’’روک سکو تو روک لو ‘‘ کے تناظر میں چیئر مین سینیٹ انتخابات کیلئے جوڑ توڑ آخری مراحل میں

’’روک سکو تو روک لو ‘‘ کے تناظر میں چیئر مین سینیٹ انتخابات کیلئے جوڑ توڑ ...
’’روک سکو تو روک لو ‘‘ کے تناظر میں چیئر مین سینیٹ انتخابات کیلئے جوڑ توڑ آخری مراحل میں

  

’’روک سکو تو روک لو‘‘کے سیاسی نعرہ کے گرد ہی چیئرمین سینیٹ و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخابات گھوم رہے ہیں ، چیئرمین سینیٹ کے اہم ترین پارلیمانی عہدہ کیلئے وفاقی دارالحکومت میں شطرنج کی بازی سجی ہوئی ہے اگرچہ سیاسی بساط پر سابق صدر آصف علی زرداری ایک ماہر شاطر کے طورپر گردانے جاتے ہیں وہ بھی خوب سرگرم عمل ہیں لیکن تاحال وہ کوئی ایسی چال چلنے میں کامیاب نہیں ہوسکے جس کی بنیاد پر وہ اپنے حریفوں کو مات دے سکیں ، اسلام آباد میں جوڑ توڑ عروج پر ہے ، پاکستان مسلم لیگ ن کی جانب سے چیئرمین سینیٹ کے عہدہ کیلئے پہلے راجہ ظفر الحق اور پرویز رشید کے ناموں پر غور ہورہا تھا تاہم گزشتہ روز سابق وزیراعظم نوازشریف کی جانب سے دو عمدہ سٹروک کھیلے گئے ، انہوں نے پہلے میاں رضا ربانی کو دوبارہ چیئرمین منتخب کرنے کیلئے گرین سگنل دیا لیکن ان کی اس تجویز کو سابق صدر آصف علی زرداری کی جانب سے پذیرائی نہیں ملی بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اگر سابق وزیراعظم نوازشریف رضا ربانی کی حمایت کا اعلان نہ کرتے تو شائد پاکستان پیپلزپارٹی انہیں چیئرمین کے عہدہ پر دوبارہ نامزد کردیتی ، جبکہ کچھ لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن نے یہ چال چل کر پاکستان پیپلزپارٹی کے ایک عمدہ امیدوار کو فارغ کردیا ہے ، تاہم واقفان حال کے مطابق یہ دونوں باتیں حقائق کے منافی ہیں پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت پہلے ہی سے چیئرمین سینیٹ رضا ربانی سے نا خوش تھی کیونکہ چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے ایک نظریاتی سیاسی کے طورپر اپنی شناخت برقرار رکھی ہوئی ہے جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی کی موجودہ قیادت نظریاتی سیاست کو خیر باد کہہ کر پاکستان میں’’ قابل عمل‘‘ سیاست کو اپناچکی ہے ، درحقیقت پاکستان پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت بالخصوص آصف علی زرداری تو میاں رضا ربانی کو سینیٹر بنانے کے حق میں بھی نہیں تھے یہی وجہ ہے کہ چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی صوبہ سندھ میں فہرست میں آٹھویں نمبر پر دوبارہ سینیٹر منتخب ہو پائے ہیں ، وہ بھی اس بنا پر کہ وہ اس حوالے سے خود خاصے متحرک تھے اب چیئرمین سینیٹ کے عہدہ کیلئے اگر تو پاکستان تحریک انصاف ، پاکستان پیپلزپارٹی کی حمایت کرتی ہے تو زردداری صاحب کی کوئی چال بارآور ہوسکتی ہے پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے سینیٹر سلیم مانڈی والا کانام سامنے آیا ہے لیکن سنا ہے کہ اس پر کلی اتفاق نہیں ہے پیپلز پارٹی کے بعض حلقے شیری رحمن کانام دے رہے ہیں تاہم ایسا لگتا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کو چیئرمین سینیٹ کے انتخابات میں ہر دو صورت میں فائدہ ہے ، اگر تو پاکستان مسلم لیگ ن اپنا چیئرمین لانے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو یہ موجودہ حالات میں اس کیلئے ایک بڑی کامیابی ہوگی لیکن اگر خدا نخواستہ اسے پاکستان پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی کے اتحاد کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو یہ غیر فطری اتحاد پاکستان مسلم لیگ ن کیلئے آئندہ عام الیکشن میں سیاسی فائدہ کا باعث بن سکتاہے ، کیونکہ پی ٹی آئی کا پی پی پی سے اتحاد اس کی روایتی سیاست اور روایتی سیاست دانوں کیخلاف اصولی موقف کو بری طرح نقصان پہنچائے گا، تاہم پاکستان مسلم لیگ ن کے تاحیات قائد نوازشریف کی جانب سے میاں رضا ربانی کے نام کی تجویذمسترد ہونے کے بعد انکا دوسرا ماسٹر سٹروک سینیٹر حاصل بزنجو کا چیئرمین سینیٹ کیلئے نام سامنے لانے کا ہوسکتاہے ، کیونکہ حاصل بزنجو بلوچستان سے ووٹ لینے کی بھی صلاحیت رکھتے ہیں اور وہ رضا ربانی کی جمہوری و پارلیمانی میراث کو بھی لے کر چلنے کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں اگرچہ ابھی تک پاکستان مسلم لیگ ن کی جانب سے کوئی حتمی نام سامنے نہیں آیا ، لیکن سینیٹ میں پارٹی پوزیشن اور حالیہ جوڑ توڑ کو مد نظر رکھیں تو بظاہر پاکستان مسلم لیگ ن کو چیئرمین کے عہدہ کیلئے اکثریت حاصل کرنا ناممکن نظر نہیںآتاہے ، کیونکہ حال ہی میں ہونے والی سیاسی میل ملاقاتوں سے ظاہر ہوتاہے کہ ایم کیو ایم پاکستان ، اے این پی ، پختونخواہ ملی عوامی پارٹی ، نیشنل پارٹی، بی این پی مینگل ، جماعت اسلامی اور بعض فاٹا کے آزاد اراکین پاکستان مسلم لیگ ن کے بلاک میں جاتے ہوئے نظر آرہے ہیں ان کی کل نشستیں 56بنتی ہیں تاہم دوسری جانب پی ٹی آئی اگر بلوچستان کے سینیٹرزکے ہمراہ پاکستان پیپلزپارٹی کے ساتھ اتحاد کرلیتی ہے تو بھی ان کیلئے جیت کا مطلوبہ ہدف 53حاصل کرنا مشکل نظر آتاہے تاہم یہ نمبر گیم کا معاملہ ہے،اس حوالے سے اگر گزشتہ روز کی بلوچستان میں ہونیوالی پیش رفت کوسامنے رکھیں توعین ممکن ہے کہ چیئرمین کے عہدے کیلئے پی ٹی آئی کے نام پر پاکستان پیپلز پارٹی کو اتفاق کرنا پڑے، دوسری جانب دارالحکومت میں بعض حلقے تواتر سے دعویٰ کررہے ہیں کہ بعض قوتیں کسی صورت بھی پاکستان مسلم لیگ ن کو اپنا چیئرمین سینیٹ لانے نہیں دیں گی ، ان کے مطابق سینیٹ انتخابات کے انعقاد سے قبل نہ صرف بلوچستان میں ن لیگ کی حکومت کو راتوں رات چلتا کیا گیا بلکہ بعدا زاں مسلم لیگ ن کے امیدواروں سے پارٹی کا پلیٹ فارم چھین کرانہیں’’آزا د ‘‘کردیا گیا، تاہم اب بھی ایک طرف دہری شہریت کی تلوار ن لیگ کے حمایت یافتہ نو منتخب سینیٹروں کے سر پر لٹک رہی ہے جبکہ دوسری طرف مسلم لیگ ن کے حمایت یافتہ امیدواروں کوالیکشن کمیشن کی جانب سے آزادانہ حیثیت سے الیکشن لڑنے کی اجازت کو بھی متنازعہ بنا کر پورے انتخابی عمل کو ہی چلتا کیا جاسکتاہے ، غرض کہ روک سکو تو روک لو کے چیلنج سے نبردآزما ہونے کیلئے مختلف تدبیریں بروئے کار لائی جاسکتی ہیں ، دارالحکومت میں تسلسل کے ساتھ بعض حلقوں سے ایسی اطلاعات مل رہی ہیں لیکن جب ان معلومات کو سیاسی زمینی حقائق کے تناظر میں دیکھا جاتاہے تو یہ ان سے کلی میل نہیں کھاتیں یوں لگ رہاہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کو روکنے کی تدبیر مکمل ہے ، اس کے مسلسل اشارے بھی مل رہے ہیں لیکن یہ تدبیریں ملکی سیاست کے مزاج پر منطبق ہوتی نظر نہیں آرہی ہے جس کی وجہ سے ملکی افق پر دور دور تک ایک بے یقینی کی فضا چھائی ہوئی ہے۔

مزید : تجزیہ