ملک میں کسی مسلح تنظیم کو نہیں چلنے دینگے، بھارت نے کوئی حرکت کی تو منہ توڑ جواب ملے گالڑنا پڑا تو فوج اور عوام تیار ہیں ،انسانوں کی تقسیم اور نفرت کی سیاست پر یقین نہیں رکھیتے: عمرا ن خان

ملک میں کسی مسلح تنظیم کو نہیں چلنے دینگے، بھارت نے کوئی حرکت کی تو منہ توڑ ...

تھرپارکر (خصوصی نامہ نگار، مانیٹرنگ ڈیسک ،نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جب تک ہماری حکومت ہے ملک میں کسی عسکری جماعت کو نہیں چلنے دیں گے۔اگر ہمیں لڑنا پڑا تو ہماری فوج بھی تیار ہے اور عوام بھی، کوئی اس خوش فہمی میں نہ رہے کہ پاکستانیوں کا خون بہا کر الیکشن جیت لے گا بھارت نے کچھ کیا تو منہ توڑ جواب ملے گا ۔پاکستان میں تمام اقلیتیوں کے حقوق برابر رہیں گے، حکومت ملک میں ہندو برادری کے ساتھ کھڑی ہے اور زیادتی نہیں ہونے دیں گے۔انسانوں کو تقسیم کرکے ووٹ لینا آسان سیاست ہے، کراچی میں بھی نقرتیں پھلا کر ووٹ لیا گیا اگر ایسا نہ ہوتا تو کراچی دبئی کے برابرہوتا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو سندھ کے علاقے چھاچھرو کے عوام میں صحت کارڈز تقسیم کرنے کے بعد جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔جلسے سے وفاقی وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے بھی خطاب کیا ۔انہوں نے کہا کہ لیکشن کے بعدپاکستان میں پہلاجلسہ چھاچھرو میں کر رہا ہوں، الیکشن نہیں ہورہے اس کے باوجود یہاں جلسہ کر رہا ہوں، چھاچھرو میں جلسہ کیوں کر رہاہوں اس کی ایک وجہ یہ ہے، چھاچھروپاکستان کاسب سے پسماندہ علاقہ ہے، تھرپارکر کے75فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔13 بھوک کے سبب مر چکے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ اقتدار میں آنے کا مقصد پاکستان میں لوگوں کوغربت سے نکالنے کی کوشش ہے، اٹھارویں ترمیم کے بعد تقریباً سارے اختیارات صوبوں کے پاس ہیں لیکن ہیلتھ انشورنس کا اختیار وفاقی حکومت کے پاس ہے۔عمران خان نے کہا تھرپارکرمیں ایک لاکھ12ہزارگھرانوں کوہیلتھ انشورنس کارڈملیں گے، کوشش کریں گے سارے تھرپارکرکے لوگوں کوہیلتھ کارڈپہنچائیں، تھرپارکرمیں موبائل اسپتال شروع کریں گے اور 2 بڑی گاڑیاں ہوں گی، پورے تھرپارکر میں موبائل اسپتال کی گاڑیاں چلیں گی او 4 ایمبولینس بھی فراہم کریں گے۔انہوں نے کہا کہ تھرپارکرمیں کالاسونارکھاہواہے یعنی کوئلہ موجودہے، ہمارافیصلہ ہے کہ پسماندہ علاقوں سے جوبھی معدنیات نکلے گی پہلاحق علاقے کاہوگا، ہم نے فیصلہ کیا ہے پاکستان کی انشااللہ تمام پالیسیاں تبدیل کرینگے، ہم کوشش کریں گے سب سے پہلے پسماندہ علاقوں کو ترقہ دیں گے۔وزیراعظم نے تھرپارکر میں 100آراوپلانٹ فوری لگانے کااعلان کرتے ہوئے کہا اس کے بعدبھی اگرضرورت ہوئی تومزیدآراوپلانٹس لگائیں گے۔ ہم سندھ حکومت کو کہیں گے کہ اپنا فرض پورا کرے اور جو کچھ ہوسکا وہ وفاق بھی کرے گا کیوں کہ یہ علاقہ سب سے پیچھے رہ چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت مکمل طور پر ہندو مذہب کے لوگوں کے ساتھ ہے ہم ہندوں پر کسی قسم کا کوئی ظلم نہیں ہونے دیں گے۔پاکستان میں تمام اقلیتیوں کے حقوق برابر رہیں گے، انسانوں کو تقسیم کرکے ووٹ لینا آسان سیاست ہے، کراچی میں بھی نقرتیں پھلا کر ووٹ لیا گیا اگر ایسا نہ ہوتا تو کراچی دبئی کے برابرہوتا۔پاکستان میں کوئی پشتونوں کے نام پر تقسیم کرتا، کوئی بلوچوں کے نام پر، کوئی پنجابی اور کوئی سندھی کارڈ کھیل کرسیاست کرتے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ ہماری امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے، اپنے ملک کی حفاظت کیلئے آخری دم تک لڑیں گے، ہمارا ہیرو ٹیپوو سلطان ہے بہادر شاہ ظفر نہیں، کیوں کہ ٹیپو سلطان آخری دم تک لڑا۔اگر ہمیں لڑنا پڑا تو ہماری فوج بھی تیار ہے اور عوام بھی، کوئی اس خوش فہمی میں نہ رہے کہ پاکستانیوں کا خون بہا کر الیکشن جیت لے گا ہم جوابی کارروائی سے دریغ نہیں کریں گے۔عمران خان نے کہا کہ نریندر مودی کی سیاست انسانوں کو تقسیم کرنا اور نفرتیں پھیلانا ہے اس لیے پلوامہ کے بعد کشمیریوں کے ساتھ ظلم کیا اور مشتعل ہجوم نے مسلمانوں پر تشدد کیا، الیکشن میں کامیابی کے لیے نریندر مودی نے پاکستان کیخلاف جنگ کا ماحول بنایا، ہم نے بار بار واضح کیا کہ جنگ نہیں چاہتے ہم امن چاہتے ہیں اس لیے بھارتی پائلٹ کو رہا کیا، کسی کو کوئی غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ انسانوں کی تقسیم سے ووٹ لینا آسان سیاست ہے، کراچی میں اس لئے تباہی ہوئی کہ ایک آدمی نے اقتدار کیلئے نفرتیں پھیلائیں اور نفرتوں کی بنیاد پر ووٹ لیا، نفرت کی سیاست نہ ہوتی تو آج کراچی دبئی کا مقابلہ کرتا، اس قسم کی سیاست کی وجہ سے کراچی سے تاجر اپنا بزنس چھوڑ کر ملائیشیا، دبئی اور دیگر مقامات پر منتقل ہو گئے، یہ سب اس لئے ہوا کیونکہ ایک آدمی نے نفرت کی بنیاد پر سیاست کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں کسی نے پشتون کا نعرہ لگایا، اس کی منزل اقتدار تھی، کسی نے بلوچ کا نعرہ لگایا، اسی طرح بعض لوگوں نے ضرورت پڑنے پر پنجاب میں جاگ پنجابی جاگ کا نعرہ لگایا اور کون نہیں جانتا جب سندھ میں کرپشن میں جیل جانے کی نوبت آئی تو سندھ کارڈ کھیلا گیا

مزید : صفحہ اول /رائے