معروف گلوکار پٹھانے خان کی 19ویں برسی آج منائی جائیگی

معروف گلوکار پٹھانے خان کی 19ویں برسی آج منائی جائیگی

لاہور(فلم رپورٹر)صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی کے حامل ملک کے معروف گلوکار پٹھانے خان کی 19ویں برسی آج منائی جائے گی۔پٹھانے خان سنہ 1926ء کو تمبو والی بستی کوٹ ادو میں پیدا ہوئے اور انکا اصل نام غلام محمد تھا ۔انہیں غزل، کافی، لوک گیتوں پر بے حد کمال حاصل تھا، پٹھانے خان نے کئی دہائیوں تک اپنی سریلی آواز کا جادو جگایا اور خواجہ غلام فرید ، بابا بلھے شاہ ، مہر علی شاہ سمیت کئی شاعروں کے عارفانہ کلام کو گایا، جس پر حکومت نے اس نامور گلوکار کو 1979ء میں صدارتی ایوارڈ سے بھی نوازا۔پٹھانے خان نے 79 مختلف ایوارڈز حاصل کیے اور سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو بھی لوک گلوکار کی دل میں اترنے والی آواز کے معترف تھے جن کے فن کلام کو ان کے دیرینہ دوست اور بیٹے زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ پٹھانے خان کی آواز میں درد کے ساتھ بے پناہ کشش بھی تھی اور اسی لیے ان کا عارفانہ کلام سنتے ہی سامعین پر رقت طاری ہو جاتی ہے۔ان کے مشہور صوفیانہ کلام میں میڈا عشق وی توں میڈا یار وی توں، الف اللہ چنبے دی بوٹی مرشد من وچ لائی ہو ان کی دنیا بھر میں شہرت کا باعث بنا۔اس کے علاوہ جندڑی لئی تاں یار سجن، کدی موڑ مہاراں تے ول آوطناں، آ مل آج کل سوہنا سائیں، وجے اللہ والی تار، کیا حال سناواں، میرا رنجھنا میں کوئی ہور، اور دیگر ان کے مشہور گیتوں میں شامل ہیں۔پٹھانے خان 74سال کی عمر میں مختصر علالت کے بعد 9مارچ 2000میں انتقال کرگئے لیکن ان کے فن کے سحر میں مبتلا مداحوں نے کوٹ ادو کے تاریخی بازار کو ہی ان کے نام سے منسوب کر دیا۔

میری ذاتی رائے میں ایسے فنکار رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔مہدی حسن اور ریشماں نے اپنے عروج کے دور میں بہت دولت کمائی اس کے با وجود آخری دنوں میں ان کے پاس کچھ نہیں تھا ان دونوں لیجنڈ گائیکوں کو حکومت اور دیگر پرستاروں نے امداد کی مد میں کروڑوں روپیہ دیا الماس بوبی کے برعکس کچھ شوبز والوں کا کہنا یہ بھی ہے کہ پانچوں اگلیاں برابر نہیں ہوتیں کچھ فنکار ایسے بھی ہیں جو حقیقی معنوں میں حکومتی امداد کے مستحق ہیں۔کامیڈین نثار بٹ کہتے ہیں کہ حکومتی امداد صرف ان لوگوں کو ملتی ہے جو اس کے حقدار نہیں ہیں جبکہ حقدار اس امداد سے محروم ہیں ۔ایک پروموٹر نے اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی صورت میں بتایا کہ گلوکار انور فیع کسی بھی صورت حکومتی وظیفہ کے حقدار نہیں ان کے پاس گھر اور دولت سب کچھ ہے لیکن پھر بھی وہ 25ہزار کے وظیفہ کے حصول کے لئے کوشاں ہیں ۔ان کے گھر میں دو دو گاڑیاں موجود ہیں۔

مزید : کلچر /رائے