ثبوت نہیں ملے جس پر این آئی اے نے گزشتہ روز فیصل اور احسن کو رہا کر کے بھارتی فوج کی 16 ہیڈکوارٹرز کور کے حوالے کر دیا جو ان پاکستانی طالب علموں کو ان کے وطن واپس بھجوانے کا انتظام کرے گی۔ توقع ہے کہ دونوں طالب علموں کو کل جمعرات کو واہگہ بارڈر پر پاکستانی حکام کے حوالے کیا جائے گا۔

عالمی یوم خواتین پر بھارتی وزیر اعظم مودی کی تقریب میں مسلم خاتون کا حجاب اتروا لیا گیا

واضح رہے کہ 18 ستمبر 2016ءکو مقبوضہ کشمیر کے قصبہ اڑی میں نامعلوم افراد نے بھارتی فوج کے کیمپ پر حملہ کر کے 19 فوجیوں کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کر دیا تھا۔ 21 ستمبر کو ان بے گناہ پاکستانی طالب علموں کو پکڑ کر بھارتی فوج اور میڈیا نے بڑے زور شور سے ان کا تعلق اوڑی حملے سے جوڑا اور ان سے موبائل فون جی پی ایس ڈیوائس اور دیگر آلات برآمد کرنے کا دعویٰ کیا مگر اب ”این آئی اے“ نے ان دعووں کا بھانڈہ پھوڑ دیا کہ ان آلات کا اڑی حملہ کرنیوالے افراد سے کوئی رابطہ یا تعلق ثابت نہیں ہوا۔ احسن خورشید اور فیصل حسین اعوان کا تعلق آزاد کشمیر سے ہے۔

مزید : بین الاقوامی