گُردوں کا دائمی مرض یا کرونک کِڈنی ڈزیز

گُردوں کا دائمی مرض یا کرونک کِڈنی ڈزیز

  

گردوں کا دائمی مرض، جسے انگریزی میں کرانک کِڈنی ڈزینر یا (CKD) بھی کہا جاتا ہے ایک عام پایا جانے والا مرض ہے ۔ گردوں کی بیماری کو دل کے عارضے سے بھی منسلک کیا جا سکتا ہے، جبکہ گردوں کی تکلیف میں طوالت سے گردے خاتمے کی آخری سطح تک پہنچ سکتے ہیں۔پاکستان میں لوگ اس مرض کی تشخیص نہیں کرا پاتے ، ہر سال فقط 16,000 سے 20,000 کے قریب لوگوں میں اس مرض کی تشخیص ہوپاتی ہے ۔اسی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر اس بیماری کے حوالے سے پاکستان کا شمارآٹھویں نمبر پر آتا ہے۔

اس سال بین الاقوامی سطح پر منائے جانے والے کِڈنی ڈے پر ہم خصوصی طور پر خواتین کی صحت کے حوالے سے گردوں کی بیماریوں اور ان کے سدِباب کی آگہی پھیلا رہے ہیں۔دنیا بھر سے قریباََ 195 ملین خواتین CKD کا نشانہ بنتی ہیں جن میں سے قریباََ 6 لاکھ خواتین ہر سال لقمۂ اجل بن جاتی ہیں۔ اسی وجہ سے گردوں کی بیماری کو خواتین میں اموات کی آٹھویں بڑی وجہ سمجھا جاتا ہے۔مردوں کی نسبت خواتین میں اس بیماری کے بڑھتے رجحان کی ایک بڑی وجہ ترقی پذیر ممالک میں خواتین کے علاج میں حائل نفسیاتی اور معاشی و معاشرتی رکاوٹیں ہوتی ہیں جن کی وجہ سے یا تو ان کی بیماری کی بروقت تشخیص نہیں ہو پاتی اور اگر تشخیص ہو بھی جائے تو مناسب علاج اور احتیاط نہ ملنے سے بیماری میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ گو کہ متاثرہ گردے کی تبدیلی کو ایک موثر علاج سمجھا جاتا ہے، لیکن یہ سب صرف اس وقت ممکن ہے جب خواتین کی صحت کے حوالے سے انہیں بذاتِ خود مکمل آگہی ہو اور اس کے ساتھ ساتھ اُن کے علاج کے آسان اور کم خرچ مواقع میسر آ سکیں۔

مرد و خواتین میں گردوں کی بیماری کے محرکات ایک سے ہیں جن کا زیادہ تر تعلق فشارِخون یعنی ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس یعنی شوگر اور موٹاپے سے ہے۔خواتین سے مخصوص محرکات میں سب سے اہم ’لوپس نفرائٹس‘ (Lupus Nephritis) ہے۔ ’لوپس‘ سے مراد جسم کی وہ حالت ہے جس میں جسم میں موجود مدافعتی نظام ضرورت سے زیادہ فعال ہو جانے کی صورت میں بیماریوں سے لڑنے کے علاوہ اپنے جسم کے مختلف حصوں اور عوامل کو نشانہ بنانا شروع کر دیتا ہے اور جب گردے اس حالت کا نشانہ بنتے ہیں تو اُسے ’لوپس نفرائٹس‘ کہا جاتا ہے۔ اس تخریبی عمل کے نتیجے میں گردے ایک مستقل ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر بالآخر مکمل تباہ ہو جاتے ہیں۔اسی طرح گردوں کے ’پارنکائما‘ (Parenchyma) یعنی گردے کے ایک مخصوص انفرادی حصے کے کسی بیکٹیریائی انفیکشن میں مبتلاء ہو جانے یعنی ’پایلن فرائیٹس‘ (pylonephritis) میں مبتلاء ہو جانے سے بھی گردوں کا حتمی خاتمہ ہو سکتا ہے۔

