بھارت، جنوبی ایشیا کی پسماندگی کا ذمہ دار

بھارت، جنوبی ایشیا کی پسماندگی کا ذمہ دار
 بھارت، جنوبی ایشیا کی پسماندگی کا ذمہ دار

  


جنوبی ایشیا وسائل کی موجودگی کے باوجود عالمی سطح پر جہالت ، غربت، پسماندگی اور بے بسی کے حالات سے مسلسل دوچار ہو رہا ہے، جبکہ باقی دنیا کے بیشتر لوگ خاصی ترقی اور پیش رفت کر گئے ہیں۔ترقی یافتہ ممالک کے لوگ تو بہتر سطح پر ہوتے ہوئے بھی محنت اور ذہانت بروئے کار لا کر اپنا حال اور مستقبل ہمہ وقت نسبتاً ترقی اور خوشحالی کی منازل طے کرنے پر صرف کر رہے ہیں۔ ایشیا کے بعض ممالک کے حالات دو یا تین دہائیوں سے آج کل قابل ذکر کامیابیوں کے حصول تک پہنچ گئے ہیں۔

سنگاپور، جاپان، چین، ملائیشیا اور جنوبی کوریا کے لوگ محنت اور دیانت کے اصولوں پر کاربند ہو کر نمایاں معاشی مقام حاصل کرنے میں بہتر کارکردگی دکھا رہے ہیں، جبکہ دیگر قریبی ممالک بھی اگر خود مختاری اور صحیح آزادی کا اعزاز لینے کے خواہش مند ہیں تو پھر ان ممالک کے سیاسی قائدین کو بھی اپنے مقامی وسائل کو فضول خرچیوں اور لوٹ مار کی بھینٹ چڑھانے سے نہ صرف خود باز رہنا ہوگا، بلکہ اہل وطن کو بھی رکھنا ہو گا۔

موجودہ صورتِ حال میں تو چین، سی پیک کے تحت پاکستان میں، انسانی ضروریات کے منصوبے شروع کرکے سرمایہ کاری کے مثبت طریقے جاری کرنے میں ہر اول دستے کردار ادا کررہا ہے۔ کسی معاشی معاملے میں بھی آگے بڑھنے کے لئے مقامی وسائل کو جدید تقاضوں کے مطابق استعمال میں لانے سے ہی تعمیر و ترقی کے مطلوبہ نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔ایسی فنی استعداد اگر مقامی افرادی قوت سے لی جائے تو بیرونی ماہرین پر خرچ کرنے کی رقوم کے ضمن میں کافی بچت کرکے ایسے منصوبوں کی تکمیل کی جا سکتی ہے۔

بھارت کی آبادی 125کروڑ بتائی جاتی ہے، جن میں تقریباً 25کروڑ مسلمان ہیں۔ وہاں ان کی حالت تعلیم ،تجارت اور ملازمتوں میں نچلے درجوں کی ہے۔ یوں ان کی معاشی حالت فی الوقت نسبتاً بہت زبوں سطح تک ہی محدود ہے، جبکہ ہندو آبادی کی اکثریت، بیشتر وسائل زندگی کے حصول سے فیض یاب ہو رہی ہے۔ اس نوعیت کے حالات سے بھارت کے مسلمان، ترقی اور انسانی حقوق کے تحفظ سے مسلسل محروم چلے آ رہے ہیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے لوگ، جو 80فیصد سے زائد مسلم آبادی پر مشتمل ہیں، گزشتہ پون صدی سے بھارتی تسلط کے تحت عملاً غلامی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ وہ حصولِ آزادی کی نعمت کے لئے مسلسل احتجاج، ہڑتالیں اور مظاہرے کرتے رہتے ہیں۔

اس طرح وہ بھارتی حکمرانوں کو اپنا جائز مطالبہ اور بیرونی مہذب دنیا کو اپنا قانونی کردار ادا کرنے پر قائل کرنے کی خاطر ، ان کی توجہ اور سفارتی و اخلاقی امداد طلب کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کا عالمی ادارہ 1945ء میں بنیادی طور پر انسانی حقوق کے تحفظ اور جابرانہ حکمرانی سے لوگوں کو آزاد کرانے کے لئے وجود میں لایا گیا تھا۔ سلامتی کونسل سب سے اہم اور موثر ادارہ ہے جو محکوم و مجبور لوگوں کے انسانی حقوق کے پامال ہونے سے بچانے کا کردار سرانجام دیتا ہے۔ اس ادارے کے پانچ مستقل ممالک امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس اور چین ویٹو استعمال کرنے کا خصوصی استحقاق رکھتے ہیں جو وہ اپنے مقاصد کے حصول کے لئے بعض اوقات بروئے کار لاتے ہیں۔

یہ امر باعث افسوس ہے کہ بھارتی حکمران گزشتہ 70سال سے اہل کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پاس کردہ متعدد قراردادوں کے تحت حق خود ارادیت دینے سے مسلسل انکار کر رہے ہیں، حالانکہ بھارت کے سابق وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو ہی ہیں جو تنازعہ کو اس عالمی ادارہ میں لے کر گئے تھے اور ان قراردادوں میں یہ اصول وضع کیا گیا تھا کہ اہلِ کشمیر کو کسی جبر، دباؤ اور اثر و رسوخ کے بغیر، اپنی آزاد مرضی اور رضامندی سے بھارت یا پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے کا حق حاصل ہے اور اس مقصد کے لئے وہاں سے بھارت کی متعین کردہ مسلح افواج کو جموں و کشمیر سے باہر نکال کر حق رائے دہی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

بھارت کے سابق وزیراعظم کی اس نوعیت کی قراردادوں کو تسلیم کرنے کے باوجود آج تک بدقسمتی سے مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کو حق خودارادیت کے استعمال کا موقع فراہم نہیں کیا گیا۔ اس طرح جنوبی ایشیا میں امن و سکون اور سیاسی استحکام کے حالات قائم نہیں ہو سکے، کیونکہ اہل کشمیر، اس بنیادی حق سے محرومیت کی بنا پر آئے روز، بلکہ شب و روز اپنے احتجاجی مظاہرے موت سے بے خوف ہو کر جرات و ہمت سے کرتے رہتے ہیں۔ بھارتی فوج ان لوگوں پر فائرنگ، لاٹھی چارج، گرفتاریوں اور نظر بندیوں سے قابو پانے کی جتنی بھی ظالمانہ سرگرمیاں روا رکھتی ہے وہ لوگ عزم و حوصلے سے برداشت کرتے ہوئے اپنی تحریک آزادی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اس کے برعکس بھارتی حکمران ان کو آزادی دینے کی بجائے اپنے سالانہ بجٹ میں اربوں روپے کا اضافہ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس طرح جنوبی ایشیا کے 150کروڑ عوام غربت، جہالت ، بیماریوں اور پسماندگی کا شکار ہیں۔ ان حقائق سے ظاہر ہے کہ گزشتہ پون صدی سے خطہ جنوبی ایشیا دیگر ترقی یافتہ اور چند ایشیائی ممالک سے بھی کافی حد تک انسانی ضروریات کی بہتر انداز سے پیداوار ساخت، جدت اور وافر مقدار میں فراہمی کی قلت سے کیوں دوچار ہے؟ جب مقبوضہ کشمیر کے ایک کروڑ اور چالیس لاکھ افراد کو عالمی ادارے اقوام متحدہ کے اہم فورم، سلامتی کونسل کی متعدد بار منظور کردہ قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت کے استعمال سے محروم رکھنے کا تسلسل ایک طویل عرصے سے جاری ہے تو اس حقیقت سے کون سا انصاف پسند اور غیر جانبدار ادارہ انکار و انحراف کر سکتا ہے کہ عالمی سطح کے انسانی حقوق کے تحفظ کے سب سے بڑے فورم کی قانونی حیثیت پر عملدرآمد سے انکار کرنے والے ایک ملک کے حکمرانوں کو اس ادارے میں بھلا شامل کیوں رکھا جا رہا ہے؟

اس لحاظ سے تو بھارت کے سیاسی قائدین کو اقوام متحدہ کے کسی بڑے اور ذیلی اداروں کے اجلاسوں میں بھی شرکت کی اجازت دینا سراسر غیر منصفانہ لگتا ہے۔ آخر اس ادارے کی قراردادوں کا مذاق اڑانے والے حکمرانوں کو کب تک اس قانون شکنی کے ارتکاب کی مناسب سزا دینے کی بجائے ناجائز رعایت دی جاتی رہے گی؟ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی سات لاکھ سے زائد مسلح افواج، اہل کشمیر پر تحریک آزادی کے مظاہروں اور ہڑتالوں کے احتجاج کے دوران بہت ظالمانہ ،جارحانہ اور جابرانہ انداز کا تشدد کرکے بلاکسی تفریق و تمیز ، خواتین ،بچوں اور بوڑھوں کے قتل و غارت اور انہیں شدید زخمی کرنے کے علاوہ،وہاں کے حریت پسندوں کی سیاسی قیادت کو گرفتار کرکے جیلوں میں ڈالنا بدترین قسم کی ریاستی دہشت گردی ہے!

مزید : رائے /کالم