’صدام حسین کو پکڑا تو اس نے ایسی بات کہہ دی کہ امریکی خفیہ ایجنسی کے تمام ایجنٹ شرم سے پانی پانی ہوگئے‘ امریکی قید میں عراق کے سابق صدر سے تفتیش کرنے والے سی آئی اے ایجنٹ نے 10 سا ل بعد تہلکہ خیز تفصیلات بیان کردیں

’صدام حسین کو پکڑا تو اس نے ایسی بات کہہ دی کہ امریکی خفیہ ایجنسی کے تمام ...
’صدام حسین کو پکڑا تو اس نے ایسی بات کہہ دی کہ امریکی خفیہ ایجنسی کے تمام ایجنٹ شرم سے پانی پانی ہوگئے‘ امریکی قید میں عراق کے سابق صدر سے تفتیش کرنے والے سی آئی اے ایجنٹ نے 10 سا ل بعد تہلکہ خیز تفصیلات بیان کردیں

  


نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے جب عراق کے صدر صدام حسین کو گرفتار کرکے تفتیش شروع کی تو انہوں نے تفتیش کاروں سے ایسی باتیں کہہ دی کہ وہاں موجود امریکی شرم سے پانی پانی ہو گئے۔ صدام حسین کی شناخت اور ان سے تفتیش کرنے والے سی آئی اے کے ایجنٹ جان نکسن نے ایک کتاب لکھی ہے جس میں انہوں نے اس تفتیش کی تفصیلات بیان کر دی ہیں۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق جان نکسن نے اپنی کتاب ’’ڈی بریفنگ دی پریزیڈنٹ: دی انٹیروگیشن آف صدام حسین‘‘ میں لکھا ہے کہ تو سب سے پہلے ان کی شناخت مقصود تھی، جو ان کی کلائی پر موجود دو خاندانی علامتوں، نچلے ہونٹ کے مخصوص زاوئیے اور ٹانگ پر گولی کے نشان سے ہوگئی۔ اس کے بعد میں نے ان سے مترجم کے ذریعے بات شروع کی۔ میں نے ان سے کہا کہ ’’میں تم سے کچھ سوال پوچھنا چاہتا ہوں اور تم سچ سچ ان کے جوابات دو گے، کیا تم سمجھ رہے ہو؟جواب میں صدام حسین نے سر ہلادیا۔ میں نے پہلا سوال پوچھا کہ ’’تم نے اپنے بیٹوں کو آخری بار زندہ کب دیکھا تھا؟‘‘ہم توقع کر رہے تھے کہ وہ ہٹ دھرمی دکھائیں گے لیکن انہوں نے جواب میں جو کہا اس سے ہمیں شدید دھچکا لگا۔ انہوں نے جواب دینے کی بجائے الٹے سوال داغے کہ ’’تم کون ہو؟ تم فوجی خفیہ ایجنسی سے ہو یا سول انٹیلی جنس سے؟ جواب دو، اپنی شناخت کراؤ۔‘‘ اس کے بعد صدام حسین نے گونج دار آواز میں کہا کہ ’’تم مجھ سے سیاست کے متعلق سوال کیوں نہیں پوچھتے ہو؟ میں تمہیں بہت اچھی طرح سیاست سکھا سکتا ہوں۔‘‘جب ان سے عراق کے تباہ کن ہتھیاروں کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ ’’تم نے ایک ’غدار‘تلاش کیا جس نے تمہیں مجھ تک پہنچا دیا۔ کیا اور ایسا کوئی غدار نہیں ہے جو تمہیں ہمارے تباہ کن ہتھیاروں تک پہنچا دے؟‘‘ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ ’’امریکی جاہل بدمعاشوں کا ایک ٹولہ ہیں، جو عراق کو نہیں سمجھتے اور اسے تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ عراق دہشت گرد قوم نہیں ہے، ہمارے اسامہ بن لادن کے ساتھ کوئی تعلقات نہیں ہیں، ہمارے پاس تباہ کن ہتھیار بھی نہیں ہیں اور ہم اپنے ہمسایوں کے لیے خطرہ بھی نہیں تھے، لیکن امریکی صدر(جارج ڈبلیو بش)کہتا ہے کہ عراق اپنے باپ پر حملہ کرنا چاہتا ہے اور اس کے پاس تباہ کن ہتھیار ہیں۔ امریکیوں میں سننے اور سمجھنے کے لیے درکار جرأت اور جذبہ نہیں ہے۔‘‘

مزید : بین الاقوامی