یہ سادہ دِل بندے کدھر جائیں؟

یہ سادہ دِل بندے کدھر جائیں؟
 یہ سادہ دِل بندے کدھر جائیں؟

  


ایک سیانے نے بالکل درست کہا کہ آج کے دور میں محروم طبقات کے لئے نہ تو کوئی جدوجہد کرنے والا ہے اور نہ ہی ایسا ہو گا،بلکہ یہاں غربت نہیں غریب مکاؤ مہم جاری رہے گی۔اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کہ کون آیا اور کون گیا،یہاں ایسی کسی تبدیلی کا امکان نہیں جو غربت ختم نہیں، کم ہی کر سکے۔ دوسری طرف ایک اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ آج کا دور کارپوریٹ سیکٹر کا ہے اور یہ اپنا نقصان نہیں چاہتے،اِس لئے جنگ کے امکان محدود رہیں گے۔ایک حد تک عملی بات ہے کہ اب بتدریج کشیدگی میں کمی آئی ہے،لیکن سکون اب بھی نہیں کہ بھارتی برسر اقتدار جماعت بی جے پی کے وزیراعظم مودی اور تشدد پسند، متعصب حامی اب بھی مہا بھارت کے خواب ہی دیکھ رہے ہیں اور مودی تو ایک تیر سے کئی کئی شکار کرنا چاہتے ہیں۔

یہ درست کہ وہ انتخابی حربے کے طور پر پاکستان کے ساتھ جنگ کی کیفیت پیدا کئے ہوئے ہیں،لیکن یہ صرف انتخابی چکر نہیں یہ تو حالات سے فائدہ اٹھانے والی بات ہے،کیونکہ یہ ثابت شدہ ہے کہ مودی متعصب اور مسلمان دشمن ہے وہ نہ تو خود اپنے ملک بھارت میں مسلمانوں کو برداشت کرتا ہے اور نہ ہی ہمسایہ میں پاکستان ایک آنکھ بھاتا ہے کہ یہاں سے ہی کشمیریوں کے حقوق کی بات ہوتی ہے اور یہ پاکستان ہے، جو اپنے دفاع کی پوری صلاحیت حاصل کر لینے کے بعد اس جارحیت کے خلاف ڈٹ کر کھڑا ہے جو بھارت کی طرف سے جاری ہے۔ پاکستان کا کارپوریٹ سیکٹر قدرے مطمئن نظر آ رہا ہے کہ اس کا نقطہ نظر کچھ مختلف نہیں۔

البتہ ان کے خیال میں جنگ نہیں ہو گی اور ہونی بھی نہیں چاہئے،بلکہ تجارت کی راہ کھولنے کی ضرورت ہے، تاہم میرے پاکستان کا عام آدمی، جس کا نام لے کر کھیل کھیلا جاتا ہے، بہت پریشان ہے کہ جنگ ہو یا نہ ہو، یہ بعد کی بات ہے،لیکن حالاتِ جنگ ہی نے ملک کے اندر معیشت کو اور بھی دھچکا لگایا ہے اور اس میں ہمارے محترم وزیر خزانہ اسد عمر بھی برابر کے شریک ہیں،ان کا فلسفہ تو درست ہے کہ قرض اتارنے کے لئے قرض لے رہے ہیں تاہم جو عمل ان کی طرف سے جاری ہے وہ بہت ہی تکلیف دہ ہے کہ بجلی، گیس اور پٹرولیم کے نرخ مسلسل بڑھاتے چلے جا رہے ہیں اور ایسے حالات پیدا ہو رہے ہیں کہ جلد ہی نہ کوئی گیس استعمال کرنے اور نہ ہی بجلی جلانے کی اہلیت کا حامل رہے گا۔

گیس ہیٹر اور گیزر کی عیاشی کو تو حالیہ سیزن ہی میں لوگ بھول گئے ہیں اور اللہ نے چاہا تو اسد عمر نیا پاکستان بنانے کے لئے عوام سے ائر کنڈیشنر اور پنکھے چلانے کا استحقاق بھی چھین لیں گے کہ آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکیج کے لئے سب سے پہلے ہی یوٹیلیٹی کے نرخ اتنے بڑھا دیئے جائیں گے کہ کوئی نچلے متوسط طبقے کا بابو تو کیا درمیانے طبقے والا بھی ائرکنڈیشنر چلانے میں کنجوسی پر مجبور ہو جائے گا۔