اس قسم کے انفیکشنن کو اگر بغیر علاج رہنے دیا جائے تو یہ ایک یا بیک وقت دونوں گردوں کو متاثر کر سکتا ہے۔گردوں کی دائمی تکلیف سے حاملہ خواتین براہ راست متاثر ہوتی ہیں۔ یہ بیماری نہ صرف حمل پراثر انداز ہوتی ہے، بلکہ خواتین میں اولاد پیدا کرنے کی اہلیت کی صورت میں بچے اور ماں کی صحت پر بھی بُرے اثرات مرتب کرتی ہے۔پاکستان سمیت دنیا کے دیگر ترقی پزیر ممالک میں حاملہ خواتین کو صحت کی بنیادی سہولتوں کے فقدان کے باعث ہائی بلڈ پریشر، دیابطیس اور CKD وہ بیماریاں ہیں جو دورانِ حمل خواتین اور بچے کی صحت پر براہِ راست اثر انداز ہو کر مختلف پیچیدگیوں کا باعث بنتی ہیں۔

حمل بذاتِ خود گردوں کی مختلف بیماریوں کا باعث بھی بنتا ہے، کیونکہ دورانِ حمل بہت سی خواتین ہائی بلڈ پریشر کے ساتھ ساتھ پیشاب کے راستے لحمیاتی ذرات کے اخراج کے عمل سے بھی گزرتی ہیں، یہ دونوں عوامل انفرادی طور پر گردوں کی صحت پر اثر انداز ہوتے ہوئے دنیا بھر میں دورانِ حمل ہونے والی اموات کی بڑی وجہ سمجھے جاتے ہیں۔ اسی طرح ’پلیسنٹا‘ میں خرابی کے باعث ’سیپٹک ابارشن‘ اور بعد از پیدائش کا جریانِ خون جس میں پیدائش کے پہلے 24 گھنٹوں میں 500 ml سےml 1000 ملی لیٹرتک خون کا بہہ جانا، جسے PPH یا Post-Partum Hemorrhage کہا جاتا ہے۔ مریض کے گردوں کو شدید تر زخمی کرنے کا باعث بنتا ہے اور اس حالت کو ’اکیوٹ کِڈنی انجری‘ یا (AKI) Acute Kideny Injury کہا جاتا ہے جو پاکستان میں حاملہ خواتین میں پائی جانے والی گردوں کی تکالیف میں بنیادی حیثیت کی حامل ہے۔

چونکہ حمل اور گردوں کی تکالیف میں ایک بنیادی تعلق پایا جاتا ہے اس لئے خواتین میں حمل سے پہلے یا دورانِ حمل سب سے مثالی دورانیہ ہے جب وہ اپنے گردوں کا معائنہ کروانا شروع کر سکتی ہیں اور حمل کے کامیاب اختتام تک اپنے گردوں کی صحت کی جانچ پر نظر رکھ کر خود کو اور اپنی اولاد کو کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچا سکتی ہیں۔یہ ضرورتِ وقت ہے کہ حکومت سمیت دیگر بحالی صحت کے ادارے عوام میں بالعموم اور خواتین میں بالخصوص گردوں کی صحت، ان کو لاحقْ خطرات اور اُن سے بچاو کے ممکنہ طریقوں کے بارے آگہی پھیلائیں۔ شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اور ریسرچ سینٹر میں اس بات کو حتمی بنایا جاتا ہے کہ یہاں آنے والے تمام مریضوں کے گردوں کی ممکنہ بیماریوں کے حوالے سے جانچ کی جائے اور کسی بھی قسم کی بیماری کی تشخیص کی صورت میں ان مریضوں کو ہسپتال میں موجود گردوں کی بیماریوں سے متعلق شعبہ ’نفرالوجی‘ کے ڈاکٹروں کے زیر علاج لایا جاتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -