پیپلزپارٹی فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے آئینی ترمیمی بل کی تیاری کے اعلان پر پھنس گئی کیونکہ ۔ ۔۔

پیپلزپارٹی فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے آئینی ترمیمی بل کی تیاری کے ...
پیپلزپارٹی فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے آئینی ترمیمی بل کی تیاری کے اعلان پر پھنس گئی کیونکہ ۔ ۔۔

  


اسلام آباد(آئی این پی )پاکستان پیپلزپارٹی فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کی آئینی ترمیم کے بل کی تیاری کے اعلان پر پھنس گئی ،اس معاملے پر ہونے والی غلطی کے ازالہ کے لئے آبرومندانہ راستہ کی تلاش شروع کردی، تجاویزشامل نہ ہونے کی صورت میں بھی پیپلز پارٹی آئینی ترمیم کی حمایت پر مجبور ہوگی اور اپنے لئے کوئی نیا محاذکھڑا نہیں کرے گی۔

ذرائع کا دعوی ہے کہ بعض اہم حلقوں کو پیپلز پارٹی نے الگ سے اپنی پارلیمانی قوت دکھانے کے لئے پارلیمانی قائدین کے اجلاس کا بائیکاٹ کردیا تھا اور پارٹی کی سطح پر بل کا مسودہ تیارکرنے اور اس کی حمایت کے حصول کے لئے آل پارٹیز کانفرنس طلب کرنے کا اعلان کردیا۔ 28فروری کو پارلیمینٹ کی اکثریت جماعتوں میں فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کی آئینی ترمیم کے بل کے مسودے پر اتفاق رائے اور اے پی سی میں اہم پارلیمانی جماعتوں کی عدم شرکت پر پیپلز پارٹی کو اپنی غلطی کا انداز ہوگیا اور پار لیمینٹ سے باہر اس مسئلے کو لے جانے اور بل پر تنہا پرواز کی کوشش پیپلزپارٹی کو مہنگی پڑی اور اب اس مسئلے پر پیپلز پارٹی آبرومندانہ راستے کی تلاش میں ہیں سپیکر قومی اسمبلی سے پیپلز پارٹی کی حالیہ تسلسل کے ساتھ رابطوں کی وجہ بھی اسی کو بتایا گیا ہے.

ذرائع کا دعوٰی ہے کہ آئندہ ہفتے پارلیمینٹ میں فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کی آئینی ترمیم کا منظوری کا مرحلہ شروع ہو جائے گا پاکستان پیپلز پارٹی کو احساس ہو گیا ہے کہ وہ کسی کے ساتھ نئی محاذ آرائی کی متحمل نہیں ہو سکتی وہ ترمیم کے حق میں ووٹ دے گی اور آبرومندانہ راستہ دینے کے لیے پیپلز پارٹی کی برائے نام تجاویز کو ترمیم کا حصہ بنا دیا جائیگا۔

مزید : اسلام آباد