اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 104

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 104
اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 104

  


لاہور کے حضرت شاہ بلاول قادریؒ کا لنگر بڑا وسیع تھا۔ دونوں وقت لوگوں کو کھانا ملتا تھا۔ مطبخ میں ہر قسم کا کھانا پکانے کا سامان موجود رہتا تھا۔

ایک دفعہ ایک چور رات کے وقت سامان خوراک چرانے کے لیے باورچی خانہ میں گھس تیا تو اندھا ہوگیا اور ایک کونے میں چھپ رہا۔ جب دن ہوا تو حضرت شاہ بلاولؒ نے داروغہ مطبح کو بلایا اور کہا ’’باورچی خانہ میں ایک اندھا بیٹھا ہے اور وہ رات سے بھوکا ہے، اس کو کھانا دو۔‘‘

داروغہ نے باورچی خانے میں جاکر ایک کونے میں اندھے آدمی کو بیٹھے دیکھا۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ یہ چور ہے۔ اس نے کھانا پیش کیا مگر اس نے کھانے سے انکار کردیا اور کہا کہ مجھے حضرت صاحب کے پاس لے چلو۔

چنانچہ جب پیش کیا تو اس نے معافی مانگی اور سر قدموں پر رکھ دیا۔ حلقہ ارادت میں داخل ہوا اور آپ کی دعا سے اس کی بینائی بھی واپس آگئی۔

***

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 103 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

حضرت جھولن شاہ المشہور گھوڑے شاہؒ حضرت عثمان جھولہ بخاریؒ کے پوتے تھے۔ ولایت مادر زاد ان کو حاصل تھی۔ چھوٹی عمر میں ہی حضرت کو مٹی کے گھوڑوں سے بڑی الفٹ تھی۔ جو شخص اہل حاجت مٹی کا گھوڑا لے کر ان کی خدمت میں آتا، فوراً مراد پاتا۔

جب یہ خبر حضرت کے والد صاحب کو ہوئی تو وہ انکشاف اور اظہار کرامت سے بہت ناراض ہوئے اور فرمایا کہ اگر تو ایس اہے، خداوند تعالیٰ کے راز کو ظاہر کرتا ہے تو تُو ابھی مر جائے۔ حضرت جھولن شاہ اسی وقت وفات پاگئے۔

اس روز سے آج تک یہ کرامت حضرت کی ظاہر ہے کہ جو اہل حاجت مزار پر آکر مٹی کا گھوڑا چڑھائے، اپنی مراد پائے۔ لاکھوں گھوڑے مٹی کے حضرت کے مزار پر رکھے ہیں۔

***

حضرت شیخ ابو بکر کتانیؒ نے اوائل عمر ہی میں والدہ کی اجازت سے حج کا قصد کیا لیکن دوران سفر آپ کو غسل کی حاجت پیش آگئی۔ چنانچہ بیداری کے بعد یہ خیال آیا کہ مَیں والدہ سے کسی عہد وپیمان کے بغیر ہی گھر سے نکل کھڑا ہوا ہوں۔

اس خیال کے آتے ہی جب آپ گھر واپس لوٹ کر آئے تو والدہ کو بہت ہی غمزدہ شکل میں دروازے پر کھڑے پایا۔ آپ نے والدہ سے کہا ’’کیا آپ نے مجھے سفر کی اجازت نہیں دی تھی۔‘‘

انہوں نے فرمایا’’اجازت تو یقیناًدے دی تھی لیکن تمہارے بغیر گھر میں کسی طرح دل نہیں لگتا تھا اور یہ عہد کرلیا تھا کہ تمہاری واپسی تک دروازے پر ہی تمہارا انتظار کروں گی۔ یہ سن کر آپ نے عزم سفر ترک کردیا اور والدہ کی حیات تک ان کی خدمت کرتے رہے۔

***

ایک شیریں سخن بوڑھے نے حضرت احمد مسروقؒ سے کہا کہ اپنا خیال ظاہر فرمائیے۔

آپ کو خیال ہوا کہ شاید یہ یہودی ہے۔ اس لئے آپ نے فرمایا ’’میرے خیال میں تو تم یہودی معلوم ہوتے ہو؟ وہ آپ کی اس کرامت سے متاثر ہوکر مشرف بہ اسلام ہوگیا اور کہنے لگا کہ میں اسلام سے زیادہ صداقت آمیز کسی مذہب کو نہیں پاتا۔

***

ایک مرتبہ حضرت بابا فرید الدین گنج شکرؒ کا لباس بوسیدہ ہوگیا اور جگہ جگہ سے پھٹ بھی گیا۔ ایک شخص نے نیا کرتا پیش کیا۔ آپ نے وہ کرتا پہن کر فوراً ہی اتار ڈالا۔ اور شیخ نجیب الدین متوکلؒ کو دے کر ارشاد فرمایا کہ جو ذوق مجھ کو اس پرانے کرتے میں حاصل تھا، اس کرتے میں نہیں۔(جاری ہے)

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 105 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اللہ والوں کے قصے