گلیوں کو کھیل کا میدان نہ بنائیں

گلیوں کو کھیل کا میدان نہ بنائیں
گلیوں کو کھیل کا میدان نہ بنائیں

  

روز مرہ تعلیمی امور  ختم کرنے  کے بعد گھر پہنچا ،کھانا کھایا، صلوۃٰ ادا کرنے کے بعد معمول کے مطابق لیٹ گیا ۔ ابھی بامشکل دس ہی منٹ گزرے کہ گھنٹی کے شور سے پورا گھر گونج اٹھا ،   یوں لگا جیسے کسی نے بے رخی سے  بٹن کا گلا ہی دبا دیا ،  بوجھل قدموں اورنیند کے غلبے میں دروازہ تک پہنچا ،تین  بچوں کو اپنے سامنے کھڑا  پایا، اس سے پہلے کہ میں کچھ پوچھتا  ان میں سے ایک بچے نے  جھٹ سے بولا  " انکل جی  چھت پر بال آئی ہے میں جا کر  لے لوں ، دوبارہ  شاٹ نہیں ماروں گا "۔  بچے کےتوتلے لہجے اور معصومانہ انداز نے میری نیم بند آنکھیں کھول کر مسکرانے پر مجبور کر دیا۔ میں نے کہا  اوپر جا کر گیند لے  لو اور واپسی پر چھت  کے دروازہ کو کنڈی لگا کر  آنا۔ بچہ ہرن کی پھرتی سے سیڑھی کی جانب لپکا ، پھر کیا تھا اگلے ہی لمحےباہر گلی سے آوازیں آنے لگی  "آ گئی۔۔۔ آگئی۔۔۔۔ آگئی"۔ 

مجھے اپنے بچین کی یادیں ایک خواب کی ماننددماغ میں گھومنے لگی۔  گرمیوں کی چھیٹوں میں  ہم پورا پورا   دن محلے کی گلیوں میں کرکٹ کھیلتے، اکثر دوپہر کے وقت گلی کے رہائشی  گھروں میں آرام فرماتے رہے ہوتے   ، ہمارے شورو غل سے ان کے آرام و نیند میں خلعل آتا۔  ڈانٹ سننے کے بعدسر جھکا کے کسی دوسری گلی میں برا جماں  ہو جاتے اور شام تک یہ سلسلہ یوں ہی جاری رہتا۔کئی بار  گیند کے لگنے سے گھر وں کےپائپ  ، کھڑیوں اور روشن دانوں کے  شیشے ٹوٹے ،گھر پہنچنے پر شکایات کی  بھر پورسنوائی ہوتی، لیکن پھر بھی  ہر حال میں  ادب و احترام  کا دامن کبھی بھی ہاتھ سے نہیں چھوٹا ۔

ملک کی ہر گلی محلے ،  کالونی اور ٹاون میں بچوں کے کھیلنے  اور تفریحی  کے لئے گراونڈ ز ، میدانوں اور پارکوں جیسے مواقع پیدا کرنا حکومت وقت کی ذمہ داری ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پارک ،تفریحی گاہیں ،کھیل کے میدان  اور گراونڈکی تعداد کم ہوتی جاری ہے۔ شہریوں کی شکایت ہے کہ ہم اپنے بچوں کو تفریحی کے لئے کہاں لے کر جائیں۔ قدرتی ماحول ، سبز و شاداب درخت، پھولوں کی خوشبو، ہری بھری گھاس  کے ساتھ صاف ستھری اور  پرفضا ہواہر صحت مند انسان کے لئے بہت حد ضروری ہے۔   

صحت مند ، امن  و سکون اورفلاحی معاشرے کے ساتھ  تفریح گاہیں ، پارکس، میلے اور کھیل کود کے میدان شہریوں کی  سوچ ، اگاہی اور ان کی زندگیوں میں مثبت تبدیلیاں رونما کرتیں ہیں۔ طلبہ کے لئے تعلیم کے زیور کے ساتھ تفریح، کھیل کود ان کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کے لئے آکسیجن کی طرح بہت حد ضروری ہے۔   طلبہ دن بھر  علم  کی روشنی سے مستفید ہونے کےلئے تعلیمی اداروں  میں اپنا وقت صرف کرتے ہیں ،شام کے اوقات  میں ذہنی اور جسمانی تھکن سے نجات حاصل کرنے کے لئے تفریح، کھیل کود اور جسمانی ورزش  جیسی  سرگرمیاںہی وہ واحد راستہ ہے جس سے نہ صرف سستی، کاہلی کو دور کیا جا سکتا ہے بلکہ جسمانی کمزوری کے ساتھ رُوح کی ترو تازگی اور اطمینان ملتا ہے۔   

