ایران اب امریکہ کی چلنے نہیں دے گا

ایران اب امریکہ کی چلنے نہیں دے گا
ایران اب امریکہ کی چلنے نہیں دے گا

  

امریکی بحری جہاز کو ایک بار پھر ایرانی بحریہ کی جنگی کشتی نے راستہ بدلنے پر مجبور کردیاہے۔ امریکی جاسوس بحری جہاز کے ہمراہ دو برطانوی بحری جہاز بھی تھے۔ ایرانی فریگیٹ نے بہت قریب (600گز) کے فاصلہ پر پہنچ کر امریکی بحری جہاز کو راستہ تبدیل کرنے پر مجبور کیا۔ یہ امریکی بحری جہاز میزائلوں اور راکٹوں کی پروازوں کو ٹریک کرتا ہے اور پچھلے کئی سالوں سے اس علاقہ میں امریکہ کے لئے یہ کام کررہا ہے لیکن اب ٹرمپ حکومت کے آتے ہی ایسے جہازوں کی نقل و حمل تیز ہوگئی ہے۔ دوسری طرف ایران بھی اس علاقہ میں مکمل چوکس ہیں۔ امریکی جہاز اومان اور ایران کی سمندری حدود کے پاس تھا۔

امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے لئے بھی سخت زبان ہی اختیار کی ہوئی ہے۔ فروری میں ایران نے درمیانہ فاصلہ تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا تھا۔ جس کے بعد امریکہ نے ایران پر پابندیوں کا اعلان کیا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ ایران آگ سے کھیل رہا ہے۔ صدر اوباما ایران کے ساتھ بہت مہربان تھے لیکن مَیں نہیں ہوں۔

امریکی بحریہ نے ایرانی فریگیٹ کے اس عمل کو خطرناک اور نان پروفیشنل قرار دیا ہے کیونکہ امریکی جہاز کو مجبور کرنے کے لئے ہوائی فائرنگ بھی کی گئی۔

ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات 30 سال تک بگاڑ کا شکار رہے اور اس میں شدید اتارچڑھاؤ بھی آتے رہے۔ ایران کے صدر روحانی اور صدر اوباما نے جو تعلقات بہتر بنائے تھے وہ ایک بار پھر سے خرابی کی طرف رواں دواں ہوچکے۔

تنگہ ہرمز ایران اور اومان کے درمیان ایک تنگ راستہ کی مانند ہے جس کی چوڑائی 29سمندری میل (54 کلو میٹر) ہے۔ اس علاقہ سے دنیا کا 35 فیصد تیل اس سمندری راستے سے ہوکر گزرتا ہے۔ یہاں سے گزرنے کے لئے سمندری جہازوں کو بالکل سیدھا راستہ اپنانا پڑتا ہے یعنی دائیں طرف رہنے والے جہاز جانے اور بائیں طرف رہنے والے جہاز آنے کے مخصوص ہوتے ہیں۔ ایران اور اومان کے حدود سے ہوکر گزرنے کی وجہ سے عالمی معاہدہ کے تحت اقوام متحدہ کے سمندری حقوق اس علاقہ پر لاگے ہوتے ہیں۔

ایک اندازہ کے مطابق روزانہ 14سے 16 ٹینکر 27 لاکھ بیرل خام تیل لے کر اس جگہ سے گزرتے ہیں۔ جس کا بڑا حصہ انڈیا، چین، جاپان اور جنوبی کوریا کو جاتا ہے۔ یہ علاقہ ایران اور امریکہ کے درمیان 1988ء سے باعث نزع ہے۔ امریکہ نے اپریل 1988ء میں ایران کا ایک فریگیٹ اور گن بوٹس تباہ کردی تھیں۔ امریکہ نے اسی علاقہ میں ایران کا مسافر بردار طیارہ بھی مارگرایا تھا جس میں 290 مسافر شہید ہوگئے تھے۔

امریکہ نے اس سمندری راستے کو اپنے زیر نگیں رکھنے کی خاطر کوششیں ہمیشہ ہی جاری رکھیں۔ دسمبر 2007ء اور جنوری 2008ء میں بھی ایرانی اور امریکی بوٹس آمنے سامنے ہوئی تھیں۔ امریکہ نے ایران پر دباؤ ڈالنے کے لئے جولائی 2008ء میں اس علاقہ میں بحری مشقیں بھی کیں۔ امریکہ نے اپنی نیوی کا بڑا حصہ اس علاقے میں تعینات کیا ہوا ہے تاکہ اس علاقہ پر کنٹرول رہے۔

2011ء میں بھی ایرانی دھمکی نے امریکیوں کو الجھاؤ میں ڈال دیا تھا۔ 2012ء میں امریکی طیارہ بردار جہاز کی اس علاقہ میں آمد نے حالات ایک بار پھر سے سنگین کردئیے۔ تب سے اب تک اس سمندری روٹ پر ایران اور امریکہ کی کشمکش جاری ہے۔ اگرچہ امریکی اس علاقہ میں اپنی طاقت بنائے ہوئے ہیں اور ان کی بحریہ کو بحرین، قطر،ا بوظہبی اور سعودی عرب میں بحری بیڑہ کے لئے ہر طرح کی سہولتیں میسر ہیں لیکن اب ایران بھی مضبوط بنیادوں پر کھڑا ہے اور ایرانی بحریہ نے اپنے آپ کو پچھلے سالوں میں بہت مضبوط بنایا ہے۔ اگرچہ امریکی بحریہ بہت بڑی طاقت ہے لیکن ایرانی بحریہ اب اُس بربادی سے نکل چکی ہے جو 1979ء کے بعد سے ا یران، عراق جنگ کے مسلط کی گئی تھی۔ اس لئے امریکیوں کے لئے اس علاقہ میں قبضہ کا خواب شاید اب پورا نہ ہوسکے۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -