خواتین ارکان پارلیمنٹ نے نمایاں کارکردگی کا امتیاز برقرار رکھا

خواتین ارکان پارلیمنٹ نے نمایاں کارکردگی کا امتیاز برقرار رکھا

اسلام آباد (مانیٹر نگ ڈیسک)خواتین ارکان پارلیمان نے جاری پارلیمانی سال کے دوران بھی نمایاں کارکردگی کا امتیاز برقرار رکھا۔ پارلیمان میں صرف بیس فیصد نمائندگی رکھنے والی خواتین نے دونوں ایوانوں کا ایک تہائی ایجنڈا پیش کیا۔پیش کئے گئے ایجنڈا آئٹم کے علاوہ مفاد عامہ کی بحث میں بھی خواتین نے بھرپور حصہ لیا۔ پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے ایجنڈے پر شامل ہونے والے نجی قانونی مسودوں کا 53 فیصد خواتین نے پیش کیا۔ایک سو میں سے ستائیس قراردادیں، 108 میں سے 51 توجہ دلاؤ نوٹسز، ایک ہزار سات سو بہتر میں سے 561 سوالات بیس فیصد خواتین کی جانب سے پیش کی گئیں۔پارلیمانی قواعد میں ترامیم کی 40 فیصد تجاویز اور مفاد عامہ کے معاملات پر بحث کی 39 فیصد تحاریک یعنی 104 میں سے 41 تحاریک بھی انہیں خواتین نے جمع کرائیں۔پارلیمانی ایجنڈے کا 30 فیصد خواتین ارکان نے خود پیش کیا جبکہ تین فیصد ایجنڈا مرد ارکین کی شراکت کیساتھ پیش کیا گیا۔ موجودہ پارلیمنٹ میں خواتین کا تناسب بیس فیصد ہے جن میں 69 ارکان قومی اسمبلی جبکہ 20 سینیٹرز شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق اوسطاً ہر خاتون رکن قومی اسمبلی نے 8 جبکہ ہر مرد رکن قومی اسمبلی نے تین ایجنڈا آئٹم پیش کئے۔ اسی طرح سینیٹ میں ہر خاتون رکن نے سات جبکہ مرد رکن نے آٹھ ایجنڈا آئٹم پیش کئے۔تقریباً 62 فیصد خواتین پارلیمنٹرینز نے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں ہونے والی مباحث میں شرکت کی۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ کی ویب سائٹس پر دستیاب حاضری کے مطابق خواتین اراکین کی حاضری بھی مرد اراکین سے زیادہ رہی، تاہم خواتین کی نمایاں کارکردگی کے باوجود ان کی جانب سے پیش کیا گیا بیشتر ایجنڈا ایوان میں زیر غور نہ آ سکا۔

خواتین ارکان پارلیمینٹ

مزید : صفحہ اول /رائے