اب روبوٹس استعمال کرکے بچے پیدا کئے جاسکیں گے

اب روبوٹس استعمال کرکے بچے پیدا کئے جاسکیں گے
اب روبوٹس استعمال کرکے بچے پیدا کئے جاسکیں گے

  


نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) ٹیکنالوجی کی ترقی کی مہربانی، کہ آج روبوٹس متعدد شعبہ ہائے زندگی میں انسانوں کی جگہ چکے ہیں اور اب ایک ڈاکٹر نے اس حوالے سے مزید حیران کن انکشاف کر دیا ہے۔ میل آن لائن کے لیے لکھے گئے آرٹیکل میں ڈاکٹر سائمن فیشل کا کہنا ہے کہ ”وہ وقت دور نہیں جب روبوٹس کو استعمال کرتے ہوئے بچے پیدا کیے جا سکیں گے۔ یہ روبوٹس ڈاکٹروں کا متبادل قرار پائیں گے اور اولاد کے خواہش مند لوگ ان سے ’آئی وی ایف‘ (مصنوعی طریقہ افزائش)کروائیں گے۔ یہ روبوٹس مردوں کے سپرمز اور خواتین کے بیضے لے کر لیبارٹری میں ایمبریو بنایا کریں گے اور پھر آپریشن کے ذریعے اس ایمبریو کو خاتون کے جسم میں منتقل کریں گے۔ اس وقت یہ تمام پروسیچر انسان ڈاکٹر سرانجام دے رہے ہیں لیکن وہ وقت دور نہیں جب یہ کام روبوٹس کر رہے ہوں گے۔“

ڈاکٹر سائمن مزید لکھتے ہیں کہ ”یہ وہ دور ہو گا جب مردوخواتین جنسی عمل کو محض تفریح طبع کی چیز خیال کریں گے اور بچوں کا حصول ٹیکنالوجی کے ذریعے ہوا کرے گا۔ آج لوگ میری ان باتوں کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں لیکن میں لوگوں کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ جب 1978ءمیں میرے کولیگز باب ایڈورڈز اور پیٹرک سٹیپٹوئی نے آئی وی ایف کا طریقہ ایجاد کیا تو لوگوں نے ان کے اس کام کو اس سے بھی زیادہ شک کی نگاہ سے دیکھا تھا بلکہ ان کا تمسخر اڑایا تھا، لیکن تب سے آج تک دنیا میں 80لاکھ سے زائد بچے آئی وی ایف کے ذریعے پیدا ہو چکے ہیں اور آج دنیا بھر میں آئی وی ایف معمول کی چیز بن چکا ہے۔ آج آئی وی ایف محض بانجھ پن کے مریضوں کو اولاد دینے کا طریقہ نہیں رہا بلکہ یہ ٹیکنالوجیز کا ایک جال بن چکا ہے۔ اس کے ذریعے جینز ایڈٹ کیے جا رہے ہیں اور ایسے جینز ہٹائے جا رہے ہیں جو بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔ “

مزید : ڈیلی بائیٹس