شلوار قمیض کا مذاق اُڑایا؟ پاکستانی اداکارہ زارا نور عباس پر ٹوٹ پڑے

شلوار قمیض کا مذاق اُڑایا؟ پاکستانی اداکارہ زارا نور عباس پر ٹوٹ پڑے
شلوار قمیض کا مذاق اُڑایا؟ پاکستانی اداکارہ زارا نور عباس پر ٹوٹ پڑے

  


کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) اداکارائیں بسااوقات سوشل میڈیا پر کچھ ایسا پوسٹ کر دیتی ہیں کہ ایک طوفان سا آ جاتا ہے اور لوگ ان کو ہدف تنقید بنا لیتے ہیں۔ ایسا ہی کچھ اداکارہ زارانور عباس سے سرزد ہو گیا جنہوں نے لاشعوری طور پرپاکستانی عورت کے روایتی مشرقی لباس شلوار قمیض کو برا بھلا کہہ دیا اور انٹرنیٹ صارفین ان پر پل پڑے۔ ویب سائٹ ’پڑھ لو‘ کے مطابق زارا نور نے اپنے انسٹاگرام پر اپنی مغربی طرز کے لباس میں بنائی گئی تصویر شیئر کی اور اس کے ساتھ طویل پوسٹ میں لکھا کہ ”جب اس فوٹوشوٹ کی تصاویر میرے سامنے آئیں تو فوراً میرے ذہن میں خیال آیا کہ میں ویسی نہیں ہوں جیسی میں عام طور پر دکھائی دیتی ہوں۔ میں عام طور پر کسی مظلوم کنواری لڑکی جیسا لباس پہنتی ہوں ۔ عام طور پر میں ایک کمزور انسان جیسا لباس پہنتی ہوں جو اپنے حق میں آواز نہیں اٹھا سکتی، جو ایک گھریلو عورت ہے اور اپنے محبوب کے ہاتھوں اکثر پٹتی رہتی ہے یا پھر اپنے معذور بھائی کا پیٹ بھرنے کے لیے شہر میں چکر لگاتی پھر رہی ہے۔ اس فوٹوشوٹ کے ذریعے میں نے اپنی شخصیت کا مختلف پہلو دیکھا کیونکہ ان تصاویر میں میں ویسی نظر آئی جیسی میں حقیقت میں ہوں۔وہ عورت جس پر مجھے اعتماد ہے، جو مضبوط اور پراعتماد ہے اور اپنی اہمیت جانتی ہے۔ جو اپنی ذات سے محبت کرتی ہے۔ ان تصاویر میں میں نے دیکھا کہ میں وہ عورت ہوں جیسی عورت بننے کی تعلیم میرے ماں باپ نے مجھے دی اور میرا شوہر مجھ میں جس عورت کو دیکھتا ہے۔ ان تصاویر میں وہ عورت تھی جسے میں بھول چکی تھی۔ جعفر، امل، بریان، ندا اور مائدہ کا شکریہ جنہوں نے اس فوٹوشوٹ کو ممکن بنایا جس کی وجہ سے بہت عرصے بعد میری خود سے ملاقات ہوئی۔“

زارا نور عباس کے یہ تحریر پوسٹ کرنے کی دیر تھی کہ لوگوں نے ان کی طرف سے بین السطور شلوار قمیض کو کمزور اور مارکھانے والی خواتین کا لباس قرار دیئے جانے پر ان کو ہدف تنقید بنانا شروع کر دیا۔

ایک شخص نے لکھا کہ ”کیا آپ واقعی سمجھتی ہیں کہ مضبوط خواتین کسی ایک مخصوص انداز کا لباس پہنتی ہیں؟کمزور خواتین کے جیسا لباس پہننے سے آپ کا کیا مطلب ہے؟ یا مظلوم کنواری لڑکیوں جیسا لباس پہننے سے آپ کا کیا مطلب ہے؟ ہر طرح کا لباس پہننے والی خواتین مضبوط اور بااختیار ہو سکتی ہیں۔ بااختیار خواتین میں جو ایک قدر مشترک ہے وہ ان کی مضبوط شخصیت ہے، ان کا لباس پہننے کا انداز نہیں۔“

ایک لڑکی نے لکھا کہ ”میں آپ کو اندر اور باہر سے خوبصورت انسان سمجھتی تھی لیکن معذرت کے ساتھ تمہیں کسی کو بھی اس طرح کی بات کہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔“

ایک اور صارف نے لکھا کہ ”تمہیں یہ کس نے بتایا ہے کہ مشرقی لباس پہننے سے خواتین کمزور ہوجاتی ہیں۔ لباس کا عورت کی بااعتمادی اور شخصیت سے کوئی لینا دینا نہیں۔ اپنے احساس کمتری پر قابو پائیے۔“

مزید : تفریح