وفاقی ملازمین کے خلاف صوبوں کو اینٹی کرپشن کی کارروائی نہ کرنے کا حکم

وفاقی ملازمین کے خلاف صوبوں کو اینٹی کرپشن کی کارروائی نہ کرنے کا حکم
وفاقی ملازمین کے خلاف صوبوں کو اینٹی کرپشن کی کارروائی نہ کرنے کا حکم

  


کراچی (ویب ڈیسک)وفاقی حکومت نے صوبوں کے انسدادِ بدعنوانی (اینٹی کرپشن) اداروں بالخصوص پنجاب کے سرگرم اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ (اے سی ای پی) کو صوبوں میں تعینات وفاقی افسران بشمول پی اے ایس / ڈی ایم جی گروپ اور پولیس سروس آف پاکستان گروپ کے افسران کیخلاف کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات کے تحت کارروائی سے روک دیا ہے۔

روزنامہ جنگ کے مطابق 7 مارچ کو پنجاب سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ (ایس اینڈ جی اے ڈی) نے وفاقی حکومت کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے تمام صوبائی انتظامی سیکریٹریز، کمشنرز، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ اور تمام ماتحت محکموں کو ہدایت کی ہے کہ اینٹی کرپشن کے صوبائی محکمے کے پاس ایسے وفاقی سرکاری ملازمین کیخلاف کارروائی کے اختیارات نہیں, چاہے ان کی تعیناتی صوبائی حکومت کے ماتحت ہی کیوں نہ کی گئی ہو۔ اگرچہ وفاقی حکومت کی جانب سے 7 فروری 2019ءکو اس موضوع پر جاری کردہ آفس میمو کا اطلاق تمام صوبوں پر ہوتا ہے لیکن پنجاب کے معاملے میں یہ آرڈر اے سی ای پی کی کرپشن کیخلاف مہم کو زبردست نقصان پہنچائے گا۔

وزیراعظم عمران خان نے چند ماہ قبل اچھی ساکھ کے حامل پی ایس پی افسر حسین اصغر کو اے سی ای پنجاب کا سربراہ مقرر کیا تھا جن کی سربراہی میں صوبائی اینٹی کرپشن محکمے نے صوبے میں کرپشن کیخلاف بھرپور مہم شروع کی۔ تاہم، اس مہم کی وجہ سے کئی با اثر اور طاقتور افراد بشمول حکمران جماعت پی ٹی آئی کے سیاست دان اور بیوروکریسی کے افسران پریشان ہوگئے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ صوبائی اینٹی کرپشن محکموں کے اختیارات پنجاب کے طاقتور حلقوں کے دباﺅ کی وجہ سے کم کیے گئے ہیں۔ 7 مارچ کو ایس اینڈ جی اے ڈی نے ”وفاقی حکومت کے مالزین کیخلاف انضباطی اور دیگر کاررائیوں کے متعلق ہدایات نامہ“ کے عنوان سے ایک خط جاری کیا جس میں 7 فروری 2019ءکو جاری کیے جانے والے آفس میمو نمبر 589/2018 لاءون کا حوالہ دیا گیا ہے جو وزارت قانون و انصاف حکومت پاکستان کی جانب سے مذکورہ بالا عنوان کے بارے میں جاری کیا تھا۔ خط میں مزید کہا گیا ہے کہ وزارت قانون و انصاف کی جانب سے وفاقی حکومت کے ان ملازمین کے متعلق ہدایات جاری کی گئی ہیں جو وفاقی حکومتوں میں کام کر رہے ہیں۔ وفاقی حکومت کے ایسے ملازمین جن کی خدمات صوبائی حکومتوں کو دی گئی ہیں ان کے متعلق طے شدہ اصول یہ ہے کہ ان کیخلاف انضباطی یا کسی اور طرح کی کارروائی صرف وفاقی حکومت ہی کر سکتی ہے۔ وفاقی سرکاری ملازمین کے تمام معاملات اسپیشل جج سینٹرل دیکھتے ہیں اور قانوناً تحقیقات ایف آئی اے کا کام ہے۔

متعلقہ قانون میں ”موزوں حکومت“ کے حوالے سے سپریم کورٹ نے 1993ءایس سی ایم آر 61 میں تشریح کر دی ہے جس میں قرار دیا گیا ہے کہ ایسے ملازمین کیخلاف کارروائی کی اجازت بھی وفاقی حکومت دے گی۔ لہٰذا، صوبائی اینٹی کرپشن محکموں کو وفاق کے سول ملازمین کیخلاف کارروائی کا اختیار نہیں چاہے یہ افسران صوبائی حکومت کے ماتحت ہی کام کیوں نہ کر رہے ہوں۔ خط میں اس ہدایت پر عمل کیلئے تمام متعلقہ محکموں کو مطلع کرنے کیلئے بھی کہا گیا ہے۔

وفاقی حکومت کے ذرائع کا اصرار ہے کہ یہ آفس میمو وفاقی ملازمین کو صوبائی اینٹی کرپشن محکموں کی جانب سے غیر ضروری طور پر ہراساں کیے جانے سے بچانے کیلئے جاری کیا گیا ہے۔ ان ذرائع کا کہنا ہے کہ بیوروکریسی کو پہلے ہی ہراساں کیا جا رہا ہے اور نیب ان کے پیچھے پڑا ہوا ہے جس کی وجہ سے سرکاری ملازمین فیصلے کرنے سے ہچکچا رہے ہیں۔ پنجاب اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے ایک ذریعے نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نیب کے غلط اقدامات کو زیر بحث لانے کی بجائے وفاقی حکومت نے وفاقی سرکاری ملازمین کی کرپشن روکنے اور ان کی جانب سے اختیارات کے ناجائز استعمال کو روکنے کیلئے صوبائی اینٹی کرپشن محکمے کے اختیارات کم کر دیے ہیں، یہ افسران صوبے میں سینئر عہدوں پر براجمان ہیں۔ ذریعے کا کہنا تھا کہ صوبے میں کرپشن کے زیادہ تر معاملات وفاقی حکومت کے ملازمین کے ہیں۔ ذریعے نے کہا کہ نیا حکم نامہ صوبے میں وزیراعظم عمران خان کے حکم پر شروع کی جانے والی اینٹی کرپشن مہم کو نقصان پہنچائے گا۔

مزید : علاقائی /سندھ /کراچی