ستم بالائے، ستم یہ کہ حکمرانوں کو جو کل تک کنٹینر پر کھڑے ہو کر ٹیکسوں کے خلاف بات کرتے اور مہنگائی کی مذمت کرتے تھے، اب احساس ہی نہیں ہے کہ وہ تو کہتے ہیں صبر کرو اچھے دن آنے والے ہیں،حالانکہ آج ہی سیر صبح والے تاجرکہہ رہے تھے کہ اسد عمر سے خیر کی توقع ہی نہیں ہے۔ وہ تو مسلسل قیمتیں بڑھاتے چلے جا رہے ہیں کہ ان کے لئے یوٹیلٹی بوجھ ہی نہیں کہ وہ کب جیب سے بل ادا کرتے ہیں،آج کا پاکستانی جسے حقیقتاً پاکستانی ہونے کا شرف حاصل ہے وہ اپنے لئے تو دُکھی ہے،لیکن آئندہ نسلوں کے لئے پریشان بھی ہے اسے تو نظر آ رہا ہے کہ احتساب جو ہو رہا ہے اس کا نتیجہ عوام کے حق میں کیا ہوا، کیا300ارب ڈالر واپس آ گئے یا آ جائیں گے،اس کی نگاہ میں تو یہ ہے کہ جو حضرات احتساب عدالتوں کی پیشیاں بھگت رہے ہیں،

ان سے کوئی برآمدگی نہیں ہو رہی، نیب کی طرف سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اربوں روپے وصول کر کے سرکاری خزانے میں جمع کرائے گئے،لیکن آج تک نہ تو کسی نے بتایا اور نہ ہی کسی نے سوال پوچھا کہ نیب نے ’’پلی بارگین‘‘ کی سہولت کے تحت جو رقم وصول کی، اس میں سے کتنے فیصد قومی خزانے میں جمع ہوئی اور کتنے فیصد وصول کرنے والوں کو کمیشن کے طور پر ملی، قومی اسمبلی میں یہ شور تو مچایا جاتا ہے کہ احتساب انتقام میں تبدیل ہو گیا،لیکن آج تک کسی متاثرہ رکن اسمبلی نے بھی یہ سوال نہیں پوچھا کہ نیب نے کتنی رقم ’’پلی بارگین‘‘ فارمولے کے تحت وصول کی اور نیب حکام کو اس پر کتنا کمیشن ملا، کہ یہ بالکل جائز ہے اسے کرپشن کی کمائی نہیں کہا جا سکتا،کہ قانون میں گنجائش موجود ہے۔

سیر صبح کے بعد دوست ملے تو بات پاک بھارت کشیدگی تھی،ان کو اپنی فوج کی دفاعی صلاحیت پر اعتماد تھا اور یہ بھی بات ہوئی کہ کشیدگی کم ہوئی ہے،لیکن کہا یہی جا رہا ہے کہ خطرات اور خدشات موجود ہیں۔حضرات کا موقف تھا کہ قوم نے بھارتی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہو کر ثابت کر دیا کہ قربانی کے لئے تیار ہیں،لیکن ہمارے سیاسی قائدین اور سیاسی جماعتوں کے رویے میں کوئی فرق نہیں آیا، ہر کوئی امتیازی سلوک کی دہائی دیتا ہے،لیکن سب احتساب پر متفق نظر آتے ہوئے بھی اپنا نہیں دوسروں کا احتساب چاہتے ہیں اور یوں بھی جب قوم کے اتحاد کی بات کی جاتی ہے تو یہ سب اپنے درمیان توازن کیوں برقرار نہیں رکھتے اور مسلسل محاذ آرائی کیوں جاری ہے۔

قومی اسمبلی میں احتجاج جائز ہی سہی، لیکن ہنگامہ آرائی تو نہ ہو، پھر ایک دوسرے کے خلاف شدید نوعیت کی الزام تراشی کیوں؟ ادارے مضبوط کرنا ہیں تو احتسابی نظام کو بھی ٹھیک کر لیں جو اصحاب رسولؐ ہی کی پیروی پر مبنی ہو کہ کرتے کا حساب بھی پوچھ لیا جائے اور جواب دیا جائے یہ نہیں کہ جو آپ کی چھتری تلے آ گیا وہ دودھوں نہا گیا اور جو دوسری طرف وہ پلید کا پلید ہے۔احتساب کا نظام ہے تو عدلیہ کو کام کرنے دیں،آپ سب خود کیوں سزاؤں کا اعلان کرتے ہیں۔قصہ مختصر یہ کہ عوام کی پریشانی اور عوام کے مسائل کا ادراک ہی نئے پاکستان کی شکل بنا سکتا ہے اور اگر یہ عوام ہی نہ ہوں گے تو آپ کس پر حکومت کریں گے؟ ان کو زندہ رہنے دو۔

مزید : رائے /کالم