ہمارے ملک کا المیہ ہے کہ حکومت اور ضلعی  انتظامیہ کی عوامی تفریحی سرگرمیوں اور سہولیات کی طرف کوئی توجہ نہیں ہے۔ بڑے شہروں میں میدانوںاور  پارکوں پر قبضہ مافیا، منشیات فروش اور  تجارتی عناصر کا راج نظر آتا  ہے۔ تفریحوں گاہوں اور کھیل کود کے میدانوں کو ختم کرکے کالونیاں،  رہائشی اسکیم اور پلاٹس میں تبدیل کردیا گیا ہے، بعض مقامات پر  بچت بازار لگا دئیے ہیں۔ مشاہدہ میں  آیا ہے کہ حکام کی ملی بھگت سےکاروباری اور بزنس طبقے نے کئی جگہوں پر قبضہ کر رکھا ہے۔ بعض پارکس  اور میدان شادی  وبیاہ کی تقریبات کے لئے مخصوص کر دئیے گئے ۔پارکوں میں بچوں کی تفریحی کے مواقع   موجود نہیں، صفائی کا خاطر خواہ نظام نہیں ہےانہی تمام وجوہات کے باعث شہرو ں کے پارکس ، تفریحی گاہیں اور میدان  اجاڑ ہو چکے ہیں۔حکومتی اداروں کی اولین ذمہ داری ہے کہ انسانیت کی فلاح و بہتری کے نیک نیتی سے مثبت اقدامات اٹھائیں۔

دور حاضر کی  نوجوان نسل فراغت کے اوقات غیر صحت مندانہ سرگرمیوں میں صرف کر رہے ہیں۔ تفریحی کے لئےٹی وی کیبل ہر گھر، آفس اور دفاتر  کا جزو  بن چکی ہے،انٹرنیٹ کی ایجاد سے جہاںتعلیم و ترقی کی دنیا میں نئی جدت آئی ہے ،وہاں اس کے منفی اثرات بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ لیب ٹاپ،  اسمارٹ موبائل فون، آئی پیڈ پر گھنٹوں گزرنے کا پتا ہی نہیں چلتا ۔ اس کا سب سے زیادہ نقصان کم عمراور نا پختہ ذہین   کو ہو رہا ہے جوبے راہ روی اور منفی سرگرمیوں کا شکار ہوتے ہیں۔  روزمرہ کےمعمولات سے جہاں پیسے اور وقت  کا ضائع ہو رہا ہے وہاں صحت کے اہم  مسائل بھی جنم لے رہے ہیں۔ بچوں میں بینائی کے ساتھ ساتھ، جسمانی و اعصابی کمزوری جیسےامراض  پیدا ہو رہے ہیں، بیماریوں سے لڑنے کی طاقت(قوت مدافعت)  کم ہوتی جار ہی ہے۔ماہرین کے مطابق ایک صحت مند انسانی دماغ  زیادہ بہتر اور افعال طریقے سے کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مصروف زندگی کے باعث  شہریوں کو بہت زیادہ  ذہنی دباؤ اور  کھچاؤ کا ہمہ وقت سامنا رہتا ہے جس سے ان کی شخصیت میں غصہ اور  چڑاچڑاپن کی کیفیت بڑھ رہی ہے۔  بسر اوقات ایسا محسوس ہوتا ہےکہ ہماری زندگی کی حرکات و سکنات  ربوٹ کی مانند ہیں۔ سائنسی ترقی اور جدید ٹیکنالوجی میں جدت آنے کے ساتھ نوجوان نسل  کی تفریحی سرگرمیوں میں دل چسپی ختم ہوتی  جار ہی ہے۔  ان تمام حالات میں ضرورت  اس امر کی ہے کہ نوجوان نسل کو جسمانی کھیل کے میدانوں کی طرف راغب کئے جائے ، حکومت وقت کو چاہئے نئے پارکس ، تفریحی گاہوں کے ساتھ پہلے سے موجود مقامات  کی تعمیر و ترقی پر توجہ مرکوز کرے ۔ عوام الناس کی ذمہ داری ہے کہ پارکس، تفریحی گاہوں اور میدانوں میں کوڑا کرکٹ،   کچرا، اور دیگر تعمیراتی و ویسٹ آئٹم  مت پھینکیں۔یہ ملک ہمارا گھر ہے اس کی تعمیر و ترقی اور صفائی و ستھرائی ہم سب کا فرض ہے۔

 .

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -