ایف بی آر کی تطہیر کا عندیہ

ایف بی آر کی تطہیر کا عندیہ
 ایف بی آر کی تطہیر کا عندیہ

  


وزیراعظم پاکستان نے گزشتہ دنوں تاجروں کے نمائندہ وفود سے خطاب کرتے ہوئے جو کچھ کہا وہ مبنی بر حقیقت ہے۔ انہوں نے ٹیکس وصولیوں کو ریاست کے لئے انتہائی ضروری قرار دیا۔ اس بارے میں دو آراء نہیں ہیں کہ کارِ سرکار کو چلانے کے ٹیکس وصولیاں لازم و ملزوم ہوتی ہیں۔ عوام، ریاست کے شہری، ذمہ دار شہری اپنے حقوق کی بازیابی کے لئے اپنے فرائض کی ادائیگی کو اولین حیثیت دیتے ہیں۔ دورِ حاضر کی ترقی یافتہ ہی نہیں، ترقی پذیر ریاستوں میں بھی ’’ٹیکس‘‘ ایک ایمانی فریضے کے طور پر ادا کیا جاتا ہے۔

ٹیکس کی شرح بھی خاصی معقول ہوتی ہے۔ ان ممالک کے شہریوں کو مختلف مدات پر ٹیکسوں کی شرح بھی ازبر ہوتی ہے۔ وہ جمع تفریق کرتے ہوئے ، تخمینہ لگاتے ہوئے، سرمایہ کاری اور نفع کی شرح جانچتے ہوئے سب سے پہلے ٹیکس کے بارے میں سوچتے ہیں۔ جواباً ریاست اپنے شہریوں کو سہولیات مہیا کرنے کو اولین ترجیح دیتی ہے۔ شہریوں کے لئے بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی ریاستی ذمہ داری ہوتی ہے اور ریاستی ادارے اس ذمہ داری کی ادائیگی کے لئے ہمہ وقت متحرک رہتے ہیں اس طرح ریاست اور اس کے شہریوں کے درمیان مکمل ہم آہنگی قائم رہتی ہے۔

ایسی ہی ریاستیں ترقی کرتی ہیں، ایسی ہی قومیں مضبوط ہوتی ہیں۔

عوام ریاست کے سامنے اپنی اطاعت کا اظہار ٹیکس ادائیگی کی صورت میں کرتے ہیں، جبکہ ریاست، اپنے شہریوں کے ساتھ ہم آہنگی اور اپنی بزرگی و برتری کا اظہار انہیں بنیادی ضروریات زندگی فراہم کرکے کرتی ہے۔ اس طرح معاشرے متوازن رہتے ہیں۔ریاست پاکستان، مملکتِ پاکستان میں ایسا نہیں ہو رہا ہے نہ تو شہری ٹیکس ادا کرکے ریاست کے سامنے اپنی اطاعت اور وفاداری کا اظہار کرتے ہیں اور نہ ہی ریاست اپنے شہریوں کو ضروریات زندگی فراہم کرنے کے لئے مستعد نظر آتی ہے۔ ہمارا معاشرہ متوازن نہیں ہے۔ ریاست، مملکت اور اس کے باسیوں کے درمیان ہم آہنگی نہیں پائی جاتی ہے۔ ریاست کو اپنے شہریوں سے شکایت ہے کہ وہ اس کی اطاعت نہیں کر رہے ہیں۔

شہریوں کو شکایت ہے کہ ریاست ان کی ضروریات کا خیال نہیں رکھتی ہے۔ اس طرح معاشرے میں ہم آہنگی نہیں پائی جاتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں اس صورت حال کی صراحت کے ساتھ نشاندہی کی ہے۔ انہوں نے اس مرض کی نشاندہی کی ہے، جس کے باعث ہم کمزور ہیں۔ انہوں نے ایف بی آر کی کارکردگی کے بارے میں درست بات کی ہے کہ وہ ٹیکس جمع کرنے میں ناکام ہے، لیکن ہمیں یہ بھی پتہ ہونا چاہیے کہ ٹیکس وصولیوں کے حجم کا تعلق ملک کی مجموعی معاشی و اقتصادی صورت حال کے ساتھ ہوتا ہے۔ ٹیکس وصولیوں کے حجم کا تعلق قومی معیشت کی شرح نمو کے ساتھ ہوتا ہے، اگر قومی اقتصادیات سرعت کے ساتھ نشوونما پا رہی ہو۔

اشیاء و خدمات وافر مقدار اور تعداد میں پیدا ہو رہی ہوں تو وصولیوں کے حجم بڑھ جاتے ہیں اور معالات اگر دوسری سمت میں ہوں تو وصولیوں کے حجم مثبت اور خوش کن نہیں ہو سکتے ہیں۔ چند سال پہلے تک ٹیکس وصولیاں اس قدر نہیں تھیں، جس قدر 2017/18ء میں ہوئیں وزیراعظم پاکستان نے بتایا کہ ہماری ٹیکس وصولیاں 4.5ٹریلین روپے کے قریب ہیں۔ چند سال قبل تک یہ حجم دو یا اس سے ذرا سا زیادہ تھا۔ یہ وصولیاں ہمارے ایف بی آر کے باعث ہی ممکن ہو سکی ہیں۔ یہ محکمہ جیسا کیسا بھی ہے ہمارے محکمہ جاتی سٹرکچر کا آئینہ دار ہے، اس کی کارکردگی، وصولیوں کا حجم ہماری قومی معاشی کارکردگی کا عکس ہے۔ ایسا ممکن نہیں ہے کہ قومی معیشت کی نمو کی شرح تو گھٹ رہی ہو اور ایف بی آر کی کارکردگی خوشگوار ہو اور وہ ٹیکس وصولیوں کو بڑھا سکتے ہوں۔ معاشی تعمیر و ترقی کا تعلق کئی دیگر عوامل کے ساتھ ہوتا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے درست کہا کہ ایف بی آر کی کارکردگی بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ اس کی اہمیت بارے بھی انہوں نے درست فرمایا، لیکن جو طریقہ کار انہوں نے بتایا وہ شاید قابل عمل نہیں ہے کہ ’’نیا محکمہ کھڑا کر دیا جائے‘‘۔کسی بھی محکمے کی کارکردگی کا تعلق اس کے انسانی وسائل (ہیومن ریسورس) یعنی افراد کار کے ساتھ ہوتا ہے۔ پاکستان ایک عرصے سے سرمائے کی قلت کا ہی نہیں، بلکہ ہیومن کیپٹل کی عدم دستیابی کا بھی شکار ہے۔ ایک عرصے سے سرمایہ یہاں سے بھاگ رہا ہے۔ ہمارے سرکاری ادارے اور نظام نہ تو سرمائے کے لئے سہولت کاری کا کام کرتے ہیں، بلکہ ذہانت کو بھی فرار ہونے پر مجبور کرتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ یہاں کارآمد افراد کی دستیابی ایک مہم بن چکی ہے۔ پاکستان میں قابل بھروسہ پلمبر، الیکٹریشن میسن اور مزدور سے لے کرٹیکنالوجسٹ، انجینئر اور ڈاکٹر تک کوئی بھی دستیاب نہیں ہے۔ ہماری بیورو کریسی میں نئے آنے والے اپنی صلاحیت اور ذہانت کے اعتبار سے ریاست کو بدلتے ہوئے حالات کے مطابق چلانے کے لئے درکار افرادی قوت کے معیار پر پورے نہیں اتر رہے ہیں۔ ایسی ہی صورت حال دیگر شعبوں میں پائی جاتی ہے۔

ہمارے سیاسی معاشی اور سماجی حالات نہ تو سرمائے کی نمو اور نفع بخش بنانے کی طرف لے جاتے نظر آتے ہیں اور نہ ہی ذہانت کی پذیرائی کا کوئی نظام یہاں پر موجود ہے اگر کوئی ذہن ،قابلِ فخر اور کارآمد فرد جذبہ حب الوطنی سے سرشار ہو کر یہاں چلا آئے تواس کی ٹھیک ٹھاک درگت بنتی ہے، حتیٰ کہ وہ کانوں کو ہاتھ لگا کر یہاں سے واپس جانے ہی میں عافیت سمجھتا ہے۔ ہمارا معاشرہ ، معاشرتی نظام، سیاست، سیاسی نظام، مملکت اور اس کے ادارے شاید بانجھ پن کا شکار ہو چکے ہیں۔ ذہانت اور کارکردگی، ہنر و مہارت اور حب الوطنی کی یہاں کوئی خاص قدر اور پذیرائی نہیں ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے ایف بی آر کا ذکر کرتے ہوئے اس کی کارکردگی بارے جو کچھ کہا بالکل سچ ہے اور یہ سچ ریاست کے دیگر اداروں پر بھی لاگو کیا جا سکتا ہے۔ ہماری بیورو کریسی ،عوامی خدمت کے محکمے اور ان کے اہلکار ہر سطح کے افسران اور اہلکار کم و بیش ایک ہی طرزِ فکر و عمل کے حامل ہیں۔ ایسا نظر آتا ہے کہ پورا نظام آٹو پر چل رہا ہے، اس کا کوئی والی وارث نہیں ہے، جہاں کہیں تھوڑی بہت کارکردگی نظر آتی ہے تو و ہ ’’خدائی عطیہ‘‘ ہی ہے، وگرنہ ہم نے تو نظام کا ستیاناس کر رکھا ہے۔

ایف بی آر، لاریب ریاست پاکستان کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اس کی کارکردگی ، بہتر کارکردگی ہی ریاست پاکستان کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ اس کے احوال میں بہتری ہی مملکت کے حق میں ہے۔ ایف بی آر کی تطہیریا تنطیمِ نو کے ذریعے مطلوبہ نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں، اس محکمے میں تجربہ کار اور دیانتدار افراد بھی موجود ہیں، ان کی حوصلہ افزائی اور انہیں کارکردگی دکھانے کے مواقع دے کر بہتری کی صورت پیدا کی جا سکتی ہے۔ آزمائش شرط ہے۔

مزید : رائے /کالم