بائیو میٹرک طریقے سے الیکشن کرانے پر ایک ہزار ارب روپے کے اخراجات اٹھیں گے: سربراہ پلڈاٹ

بائیو میٹرک طریقے سے الیکشن کرانے پر ایک ہزار ارب روپے کے اخراجات اٹھیں گے: ...
بائیو میٹرک طریقے سے الیکشن کرانے پر ایک ہزار ارب روپے کے اخراجات اٹھیں گے: سربراہ پلڈاٹ

  


اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی (پلڈاٹ) کے سربراہ احمد بلال محبوب نے کہا ہے کہ الیکشن کیلئے بائیو میٹرک سسٹم قابل اعتماد نہیں بلکہ پیپر بیلٹ ہی بھروسہ مند طریقہ ہے۔ بائیو میٹرک ووٹنگ میں بہت سے لوگوں کے انگوٹھوں کے نشانات کی تصدیق نہیں ہو پاتی جبکہ اس سسٹم کو پورے ملک میں مکمل طور پر نافذ کرنے کیلئے ایک ہزار ارب روپے کے اخراجات اٹھیں گے۔

نجی ٹی وی دنیا نیوز کے پروگرام نقطہ نظر میں گفتگو کرتے ہوئے سربراہ پلڈاٹ احمد بلال محبوب کا کہنا تھا کہ بائیو میٹرک سسٹم ایک ہی الیکشن میں نافذنہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کو بتدریج نافذکرنا پڑے گا۔ انڈیا میں بھی بائیو میٹرک سسٹم کے نفاذ کیلئے تین سے چار الیکشن تک انتظار کرنا پڑاتھا ۔

’ انہوں نے مجھے انسانی کھوپڑی دی اور کہا کہ اسے کھاؤ، میں نے چکھی تو۔۔۔‘

انہوں نے کہا کہ بائیو میٹرک سسٹم کو سب سے پہلے تو نادرا کے سسٹم کے ساتھ جوڑنا پڑے گا اور پاکستان کا نظام اتنا مضبوط نہیں ہے کہ پورے ملک میں دو لاکھ پولنگ سٹیشنز کو بیک وقت نادرا کے ساتھ جوڑ سکے۔ اس کے علاوہ بائیو میٹرک سسٹم میں سب سے بڑا مسئلہ لوگوں کے انگوٹھوں کے نشانات کا گھِس جانا ہے جس کی وجہ سے سسٹم ان کی شناخت نہیں کر پاتا۔ہری پور الیکشن کے دوران 30 فیصد پولنگ سٹیشنز پر بائیو میٹرک طریقے سے ووٹنگ کا تجربہ کیا گیا تھا لیکن 40 فیصد کے قریب ووٹرز کے انگوٹھوں کی تصدیق نہیں ہو سکی جس کی وجہ سے یہ تجربہ ناکام رہا تھا۔

ٹھٹھہ میں 500 بستر کے ہسپتال کی تعمیر، سجاول اور ٹھٹھہ میں سوئی گیس کی فراہمی اور ہیلتھ کارڈ سکیم کے اجراکا اعلان، سندھ کی تعمیر نو کر کے لوگوں کے زخموں پر مرہم رکھیں گے : وزیراعظم نوازشریف

احمد بلال محبوب کا کہنا تھا کہ بیلٹ پیپر کا نظام ہی تسلی بخش ہے جس میں بہتری کی گنجائش نکالی جانی چاہیے۔ کیونکہ بائیو میٹرک سسٹم میں نہ صرف اوپر بیان کیے گئے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا بلکہ اس کو مکمل طور پر لاگو کرنے کیلئے کم از کم ایک ہزار ارب روپے کے اخراجات آئیں گے۔

مزید : قومی