کچھ دہشت گرد پہاڑوں اور کچھ ایوانوں میں بیٹھے ہوئے ہیں ، حکمران میٹھا خود کھاتے اور کڑوا فوج کے منہ میں ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں:سینیٹر سراج الحق

کچھ دہشت گرد پہاڑوں اور کچھ ایوانوں میں بیٹھے ہوئے ہیں ، حکمران میٹھا خود ...
کچھ دہشت گرد پہاڑوں اور کچھ ایوانوں میں بیٹھے ہوئے ہیں ، حکمران میٹھا خود کھاتے اور کڑوا فوج کے منہ میں ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں:سینیٹر سراج الحق

  


اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہماری سرحدیں اور پاکستان جنگ کا مرکز بن گیا ہے، حکمران میٹھا خود کھاتے اور کڑوا فوج کے منہ میں ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں،  پاکستان میں مسلح دہشت گردی کے ساتھ مالی اور نظریاتی دہشت گردی ہو رہی ہے،کچھ دہشت گرد پہاڑوں پر اور کچھ ایوانوں اور دفتروں میں بیٹھے ہوئے ہیں،حکمرانوں کی دہشت گردی کی وجہ سے عوام مشکلات کا شکار ہیں، مساجد، مزارات پر دھماکے ہو رہے ہیں مگر جب کارروائی کی جاتی ہے تو اس میں بھی مساجد اور مزارات کو نشانہ بنایا جاتا ہے، مذہبی لوگ دہشت گردی میں ملوث نہیں ، اسلام نام ہی سلامتی کا ہے، دہشت گردی کا علاج نظام مصطفی ﷺ کے نفاذ میں ہے،توہین رسالت کے کیس میں وزیر داخلہ کو طلب کرنے پر ہائیکورٹ کے جج شوکت صدیقی کو سلام پیش کرتے ہیں ، جب کسی حکمران کے خلاف بات کی جاتی ہے تو سارے وزیر اس کے دفاع میں میدان میں آ جاتے ہیں مگر رسول  اللہ ﷺ کی گستاخی پر سب خاموش ہیں ،پاک افغان جنگ سے بھارت اور اسرائیل کو فائدہ ہو گا، مذاکرات سے مسائل حل کئے جائیں، حکمران عوام کا پیسہ اپنی حفاظت پر خرچ کر رہے ہیں۔

اسلام آباد میں  ملی یکجہتی کونسل کے زیراہتمام سپریم کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کی وجہ سے بیس کروڑ عوام یرغمال ہیں، پاکستان میں دہشت گردی حکمرانوں کی طرف سے عوام کو تحفہ ہے ، پرویز مشرف کی غلط پالیسی کی وجہ سے پاکستان کی سرحدیں اور پاکستان جنگ کا مرکز بن گیا ہے،  پاکستان میں مسلح دہشت گردی کے ساتھ نظریاتی اور مالی دہشت گردی ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ روس کو افغانستان میں شکست ہونے کے بعد نیٹو کے جنرل سیکرٹری سے پوچھا گیا کہ اب نیٹو کی ضرورت نہیں ہے تو اس نے اعلان کیا کہ اب اصل دشمن اسلام سے ہمارا سامنا ہو گا ، آج اسلامی دنیا میں جنگ اسی پالیسی کے تحت لڑی جا رہی ہے ، عراق، شام اور یمن اس کی تازہ مثال ہیں ، کرپٹ حکمران اس قابل نہیں ہیں کہ ملک کا دفاع کر سکیں۔ 1965ءاور 1971ءکی جنگ سے زیادہ لوگ ملک کے اندر دہشت گردی سے شہید ہوئے ہیں، 65 ہزار سے زائد دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں کے لئے کوئی لائحہ عمل نہیں ہے کہ ان کی کسی طرح مدد کرنی ہے ؟ پاکستانی حکمران کامیابیوں کو اپنے حصہ میں ڈالتے  اور ناکامیوں کو فوج کے حصہ میں ڈال دیتے ہیں۔

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ کچھ دہشت گرد پہاڑوں پر اور کچھ ایوانوں اور دفتروں میں بیٹھے ہیں۔ حکمرانوں کی دہشت گردی کی وجہ سے عوام مشکلات کا شکار ہیں، ملی یکجہتی کونسل قوم کو متحد کر رہی ہے ، جب تک پاکستان میں نظام مصطفیﷺ  نافذ نہیں ہوتا ، یہ سمجھیں گے کہ حکمران عوام کے ساتھ نظریاتی جنگ لڑ رہے ہیں، پانامہ کو مالی دہشت گردی سمجھتے ہیں، مدارس و مزارات اور ہر شہری کے تحفظ کے لئے ملی یکجہتی کونسل کردار ادا کر رہی ہے، توہین رسالت کے کیس میں وزیر داخلہ کو طلب کرنے پر ہائیکورٹ کے جج شوکت صدیقی کو سلام پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے اداروں کے سربراہوں کو بلا کر گستاخی کرنے والوں کو روکنے کا حکم دیا، بدقسمتی سے جب کسی حکمران کے خلاف بات کی جاتی ہے تو سارے وزیر اس کے دفاع میں میدان میں آ جاتے ہیں مگر رسول اللہ ﷺ کی گستاخی پر سب خاموش ہیں۔ سراج الحق نے ملی یکجہتی کونسل کے ممبران سے درخواست کی کہ جب ہائیکورٹ میں توہین رسالت کے مقدمہ کی سماعت ہو ہو تو سب کو ہائیکورٹ میں ہونا چاہئے تاکہ عدالت کے علم میں ہو کہ یہ کسی ایک جماعت کا نہیں پوری قوم کا مسئلہ ہے۔

سراج الحق نے کہا کہ پاک افغان کشیدگی سے بھارت اور اسرائیل کو فائدہ ہو رہا ہے۔ بھارت افغانستان کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہر قیمت پر مذاکرات ہونے چاہئے۔ جنگ سے دونوں ملکوں کے عوام متاثر ہوں گے، ملی یکجہتی کونسل کو سعودی عرب اور ایران کے سفارت خانے کا دورہ کرنا چاہئے کیونکہ پاکستان ہی امت مسلمہ کو ایک کر سکتا ہے،  پانامہ کے فیصلے سے کرپشن کو شکست ہو گی اور فیصلہ کرپشن اور کرپٹ نظام کے خلاف آئے گا،  جماعت اسلامی کا کرپشن کے خلاف جہاد جاری رہے گا۔سراج الحق نے کہا کہ حکومت بتائے کہ حافظ سعید کو کس جرم کے تحت قید کیا ہوا ہے؟ حکومت بھارت کی عینک سے حافظ سعید کو دیکھ رہی ہے، ہمیں یہ قبول نہیں ہے ،  آج بھارت کے کہنے پر حافظ سعید کو نظربند کیا گیا کل کسی دوسرے کو قید کر دیا جائے گا ،  حافظ سعید کی رہائی قوم کا مطالبہ ہے، فوری رہا کیا جائے ، پاکستان ہماری ماں کی چادر کی طرح ہے جو بری نظر سے دیکھے گا اس کی آنکھیں نوچ لیں گے۔

مزید : قومی