چترال ہسپتال ساڑھے چار لاکھ آبادی کو طبی سہولیات فراہم کررہا ہے

چترال ہسپتال ساڑھے چار لاکھ آبادی کو طبی سہولیات فراہم کررہا ہے

چترال ( نمائندہ پاکستان) ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چترال جو ضلع کی ساڑھے چار لاکھ آبادی کو صحت کی سہولیات فراہم کرتا ہے ۔ اسے گونا گوں مسائل کا سامنا ہے ۔ جس میں 125 خالی آسامیاں پُر کرنے میں مسلسل تاخیر صحت کی سہولتوں کی فراہمی میں کوتاہی کا سب سے بڑا سبب بن رہا ہے ۔ 14850مربع کلو میٹر ایریے میں پھیلی چترال کی آبادی کے ہر ایک مریض کی یہ کوشش ہوتی ہے ۔ کہ اُس کا علاج مقامی آر ایچ سیز اور ٹی ایچ کیو کی بجائے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں کی جائے ۔ یوں چترال کے طول و عرض سے مریض اس کا رخ کرتے ہیں ۔ جس کی وجہ سے ہسپتال پر مریضوں کا بہت زیادہ دباؤ ہے ۔ 1983میں یہ ہسپتال چترال کی محدود آبادی کیلئے تعمیر کیا گیا تھا ۔ لیکن آج روز بروز بڑھتی ہوئی آبادی کے باوجود اس کی عمارت میں بہتری کی کوشش کی گئی ۔ اور نہ ہی نئی تعمیرات کرکے مریضوں کو سہو لت دینے کا سوچا گیا ۔ ہسپتال کے فرشوں کی خستہ حالی ، شکستہ و ریختہ واش رومز اور چھتوں پر زنگ آلود ٹین کی چادر یں اس کی بے بسی اور محکمہ ہیلتھ کے اعلی حکام اور حکومت کی بے حسی اور صحت کے حوالے سے ان کے دعوں کی قلعی کھولنے کیلئے کافی ہے ۔ 2015کے شدید زلزلے میں بلڈنگ کو جو نقصان پہنچا ۔ اُس کی طرف آج تک کسی سیاسی نمایندے ، ممبر ان سمبلی یا محکمہ سی اینڈ ڈبلیو نے توجہ نہیں دی ۔ جس کی وجہ سے سالانہ لاکھوں مریضوں کا علاج کر نے والا یہ ہسپتال خود اپنے معالج کی توجہ اور علاج کا انتظار کر رہا ہے ۔ دوسری طرف ہسپتال میں 72ڈاکٹرز کی کمی سب سے بڑا مسئلہ ہے ۔ جن میں چیف میڈیکل آفیسر گریڈ 20 کاایک ،پرنسپل میڈیکل آفیسرز گریڈ 19 کے 12 ، سنئیر ڈسٹرکٹ سپشلسٹ گریڈ 19کے ایک ، انستھیسسٹ گریڈ 19 کے ایک ، کارڈیالوجسٹ 2، چلڈرن ا سپشلسٹ 2، چیسٹ اسپشلسٹ 1،ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ 2،ڈسٹرکٹ اسپشلسٹ گیسٹرو1،ڈسٹرکٹ اسپشلسٹ نفسیات 1، ڈسٹرکٹ اسپشلسٹ یورالوجی 1،چیف ڈسٹرکٹ اسپشلسٹ آئی 1،گائنا کالوجسٹ 1، نیفرالوجسٹ 1، آرتھوپیڈک سرجن 2، فزیو تھراپسٹ1 ، ریڈیالوجسٹ 1، اسکن اسپشلسٹ 1، سرجیکل اسپشلسٹ 1، ڈینٹل سرجن 1،سنئیر میڈیکل آفیسر 20، فیمل ڈنٹل سرجن 1اور میڈیکل آفیسر ز کی 21پوسٹ سمیت مجموعی طور پر ڈاکٹروں کی 72 آسامیاں اب بھی خالی ہیں ۔ تاہم ہسپتال کے 507منظور شدہ آسامیوں میں سے 382اسٹاف اپنی ملازمتوں پر موجود ہیں ۔ ہسپتال میں 2009میں خریدے گئے ڈائیلائسس کے پرانے مشین موجود ہیں ،اور مریض چار سے پانچ ہزار روپے ڈائیلاسس کٹ کی خریداری اپنی جیب سے کرنے پر مجبور ہیں ۔ جبکہ یہ کٹ دیگر ہسپتالوں میں مفت مہیا کی جاتی ہے ۔ اسی طرح ایمرجنسی میں حکومت کے دعوے کے برعکس فری ادویات کی فراہمی بھی قصہ پارینہ بن چکا ہے ۔ اور مریض ایمر جنسی ادویات بھی بازار سے خریدتے ہیں۔ہسپتال میں کارڈیالوجی یونٹ اور تمام متعلقہ ایکویپمنٹ تو موجود ہیں ۔ لیکن ڈاکٹر نہ ہونے کی بنا پر دل کے مریضوں کو بھی ایمرجنسی میں داخل کیا جاتا ہے ۔ یوں ہارڈ سپشلسٹ نہ ہونے کی بنا پر اکثر دل کے معمولی نوعیت کے مریضوں کو بھی پشاور اور دوسرے شہروں کے ہسپتالوں کو ریفر کیا جاتا ہے ۔ اور غریب لوگوں پر اضافی بوجھ پڑتا ہے ۔ ہسپتال میں سیاسی بنیادوں پر بھرتی ہونے والے ملازمین نے اس کو مزید مشکلات سے دوچار کردیا ہے ۔ اور چترال شہر سے دور کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے ملازمین نے پرانے پرائیویٹ رومز سمیت کئی کمروں اور کواٹرز پر قبضہ کر لیا ہے ۔ بعض ملازمین چترال میں اپنے گھرکرائے پر دے کر خود ہسپتال کے بنگلوں اور کوارٹر میں رہ رہے ہیں ، یوں ہسپتال بعض ملازمین کے نرغے میں ہے ۔ اور باہر سے آنے والے ڈاکٹرز اور دیگر ملازمین کی راہ میں کئی مسائل پیدا کرکے ان کو دلبرداشتہ کیا جاتا ہے ۔ جس کی مثال مبینہ طور پر معروف چترالی ہارٹ اسپشلسٹ کے ساتھ کئے گئے سلوک کی صورت میں موجود ہے ۔ ہسپتال کے کچروں کو سائنسی بنیادوں پر ٹھکانے لگانے کیلئے ایک معروف غیر سرکاری ادارے نے انسنیریٹرمشین لگائی ہے ۔ لیکن اس کو مستقل بنیادوں پر چلانے کیلئے فیول کے اخراجات برداشت کرنے کا مسئلہ ہے ۔ ہسپتال کے حوالے سے ایم ایس ڈی ایچ کیو ہسپتال چترال ڈاکٹر اسرار اللہ سے رابطہ کیا گیا ۔ تو انہوں نے کہا ۔ کہ ہسپتال اسٹاف کی کمی اور کئی دیگر مسائل کے باوجود اپنی خدمات بہتر طریقے سے انجام دے رہا ہے ۔ تاہم ہسپتال کی حالت پر حکومتی توجہ کی اشد ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ڈی ایچ کیو ہسپتال کیٹیگری بی ہسپتال ہے ۔ اور ہسپتال میں نئی تعمیرات کیلئے جگہ موجود ہیں ۔ جبکہ پرانی بلڈنگ کو ڈبل سٹوری کرکے وارڈ اور کمروں کی کمی پوری کی جاسکتی ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ اس سلسلے میں سی اینڈ ڈبلیو کی توجہ از بس ضروری ہے ۔ تاکہ ہسپتال کے متاثرہ فرش اور دیواروں پر ٹائل لگا کر اسے خوبصورت بنانے کے ساتھ ساتھ صفائی کیلئے اسے بہتر بنایا جا سکے ۔ اور سالانہ اسے رنگ و روغن کرنے کی ضرورت نہ پڑے ۔ ایم ایس نے کہا ۔ کہ ہسپتال میں بعض میجر اپریشن کئے جاتے ہیں ۔ اور ای سی جی ، الٹراساونڈ ، ایکسرے پلانٹ اور لیبارٹری کی سہولت موجود ہے ۔ تاہم فنڈ کی کمی کے باعث ادویات کی شارٹیج ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ہسپتال کیلئے 14ایمبولنس کی ڈیمانڈ ہے ۔ جبکہ پانچ ایمبولینس موجود ہیں ۔ جنہیں مریضوں کی نقل وحمل میں استعمال کیا جاتا ہے ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر /رائے